Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / فلائی اوورس، سواری اُچھالنے والا ڈرائیو بن گیا ہے

فلائی اوورس، سواری اُچھالنے والا ڈرائیو بن گیا ہے

حیدرآباد ۔ یکم جنوری (ایجنسیز) ٹریفک ہجوم کو کم کرنے اور ٹریفک کے بہاؤ کو سہل بنانے کے مقصد سے شہر حیدرآباد میں تعمیر کئے گئے فلاحی اوورس، کمیوٹرس بالخصوص ٹو وہیلر رائیڈرس کے لئے اُچھالنے والی سڑکوں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ شہر کے زیادہ تر فلائی اوورس پر دو سگمنٹس (توسیعی جوائنٹس) کے درمیان گیاپس ہوگئے ہیں اور اس کی وجہ ٹو وہیلر اور تھری ویلر رائیڈرس کے لئے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ فلائی اوورس کا استعمال کرنے والے ہزاروں کمیوٹرس اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ اُچھالنے والے ڈرائیو کی وجہ صحت کے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ بشمول پیٹھ میں درد، جوڑوں میں تکلیف کے دیگر مسائل۔ امراض کے شکار روڈ یوزرس کے لئے یہ صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ایک خانگی بینک ملازم اے راجیشور راؤ نے اس سلسلہ میں ان کے تجربہ سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ وہ روزانہ ویسٹ ماریڈ پلی سے بنجارہ ہلز کو جاتے ہیں اور یہ ڈرائیو ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ انھیں ان کے آفس پہنچنے کے لئے پانچ فلائی اوورس سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ سڑکوں کی حالت بہتر ہوئی ہے انھوں نے کہاکہ فلائی اوورس پر دو سگمنٹس کے درمیان گیاپ میں گزشتہ چند ماہ سے خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ 54 سالہ اس شخص نے کہاکہ بیگم پیٹ فلائی اوور کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ اسکوٹرس کے پہیے چھوٹے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ حادثات ہوتے ہیں۔ 26 سالہ ٹیکی پی ستیہ نارائنا نے جو باغ لنگم پلی سے اس کے آفس گچی باؤلی ٹو وہیلر پر جاتا ہے کہاکہ ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ نارائن گوڑہ فلائی اوور پر ٹو وہیلر رائیڈرس حادثات کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئے۔ کئی مرتبہ ڈرائیورس کی گاڑی کی رفتار کم کرنے کے لئے اچانک بریک لگانا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں اسکڈنگ ہوتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ مسئلہ شام کے وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ انھوں نے بلدی حکام پر زور دیا کہ حادثات کی روک تھام کے لئے کم از کم ایک میٹل شیٹ لگائیں۔ ایک 45 سالہ خانگی ملازم ڈی سری کانت نے کہاکہ فلائی اوورس پر اُچھالنے والے ڈرائیو کی وجہ سے وہ پیٹھ میں شدید تکلیف کے مسئلہ سے دوچار ہوگیا ہے۔ تاہم جب اس تعلق سے پوچھنے پر جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جوائنٹس ہیلپ فلائی اوورس ایک چھوٹا بریتھنگ روم ہے۔ انھوں نے کہاکہ برج سگمنٹس قدرے پھیلتے اور سکڑتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جیسے درجہ حرارت میں تبدیلی، کانکریٹ کا سکڑنا اور گاڑیوں کا وزن بھی۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیدار نے کہاکہ کارپوریشن کی جانب سے بہت جلد ہی گیاپس اور ڈرائیورس پر اس کے مضر اثرات کی اسٹڈی کے لئے ایک جامع سروے کیا جائے گا۔ انھوں نے کہاکہ کارپوریشن، انڈین روڈ کانگریس (IRC) سے اس کی ماہرانہ رائے حاصل کرے گی اور ضروری کارروائی کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT