Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / فلسطین کی بہادر ماؤوں کو سلام

فلسطین کی بہادر ماؤوں کو سلام

 

بخاری شریف میں حضرت مغیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’میری اُمت میں ایک جماعت ہمیشہ لوگوں ( دشمنوں) پر غالب رہے گی یہاں تک کہ اﷲ کا فیصلہ آئیگا اور وہ اسی طرح غالب رہے گی ‘‘ ۔ (البخاری۔۳۶۴۰)
بخاری اور مسلم میں اسی معنی و مفہوم میں ایک روایت حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری اُمت میں ایک جماعت ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ ظاہر ہوگا اور وہ اسی حالت میں رہے گی ۔

امام مسلم نے حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا :میری اُمت میں ایک جماعت تاقیامت حق پر غلبہ کے ساتھ جہاد کرتی رہے گی ۔
اسطرح متعدد صحابہ کرام سے اسی معنی و مفہوم میں مختلف الفاظ کی کمی و زیادتی کے ساتھ متعدد احادیث ،کتب حدیث میں منقول ہیں۔ گروہ صحابہ میں اس کثرت سے اس حدیث شریف کی روایت کی گئی ہے کہ محدثین نے اس کو صحتِ حدیث میں سب سے اونچا درجہ ’’حدیث متواتر‘‘ قرار دیا ہے۔ یعنی جس کی صحت صحابہ کرام کے عہد مبارک ہی میں اس کثرت کو پہنچ چکی تھی کہ اس کی اسناد و صحت میں رمق برابر شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔

طالب علمی کے دور میں یہ حدیث پڑھی تھی اور ہمیشہ ذہن میں کشمکش رہتی تھی آخر وہ کونسی جماعت ہوگی جو روئے زمین پر ہردور و زمانے میں حق پر قائم رہے گی ، دشمن سے نبردآزما رہے گی ، دشمنوں کا مکروفریب ، وحشیانہ سلوک ان کے پایہ استقلال کو متزلزل نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ نصرت الٰہی دستک دے گی اور ان کا استقبال کرے گی ۔
سن شعور کو پہنچنے کے بعد سے تاحال ہم نے دنیا میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ، ملک کے ملک برباد ہوتے دیکھا، کچھ وقفہ کے بعد کسی نہ کسی گوشہ سے اعلاء کلمۃ اللہ کے نام پر قتل و جہاد کے نعرے سنے لیکن نتیجے میں بالعموم سیاسی تماشے یا مکار حکمرانوں کے خلاف ناداں و ناسمجھ اور ناعاقبت اندیش مسلمانوں کی جذباتیت نظر آئی ۔ ہمیشہ قلب و دماغ میں یہی حدیث گھومتی رہتی کہ بالآخر وہ کامیاب جماعت کونسی ہوگی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی تائید و مدد شامل حال رہے گی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ تقریباً پانچ سال قبل میں امریکہ منتقل ہوا اور میری رہائش اور خدمات عرب کمیونٹی میں رہی جن میں اکثریت فلسطین اور یمن سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقعہ تھا جب مجھے ملک شام ، فلسطین ، یمن اور اردن کے گھرانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ ملک شام کے لوگ حساس اور نہایت باوقار ہوتے ہیں ۔ فلسطین اور یمن کی تہذیب و کلچرل اور طرز معاشرت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ فلسطین کی خواتین آزاد خیال اور ماڈرن ہوتی ہیں اور یمن کی خواتین گھریلو اور گوشہ پردہ کی پابند ہوتی ہیں، تعلیم سے کوسوں دور ہیں۔ یمنی مرد حضرات دینی معلومات زیادہ رکھتے ہیں لیکن تجارت میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے ۔ فلسطینی خواتین یمنی خواتین کے بالمقابل زیادہ دینی معلومات رکھنے والی ہوتی ہیں۔ نیز فلسطینی خواتین مردوں کے مقابل میں زیادہ دیندار اور کارخیر میں سبقت کرنے والی ہوتی ہیں ، وہ بڑی جفاکش اور بلند ہمت والی ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے اطلاع ملی کہ ایک فلسطینی خاتون کا بھانجہ جس کی عمر ۲۱ برس تھی اور اس کارسم ہوچکا تھا جامِ شہادت نوش کیا تو میں اس کے گھر تعزیت کے لئے پہنچا تو اس کے گھر والوں نے مجھے ایک ویڈیو بتائی کہ جب ایک فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی بربریت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوگیا اور اس کے جنازہ کو اس کے گھر لایا جارہا تھا ۔ ہم سب اندازہ کرسکتے ہیں اس وقت کیا حالت ہوگی ، اس کی ماں کی کیا کیفیت ہوگی ، لیکن ماں کی عجیب سی کیفیت دیکھی گئی ، رنج و غم اس پر ظاہر ہے لیکن وہ صابرہ ماں اپنے چہرے پر غم و رنج کو ظاہر ہونے نہیں دیتی بلکہ وہ پرسہ دینے والوں کو مٹھائی تقسیم کرتی ہیں یہ کہتے ہوئے کہ میرا لخت جگر راہِ خدا میں شہادت کے اعلیٰ مرتبہ سے سرفراز ہوا ہے ۔ اس کلپ کو دیکھ کر میں بڑا حیران و ششدر تھا تو اس کے گھر والوں نے بتایا کہ شیخ ! ہمارے گھر کی مائیں اور بہنیں اپنے رنج و غم کو ظاہر نہیں کرتیں اس لئے کہ اسرائیل یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم کمزور و عاجز ہوگئے ہیں۔ ہماری خواتین صبر و تحمل کا مجسمہ بنکر دیگر ماؤں اور بہنوں کو ہمت و حوصلہ کا پیغام دیتی ہیں ، اور یہودیوں کو مزید رسوا کرتی ہیں۔

آج فلسطین میں مسجد اقصیٰ کے تحفظ میں فلسطینی قوم نے جس بہادری اور صلابت کا نمونہ پیش کیا ہے اس کے سامنے بلند قامت پہاڑ اور مضبوط چٹانیں بھی عاجز ہیں۔ مسلم ممالک باہم ایک دوسرے پر اپنی برتری جتانے اور ایک دوسرے کوکمزور کرنے کے درپے ہیں لیکن فلسطین کی مٹھی بھر جماعت نہ دنیا کے مسلمانوں سے اُمید رکھتی ہے اور نہ عالم عرب سے کچھ توقع رکھتی ہے ۔ وہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لئے رات و دن تیار ہے اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے ہر طوفان سے نبرد آزما ہونے اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ۔ وہ کیسی بہادر قوم ہے کہ قبلۂ اول کو بچانے کے لئے نوجوان ، ضعیف ، خواتین اور بچے گھر کا گھر سڑکوں پر ہے ۔ ان کے عزم و حوصلہ کو دیکھ کر یہ یقین کامل ہوگیا کہ مذکورالصدر حدیث شریف کا مصداق اگر کوئی ہے تو وہ فلسطینی قوم ہے جو حق کے لئے نبردآزماہے ، نصرت الٰہی ان کے شامل حال ہے ۔ باطل کی بربریت ، وحشیانہ سلوک ، کبھی ان کے حوصلوں کو کمزور نہیں کرسکے گا اور بہت جلد نصرت الٰہی آئے گی اور وہ کامیاب و کامران ہوں گے اور ان کا دشمن نیست و نابود ہوا ۔ اے اﷲ ہم عاجز و گنہگار و کمزور و پست ہمت بندوں کی طرف سے فلسطینی قوم کو اجر جزیل عطا فرما ، ان کی حفاظت فرما اور ان کو نعم البدل سے سرفراز فرما اور جلد سے جلد فلسطین کو اسرائیل کے قبضہ و تصرف سے آزاد فرما۔ آمین

TOPPOPULARRECENT