Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / فضیلت و مناسک حج

فضیلت و مناسک حج

پروفیسر محمد نواز ظفر
حج، اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے جو ۹ ہجری میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا۔ حج بیت اللہ ہر اس صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے جو عاقل، بالغ ہو اور حج کیلئے آمدو رفت کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً
’’اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور جو (اس کا) منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے،، (سورۃ اٰل عمران،۳:۹۷)
حقیقتِ کعبہ اور حکمتِ طواف: بیت المقدس کے رہنے والے ایک شخص نے امام زین العابدین سے طواف کعبہ کے دوران کعبہ کی حقیقت اور اس کے طواف کی حکمت کے بارے سوال پوچھنا چاہا تو آپ نے طواف کے بعد حطیم میں میزابِ رحمت کے نیچے اسے اپنے پاس بٹھا کر ارشاد فرمایا : ’’سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے نورانی فرشتوں سے کائنات نور آباد تھی جو فرمانبردار اور عبادت گزار مخلوق ہے۔ جن کے بارے میں قرآن حکیم نے فرمایا : ’’وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام انجام دیتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے،،(التحریم۶۶:۶)
اللہ رب العزت نے جب ملائکہ سے فرمایا : ’’بے شک میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں،، (البقرۃ،۲:۳۰) توفرشتے عرض کرنے لگے : ’’اے باری تعالیٰ! کیا تو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خون ریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں،،(البقرۃ،۲:۳۰) یہ بات ان کے منہ سے نکل گئی مگر انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ’’عرشِ علا‘‘ کے گرد طواف کرنے لگے۔ ان کی زبان پر ایک ہی دعا تھی کہ تو پاک ہے ہماری خطا معاف فرما دے۔معبودِ برحق کو ان کی یہ ادا پسند آئی۔ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازتے ہوئے عرش کی سیدھ میں نیچے ساتویں آسمان پر ایک گھر پیدا فرمایا اور فرشتوں کو حکم فرمایا کہ وہ اس کا طواف کریں تو ان کی خطا معاف کر دی جائے گی۔ اس گھر کا نام ’’بیت المعمور‘‘ رکھا گیا یعنی ایسا گھر جو فرشتوں سے ہروقت بھرا رہتا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے بیت المعمور کے بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’وہ آسمان میں ایک مسجد ہے۔ اس کی حرمت و عزت آسمانوں میں اسی طرح ہے جس طرح بیت اللہ کی حرمت و عزت زمین پر ہے۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں نماز کے لیے آتے ہیں۔ جو ایک بار آ جائیں پھر انہیں دوبارہ آنا نصیب نہیں ہوتا‘‘(البدایۃ والنھایۃ )
عرش الٰہی اور بیت المعمور کا طواف ایک منفرد عبادت تھی، اس لیے قدرت کو منظور ہوا کہ زمین پر بھی ایک ایسا ہی گھر بنایا جائے جس کو اللہ کا گھر ہونے کا شرف حاصل ہو اور وہ زمین پر پہلا گھر ہو جسے عبادت کے لیے بنایا جائے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا : ’’میرے لیے زمین پر بھی ایک گھر بناؤ تاکہ جب میں اولادِ آدم میں سے کسی سے ناراض ہو جاؤں تو وہ اس کی پناہ لے سکے اور جس طرح تم نے میرے گھر کا طواف کیا تھا، وہ اس کا طواف کر سکے۔ تب میں اس سے راضی ہو جاؤں گا جس طرح تم سے راضی ہوا تھا‘‘ (تاریخ الحرمین )
چنانچہ فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور ’’البیت المعمور،، کی سیدھ میں زمین پر ’’بیت اللہ‘‘ تعمیر کیا۔فرشتوں کا معمول تھا کہ وہ ’’البیت المعمور‘‘ کے طواف سے فارغ ہو کر ستر ہزار کی تعداد میں کعبۃ اللہ کی زیارت کے لیے آتے اور اس کا طواف کرتے۔ انہیں اس بیت اللہ کے طواف کی حکمت یہ بیان کی گئی کہ جب انسان زمین پر آباد ہوں گے اور گناہ کریں گے تو یہ کعبہ ان کی بخشش کا سبب بنے گا۔ جو گنہگار بھی آ کر کعبہ کا طواف کرے گا اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا جس طرح فرشتوں سے راضی ہوا تھا۔
گویا رحمت خداوندی نے انسانوں کے لیے ان کی پیدائش سے بھی پہلے گناہوں کی بخشش کا سامان پیدا فرمایا۔ جس طرح انسان کی پیدائش سے پہلے اس کی ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی شکل میں مادی خوراک کا پہلے ہی انتظام فرما دیتا ہے۔ اسی طرح کعبہ معظمہ کی شکل میں انسان کی روحانی خوراک اور گناہوں کی مغفرت کا انتظام فرما دیا۔
احادیث کی روشنی میں حج کی فضیلت
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور جماع و فحش باتوں سے اجتناب کیا اور نافرمانی یا گناہ کا ارتکاب نہ کیا تو حج کرکے اس دن کی طرح گناہوں سے پاک گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا‘‘ ۔ (البخاری)
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص حج پر جانے کے خرچہ اور بیت اللہ تک پہنچانے والی سواری کا مالک ہو اور حج ادا نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا‘‘۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو کوئی ظاہری ضرورت یا ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری حج پر جانے سے رکاوٹ نہ بنے، پھر وہ حج کئے بغیر مر جائے تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کی جماعت ہیں۔ اگر یہ لوگ اللہ سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر اللہ سے مغفرت مانگیں تو وہ انہیں معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (المشکٰوۃ۔ کتاب المناسک)
اعلانِ حج: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ رب العزت نے حکم فرمایا۔’’اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہوجائیں گے وہ دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اللہ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اللہ کے نام کا ذکر بھی کریں‘‘۔ (الحج،۲۲:۲۷)
چنانچہ آپ جبل ابی قبیس پر تشریف لے گئے اور حج کا اعلان فرما دیا۔ جو لوگ ا بھی پیدا نہیں ہوئے تھے،ان تک بھی یہ آواز پہنچی اور انہوں نے بھی اس اعلان کو سن کر لبیک اللھم لبیک کہا۔ جس نے دعوت ابراہیمی پر لبیک کہی اسے ہی حج کی سعادت نصیب ہو گی اور جتنی بار جس نے لبیک کہی اتنی بار وہ حج کرے گا۔
حج کرنے کا طریقہ: ۸ ذی الحجہ کو حج تمتع کرنے والا اپنے گھر سے ہی یا حرم میں جا کر احرام باندھ لے جبکہ حج افرد اور حج قران کرنے والا پہلے ہی احرام کی حالت میں ہوں گے۔ اب یہ تمام حاجی منٰی کی طرف روانہ ہوں گے۔ سوار ہو کر جانا بھی جائز ہے لیکن اگر کوئی پیدل چل کر جائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کے مطابق اس کو ہر قدم پر حرم کی سات سو نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور حرم کی ایک نیکی ایک لاکھ کے برابر ہوتی ہے۔منٰی پہنچ کر اپنے خیمے میں بھی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں با جماعت ادا کریں۔
عرفات کی طرف روانگی : ۹ ذی الحجہ کو صبح جب سورج اچھی طرح بلند ہو جائے تو عرفات کی طرف روانہ ہو جائیں۔ پہلے مزدلفہ کا میدان آئے گا۔ پھر عرفات کی حد شروع ہو گی۔ سورج کے ڈھلنے سے لے کر غروب ہونے تک سارے عرفات میں کسی بھی جگہ ٹھہرنا ’’وقوفِ عرفہ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ اگر یہ رہ جائے تو حج نہیں ہوتا۔
عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر کے وقت میں امام کے ساتھ اکٹھے ادا کرے۔ ہجوم کی وجہ سے ہر ایک کے لیے امام کے ساتھ مسجد نمرہ جا کر نماز پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اگر اپنے اپنے خیموں میں با جماعت نماز پڑھ لیں تو درست ہے مگر اس صورت میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت پڑھیں اور عصر کی نماز عصر کے وقت پڑھیں۔سارا وقت عبادت و ریاضت، تلاوت اور درود پڑھتے گزاریں۔ اور رو رو کر سب کے لیے دعائیں مانگیں۔ یہ مقام قبولیت کا ہے۔
مزدلفہ میں رات کا قیام : سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کئے بغیر عرفات سے نکل کر مزدلفہ آئیں اور وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھیں۔ مزدلفہ میں پہنچ کر ایک پہاڑی ’’مشعر حرام،، کے قریب رات گزارنا افضل ہے یا مزدلفہ میں کسی بھی جگہ ٹھہر سکتے ہیں۔ یہ رات بہت فضیلت والی ہے، اس لیے عبادت میں گزارنے کی کوشش کرے۔ لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے سونا بھی سنت ہے۔عرفات کے میدان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کے گناہ گاروں کی بخشش کی دعا فرمائی۔ جو ظالم کے سوا باقی سب کے حق میں قبول ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی : ’’یا اللہ! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو معاف فرما دے‘‘۔ مگر اس کا کوئی جواب نہ ملا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں پھر یہی دعا فرمائی جو قبول فرما لی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ جب صبح صادق ہو جائے تو نماز فجر با جماعت ادا کرے اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ میں وقوف یعنی ٹھہرنے کی نیت کرنا واجب ہے۔ مزدلفہ کے میدان سے ۷ چھوٹے چھوٹے سنگریزے چن کر اچھی طرح دھوکر اپنے پاس رکھ لے جو منٰی میں شیطانوں کو مارنے کے کام آتے ہیں۔
منٰی میں واپسی : نماز فجر کے بعد مزدلفہ سے منٰی کی طرف چل پڑیں۔ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان ’’وادی مُحشر،، ہے جہاں اصحاب فیل پر ابابیلوں کے ذریعے عذاب نازل ہوا تھا۔ اس لیے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے تیزی کے ساتھ اس وادی سے گزر کر منٰی میں اپنے خیمے میں پہنچ جائے۔
منیٰ میں دسویں تاریخ کے چار کام
جمرۃ عقبہ یعنی بڑے شیطان پر رمی کرنا ہوتی ہے۔ اگر کوئی بیمار یا معذور ہو تو اس کی جگہ کوئی دوسرا شخص بھی رمی کر سکتا ہے۔ صرف ہجوم کی وجہ سے رمی کرنے خود نہ جانا درست نہیں ہے۔
رمی کے بعد دوسرا کام قربانی ہے۔ حج قران یا تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے لیکن حج مفرد کرنے والے پر واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔ قربانی کا وقت بارہ تاریخ کے سورج غروب ہونے تک ہے۔
حلق یا قصر: جب قربانی ہو جائے تو پھر حلق یا قصر کروائے۔ قربانی سے پہلے حلق یا قصر نہیں کروا سکتا۔ حلق یا قصر کروا لیا ہے تو احرام کھول دے۔ ورنہ احرام میں ہی رہے۔
دسویں تاریخ کو چوتھی عبادت طوافِ زیارت ہے۔ مکہ مکرمہ جا کر طواف زیارت رمل کے ساتھ کرے۔ مقام ابراہیم پر دو نفل ادا کرے اور پھر ملتزم پر چمٹے، پھر زمزم پئے اور صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اگر حج سے پہلے نفلی طواف میں یا طواف قدوم میں رمل اور پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کر چکا ہے تو اب صرف طواف کرے اور واپس منیٰ میں آ جائے۔
گیارہویں ذی الحجہ : آج حاجی کے ذمہ صرف ایک کام یعنی تینوں جمرات پر زوال کے بعد رمی کرنا۔ اس لیے زوال تک عبادت و ریاضت میں مشغول رہے اور پھر پہلے جمرہ اولیٰ، پھر جمرہ وسطیٰ اور آخر میں جمرہ عقبہ پر رمی کرے اور واپس اپنے خیمہ میں آ جائے۔
بارہ ذی الحجہ : اس دن کی مصروفیت بھی تینوں جمرات پر رمی کرنا ہے۔ زوال سے غروب آفتاب تک رمی کرنا سنت اور افضل ہے۔ رات کو مکروہ ہے لیکن عورتوں کے لئے رات کو کرنا افضل ہے۔ اسی معذور اور بچے بھی رات کو رمی کر سکتے ہیں۔ اگر کسی نے ابھی تک طوافِ زیارت نہ کیا ہو تو وہ آج بھی سورج ڈوبنے سے پہلے کر سکتا ہے۔ مگر دسویں تاریخ کو کرنا افضل ہے۔ آج کی رمی کے بعد حج کے مناسک پورے ہو گئے اور مکہ مکرمہ واپس آ جائیں۔
اگر کسی وجہ سے منیٰ میں بھی سورج غروب ہو جائے تو پھر وہ منیٰ میں ہی قیام کرے۔ اگر فجر منیٰ میں ہو جائے تو تیرھویں تاریخ کی رمی بھی لازم ہو جاتی ہے جو زوال کے بعد ہو گی۔ عورتیں اور کمزور لوگ زوال سے پہلے بھی رمی کر سکتے ہیں۔
عورتوں کے احکام؍ مسائل
عورت درج ذیل افعال میں مردوں سے مختلف ہے۔
٭ عورت احرام میںسلے ہوئے کپڑے پہنے اور سر کو رومال وغیرہ سے ڈھانپ لے۔
٭ پیشانی اور چہرہ ننگا رکھے۔
٭ تلبیہ بلند آواز سے نہ پڑھے۔
٭ طواف میں رمل نہ کرے۔
٭ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے مردوں کی طرح دوڑنے کی ضرورت نہیں۔
٭ عورت حلق نہیں کروائے گی بلکہ قصر کروائے۔
٭ حجرِ اسودکا بوسہ لینے کے لیے مردوں کی بھیڑ میں داخل نہ ہو۔
٭ اگر احرام باندھنے سے پہلے یا بعد میں کسی موقعہ پر ناپاکی کا عارضہ لاحق ہو جائے تو غسل کر کے احرام باندھ لے اور مناسک حج ادا کرتی رہے، البتہ طواف نہ کرے اور مسجد میں نہ جائے۔
٭ عارضہ کی وجہ سے طواف زیارت بارہ تاریخ کے بعد بھی کر سکتی ہے۔
٭ طواف وداع یعنی الوداعی طواف باہر سے آنے والے مردوں عورتوںسب پر واجب ہے لیکن عارضہ کی صورت میں یہ طواف معاف ہے۔
مدینہ منورہ اور بارگاہِ مصطفی ﷺمیں حاضری
اللہ رب العزت نے توبہ اور استغفار کا طریقہ بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری کو قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا :
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوْا أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّهَ
وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO
’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس سلسلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے‘‘۔ (النساء۴:۶۴)
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :من حَجَّ فَزَارَ قَبْرِیْ بَعْدَ مَوْتِی کَانَ کَمَنْ زَارَنِی فی حَيَاتِی. ’’جس نے حج کیا پھر میرے وصال کے بعد میری قبر کی زیارت کی وہ ایسے ہو گا جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی‘‘۔ (مشکٰوۃ المصابيح)
مَنْ زَارَ قَبْرِی وَجَبَتْ لَه‘ شَفَاعَتِی.’’جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی‘‘۔
من حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِیْ فقَدْ جَفَانِیْ. ’’ جس نے حج کیا اور میری زیارت کے لیے نہ آیا۔ اس نے میرے ساتھ بے وفائی کی‘‘۔
جس ہستی کے صدقے اللہ نے حج کی سعادت عطا فرمائی ان کی بارگاہ میں حاضری ایمان کی علامت اور نفاق کی بیماری سے نجات کا ذریعہ ہے۔ ارشاد گرامی ہے :مَنْ صَلّٰی فِيهِ اَرْبَعِيْنَ صَلوٰةَ لَا تفوته‘ صَلوٰةَ کُتِبَ لَهٗ بَرَاءَةُ مِنَ النَّارِ. بَراَءةُ مِنَ الْعَذَابِ وَ بَراءَةُ مِنَ النِّفَاقِ.’’جس نے مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کیں اور اس کی کوئی نماز بھی فوت نہ ہوئی اس کے لیے آگ، عذاب اور نفاق سے نجات لکھ دی گئی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT