Tuesday , September 26 2017
Home / عرب دنیا / فلسطینیوں کی گھر بدری کا تین سال میں نیا ریکارڈ قائم

فلسطینیوں کی گھر بدری کا تین سال میں نیا ریکارڈ قائم

مقبوضہ بیت المقدس ۔ 22 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام)  اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مقامی عرب شہریوں کے مکانات کی بلا جواز مسماری کے آپریشن میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں صہیونی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے 63 مکانات بلڈوز کیے جس کے نتیجے میں 82 بچوں سمیت 132 افراد بے گھر ہوگئے۔ ایک ہی ہفتے میں اتنی بڑی تعداد کی مکانوں کی مسماری کا 2012 ء کے بعد نیا ریکارڈ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے جمعہ کے روز جاری رپورٹ میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کے مترادف قرار دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال میں اب تک مجموعی طور پر فلسطینی شہریوں کے 356 مکانات مسمار کیے گئے۔ ان میں 81 وہ مکانات بھی شامل ہیں جو عالمی امدادی اداروں کے تعاون سے غرب اردن کے سیکٹر ’’ڈی‘‘ میں بنائے گئے تھے۔ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کے تحت اس سیکٹر کا 60 فیصد علاقہ اسرائیل کے زیرانتظام ہے۔ اسرائیل اپنے زیر انتظام علاقوں میں فلسطینیوں کو کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق مندوب رابرٹ بائبر کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب اسرائیل وسیع پیمانے پر یہودیوں کے لیے تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کو آباد کرنے کیلئے فلسطینی شہریوں کی اراضی پر قبضے کا منصوبہ اپنے نتائج کے اعتبار سے نہایت خطرناک ہے۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں عرب شہریوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT