Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / فلم اچھی رہی! ڈائرکٹر اور اداکار کامیاب

فلم اچھی رہی! ڈائرکٹر اور اداکار کامیاب

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں کسی ایماندار اور دیانتدار عہدیدار کیلئے کوئی جگہ نہیں اس کا پھر ایک بار مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب خود محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف مبینہ طور پر سازش رچتے ہوئے ان کی خدمات محکمہ مال کو واپس کرنے کا ماحول بنایا۔ بظاہر وقف بورڈ کے اجلاس میں محمد اسد اللہ کی خدمات کو ان کے متعلقہ محکمہ مال واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم اس کے پس پردہ اسکرپٹ رائٹر و ڈائرکٹر تو محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی میں فرائض انجام دینے والے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار کو محمد اسد اللہ کی اصول پسندی ہرگز برداشت نہیں تھی۔ محمد اسداللہ نے کئی معاملات میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے عہدیدار مجاز و سکریٹری اقلیتی بہبود کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے تحریری نوٹ روانہ کیا تھا۔ اپنی ہدایات پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے اختلافی نوٹ سے برہم اعلیٰ عہدیدار نے بورڈ میں مقامی جماعت کے ارکان کی ملی بھگت سے اسد اللہ کے خلاف منصوبہ تیار کیا۔ اسکرپٹ رائٹر اور ڈائرکٹر تو عہدیدار تھے جبکہ مقامی جماعت کے ارکان نے ایکٹرس کا رول ادا کیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے جب اعلیٰ عہدیدار کے رویہ کو بھانپ لیا تو انہوں نے تقریباً 3 مرتبہ انھیں متعلقہ محکمہ واپس کرنے یا پھر رخصت کی اجازت دینے کی درخواست دی۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد بھی اسد اللہ نے دو مرتبہ سکریٹری کو درخواست پیش کی۔ وہ یکم جنوری سے رخصت پر جانا چاہتے تھے۔ جب کبھی وہ رخصت کی درخواست کرتے سکریٹری کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا کہ ’’ بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد کرنے کے بعد جایئے۔‘‘ اس جملہ کے پس پردہ راز کا انکشاف آج کے اجلاس میں ہوا۔ دراصل عہدیدار نے مقامی جماعت کے ارکان کے ساتھ مل کر اسد اللہ کی معطلی اور ان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کی ساری تیاری کرلی تھی۔ اعلیٰ عہدیدار دراصل یہ چاہتے تھے کہ اسد اللہ کی توہین کرتے ہوئے وقف بورڈ سے رخصت کیا جائے لیکن اس سازش کو برسراقتدار پارٹی کے ارکان نے ناکام کردیا۔ دراصل اعلیٰ عہدیدار کے علاوہ مقامی جماعت کے ارکان کو بھی چیف ایکزیکیٹو آفیسر پر اس لئے بھی ناراضگی تھی کہ وہ ان کے اشارہ پر نہیں چل رہے تھے۔ بورڈ میں شامل ایک رکن کے خلاف سی بی سی آئی ڈی میں جاری تحقیقات اور کلکٹر رنگاریڈی میں جاری تحقیقات میں بھی اسد اللہ نے وقف بورڈ کی نمائندگی کی تھی۔ اس طرح ایک دیانتدار اور اصول پسند عہدیدار کے خلاف سازش کی گئی جو دراصل اوقافی جائیدادوں سے دشمنی کے مترادف ہے۔ وقف مافیا اور بعض عہدیدار اگرچہ اپنی سازش میں کامیاب ہوگئے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے تقرر کے بجائے وقف بورڈ کی قرارداد کو مسترد کردے جو کہ حکومت کا اختیار ہے۔ سابق میں بھی شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر جیسے ایماندار عہدیداروں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT