Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / فلاحی کاموں میں تلنگانہ ملک کی سرفہرست ریاست:جی سمن کا بیان

فلاحی کاموں میں تلنگانہ ملک کی سرفہرست ریاست:جی سمن کا بیان

حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ کی کے سی آر حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے وقف ہوچکی ہے اور ملک کی کوئی اور ریاست فلاحی اقدامات میں اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے حکومت پر کانگریس کے قائد مدھو یاشکی گوڑ کی تنقیدوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھو یاشکی کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی چاہیئے اور حقیقت حال کے اظہار کے بجائے صرف الزام تراشی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ کی تنقیدوں کو بے بنیاد اور حقائق سے بعید قرار دیا اور کہا کہ کانگریس قائدین نے دراصل یوم آزادی کے موقع پر چیف منسٹر کی تقریر کی بغور سماعت نہیں کی لہذا چیف منسٹر کی تقریر کی غلط تاویلات پیش کی جارہی ہیں۔ سمن نے کہا کہ چیف منسٹر نے اپنے خطاب میں نہ صرف حکومت کے وعدوں کی تکمیل کا ذکر کیا بلکہ سماج کے ہر طبقہ کیلئے بھلائی سے متعلق حکومت کے منصوبوں کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کانگریس قائد سے سوال کیا کہ آیا گذشتہ دو برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے عمل کی جارہی اسکیمات سے کیا وہ واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے کے ٹی راما راؤ کے کانگریسی رکن راجیہ سبھا کے وی پی رامچندر راؤ سے تجارتی تعلقات کے الزامات کو مسترد کردیا اور مدھو یاشکی گوڑ کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزام کے حق میں ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کی مسلسل کاوشوں کے نتیجہ میں تلنگانہ کو کئی ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی میں بین الاقوامی اداروں کی دلچسپی اس بات کا مظہر ہے کہ تلنگانہ صنعتی ترقی کے معاملہ میں پسندیدہ مقام ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک نے سرمایہ کاری سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی راما راؤ پر فلائیٹ میں پھرنے کا الزام عائد کرنے سے پہلے مدھو یاشکی کو ان کے دوروں سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری اور تلنگانہ کی ترقی کا جائزہ لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات عائد کرنے سے قبل کانگریس قائدین کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ کانگریس دور حکومت میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات میں کرپشن عروج پر تھا اور آج بھی کئی قائدین مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھو یاشکی نے حکومت کے ہر اقدام پر تنقید کرنا اپنا شعار بنالیا ہے تاکہ اعلیٰ کمان کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔ ان الزامات پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے دوران یہی مدھو یاشکی زیادہ تر ہندوستان کے باہر رہے اور تحریک میں ان کا کوئی رول نہیں ہے لہذا انہیں تلنگانہ کے بارے میں اظہار خیال کا کوئی حق نہیں۔

TOPPOPULARRECENT