Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / فلائی اوور کے انہدام میں ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی

فلائی اوور کے انہدام میں ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی

زخمیوں میں 7 کی حالت تشویشنا ک، فوج کو ملبہ سے مزید نعشوں کے دستیاب ہونے کی امید نہیں

کولکتہ ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مزید تین نعشیں فلائی اوور کے ملبہ سے جو کل منہدم ہوگیا تھا اور کاروں کے علاوہ سڑک پر ٹھیلے بنڈیوں پر فروخت کا کام کرنے والے اس کے ملبہ میں دب گئے تھے، برآمد ہوئیں۔ اس طرح ہلاکتوں کی جملہ تعداد 24 ہوگئی۔ فلائی اوور تعمیر کرنے والی کمپنی کے 5 عہدیداروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تقریباً 90 افراد فلائی اوور کے منہدم ہونے سے زخمی ہوگئے تھے جن میں سے 7 کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔ فوج، کولکتہ پولیس، آفت سماوی سے نمٹنے کی ٹیم، این ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کا عملہ بچاؤ کارروائی میں رات بھر مصروف رہا۔ کوئی بھی زندہ شخص ہنوز ملبہ سے برآمد نہیں کیا جاسکا۔ آٹو رکشاؤں اور چند دیگر گاڑیوں کو بھی ملبہ سے کھینچ کر باہر نکالا گیا ہے۔ تاہم ایک لاری ہنوز ملبہ کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ لاری میں کوئی شخص موجود ہے یا نہیں کہا نہیں جاسکتا۔ تقریباً 60 میٹر طویل حصہ جو زیرتعمیر تھا کل دوپہر منہدم ہوگیا جبکہ یہ منہدم ہونے والا فلائی اوور کا حصہ پرہجوم چوراہے پر تھا۔ آئی وی آر سی ایل کے جس نے یہ فلائی اوور تعمیر کیا ہے، 10عہدیداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ کولکتہ کمشنر پولیس راجیو کمار نے کہا کہ یہ کمپنی حیدرآباد کی ہے۔ کولکتہ پولیس نے کل حیدرآباد کی تعمیراتی کمپنی آئی وی آر سی ایل کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا اور اس کے مقامی دفتر کو مہربند کردیا گیا تھا۔ تعمیراتی کمپنی نے فلائی اوور کے انہدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے۔ حیدرآباد پولیس کے عہدیدار کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ ہمیں حیرت ہے اور انتہائی صدمہ پہنچا ہے۔ تاہم تحقیقات میں ہم تعاون کریں گے۔ تحقیقات کیلئے وقت لگے گا۔ حادثہ کے مقام کی ایک تصویر ایک مقامی روزنامہ میں شائع کی گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ مقام پر بم دھماکہ ہوا تھا۔ تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ کمپنی کی خاتون ترجمان نے کہاکہ تعمیراتی اشیاء جو فلائی اوور کی تعمیر میں استعمال کی گئی تھیں، انتہائی معیاری تھی۔ ہم خود الجھن میں ہیکہ اس حادثہ کی وجہ کیا ہے۔ ایک اور فلائی اوور وویکانند ٹائیگور اسٹیک پر تعمیر کیا گیا ہے لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ٹائیگور اسٹیک بھی گنجان آباد علاقہ ہے۔ اگر تعمیراتی اشیاء میں کوئی خرابی ہوتی تو یہ فلائی اوور بھی منہدم ہوچکا ہوتا۔ فوج کے بیان کے بموجب کولکتہ پولیس اور آفت سماوی سے نمٹنے کی ٹیم کے تعاون سے راحت رسانی اور بچاؤ کارروائی جاری ہے۔ تاہم فلائی اوور کے ملبہ سے مزید کسی نعش کے درآمد ہونے کی امید نہیںہے۔ دریں اثناء ترنمول کانگریس اور بی جے پی فلائی اوور کے انہدام کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ یہ انہدام مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ ترنمول کانگریس کے ترجمان نقوی کے بیان کو اوچھی سیاست قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT