Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / فقیہ المقدم الامام محمد بن علی باعلویؒ

فقیہ المقدم الامام محمد بن علی باعلویؒ

 

سہیل بن سعید
ساتویں صدی ہجری کی مشہور شخصیت امام محمد فقیہ المقدم کی ہے۔ حضرت فقیہ المقدم کی ولادت ۵۷۴ہجری میں حضرموت کے شہر تریم میں ہوئی اور ابتداء ہی سے قرآن و سنت کے ماحول، اسلامی تہذیب و کردار اور علوم تصوف کے درمیان آپ پروان چڑھے۔ بہت ہی کم سنی میں حفظ قرآن مجید سے فراغت حاصل کرنے کے بعد تمام علوم اسلامیہ شرعیہ کے اصول و فروع پر بلوغ کو پہنچنے سے قبل ہی مہارت حاصل کرلی تھی۔ آپ کو یمن کے مشاہیر علماء و فقھاء کے پاس علوم کی تکمیل کروائی گئی۔ بعد ازاں آپ نے علوم طریقت و حقیقت کا آغاز فرمایا اور اکابر صوفیہ کی صحبت بافیض اور خاندانی اثرات سے قلب کو منور کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ امام الاولیاء اور شیخ علی الاطلاق مانے جاتے تھے۔ آپ نے علوم شرعیہ میں اتنا کمال حاصل کرلیا تھا کہ آپ مجتہد کے مقام پر فائز ہوئے اور تمام فقہاء پر آپ کی فقاہت کو سبقت حاصل ہونے کی وجہ سے ’’فقیہ المقدّم ‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔ کسی عالم نے ایک ہی مجلس میں آپ سے تین سو (۳۰۰) پیچیدہ سوالات جو مختلف فنون و علوم سے تعلق رکھتے تھے پوچھا تو آپ نے ہرسوال کا جواب انتہائی سہل انداز میں عنایت فرمایا۔
آپ باعلوی سادات میں سے وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے دنیا کے سامنے علوم تصوف کو نہ صرف پیش کیا بلکہ اس کو سبقاً پڑھانے والے پہلے استاد کی حیثیت سے بھی سامنے آئے۔ اسی اثناء میں مغرب کے بہت بڑے شیخ اور غوث الوقت شیخ ابومدین المغربیؒ نے اپنے قاصد کو خاص ہدایات کے ساتھ بھیجا کہ وہ استاذالاعظم کو ان کے سلسلے کی خلافت و خرقہ عطا کریں۔ ہرچند کے فقیہ المقدم امام محمدؒ نے شیخ ابومدین کی خلافت کو قبول کرلیا لیکن مکمل انہی کے سلسلہ کی پیروی کی بجائے آپؒ نے اپنے اجدادی طریق تصوف کو زیادہ فوقیت دی لیکن اپنی تعلیمات میں طریقت باعلوی کے ساتھ ساتھ شیخ ابومدین المغربیؒ اور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظمؒ کی طریقت و تعلیمات کو ایک میں جمع فرمادیا اور ان سب معاملات میں شیخ سعید العمودیؒ نے آپ کی بڑی مدد کی۔جس ماحول میں فقیہ المقدمؒ رہ رہے تھے وہ سیاسی طورپر غیرمستحکم حالات سے گزر رہا تھا۔ حالات اتنے بدترین تھے کہ فقیہ المقدمؒ جب اپنے استاد شیخ علی بامروانؒ کے یہاں درس میں بیٹھتے تو اپنے پیروں پر تلوار رکھا کرتے تاکہ اپنی اور اپنے احباب کے نفوس کی حفاظت ہوسکے۔ آپؒ نے دیکھا کہ اہل محبت اور چاہنے والوں کے حق میں خون خرابہ اور صفوں میں اختلاف بڑھتا ہی جارہا ہے اور چاہنے والوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، پس آپ نے اشارتاً اپنی تلوار کو توڑکر یہ اعلان فرمایا کہ میرا اور تمام باعلوی سادات کا طریق، محبت، امن اور عدم تشدد ہے۔ فقیہ المقدم ہی وہ پہلے فرد ہیں جنھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کے روضۂ انور کی سالانہ زیارت وفاتحہ خوانی کا اہتمام فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ فقیہ المقدم کسی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تو حضرت ہود علیہ السلام خود آپؒ کے پاس آئے اور فرمایا: ’’اے فقیہ المقدم! اگر تم میری زیارت کو نہیں آؤگے تو میں خود تمہاری زیارت کرنے آؤںگا ‘‘۔
آپ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں مخلوق سے کنارہ کرلیا اور مکمل طورپر یاد الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ آخرکار ۲۹؍ ذی الحجہ ۶۵۳ہجری کو فقیہ المقدم نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے محبوب حقیقی (اﷲ) سے واصل ہوئے۔ آپؒ کی زنبل مقام پر تدفین عمل میں آئی۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں آپ کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT