Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / فلاحی و ترقیاتی کاموں میں سرفہرست والی ریاست کو 13 واں مقام: چندرا بابو

فلاحی و ترقیاتی کاموں میں سرفہرست والی ریاست کو 13 واں مقام: چندرا بابو

وزیراعظم کے سروے میں انکشاف پر چیف منسٹر کا اظہارحیرت

حیدرآباد ۔ 14 جولائی (سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے چیف منسٹرس کی کارکردگی پر کرائے گئے سروے میں 13 واں مقام حاصل ہونے پر چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو نے حیرت اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جو ریاست فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی کاموں میں ملک بھر میں سرفہرست ہونے کا اعزاز رکھتی ہے اس کے چیف منسٹر کو 13 واں مقام کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کے چیف منسٹرس کی کارکردگی پر کرائے گئے سروے اور چیف منسٹرس کو حاصل ہونے والے مقامات کی فہرست میڈیا کے ذریعہ منظرعام پر آنے کے بعد چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو سروے رپورٹ سے ناخوش ہے اور اس کو مسترد کرچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ اس سروے رپورٹ پر چیف منسٹر آندھراپردیش نے اپنے قریبی رفقاء سے تبادلہ خیال کیا اور اپنی ناراضگی بھی جتائی ہے۔ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے تائید اور مخالفت میں احتجاج کی قیادت کرنے والے چندرشیکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو نے متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیف منسٹرس بن چکے ہیں اور گذشتہ 2 سال سے مختلف مسائل پر دونوں چیف منسٹرس کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پانی، برقی، اثاثہ جات، ایمپلائز کی تقسیم کے علاوہ دوسرے معاملت میں دونوں ریاستوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور دونوں چیف منسٹرس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم کے سروے رپورٹ نے جہاں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی سماج میں اہمیت بڑھا دی ہے وہیں چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کی اہمیت گھٹا دی ہے۔ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ٹی آر ایس کے حلقوں میں جشن کا ماحول ہے۔ ٹی آر ایس قائدین تلنگانہ کے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید برائے تنقید کرنے کے بجائے تنقید برائے تعمیر کرنے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہ بننے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ معاشی بحران اور دوسرے مسائل سے آندھراپردیش میں چیلنجس کا سامنا کرنے والی حکمران تلگودیشم کے حلقوں میںمایوسی پائی جاتی ہے۔ تلگودیشم قائدین دعویٰ کررہے ہیں کہ سروے رپورٹ میں چیف منسٹر آندھراپردیش کو 13 واں نہیں بلکہ 5 واں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ چندرا بابو نائیڈو تلگودیشم قائدین کے دعویٰ سے بھی اتفاق نہیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی تقسیم سے نقصان میں رہنے والی ریاست آندھراپردیش کو تیز رفتار ترقی دینے کیلئے وہ دو سال میں کئی مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزاء نیتی ایوگ کے نمائندوں سے ملاقات کرچکے ہیں۔ بغیر آرام کرے بیرونی ممالک کا دورہ کرتے ہوئے آندھراپردیش کی ترقی میں تعاون کرنے اور سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کی دن رات جدوجہد کررہے ہیں اور ملک کے بڑے بڑے صنعتکار آندھراپردیش میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ سروے رپورٹ غلط اور بے بنیاد ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT