Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / فلم ’’ہاف وِڈو‘‘: کشمیر کی نیم بیواؤں کی کہانی

فلم ’’ہاف وِڈو‘‘: کشمیر کی نیم بیواؤں کی کہانی

سرینگر۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں جاری تنازعے کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگ موت کے منہ جا چکے ہیں تاہم اسکے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں افراد مبینہ طور پر لاپتہ یا غائب ہیں، ان گمشدگیوں کے لیے بھارتی سیکورٹی فورسز کو موردِ الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ بیشتر لاپتہ افراد کے گھر والے آج بھی ان کی واپسی کے منتظر ہیں جن میں بعض نیم بیوائیں بھی شامل ہیں۔ ان خواتین کو اپنے شوہروں کے زندہ یا مردہ ہونے کا علم نہیں۔ یہ ہر روز ان کی راہ تکتی ہیں۔ ایسی خواتین جن کے شوہر مبینہ طور پر بھارتی سکورٹی فورسز کی طرف سے لاپتہ کیے گئے انہیں نیم بیوائیں کہا جاتا ہے۔نیم بیواوں کے لیے 2013 میں کشمیر کے مسلم علماء کے ایک حلقے نے فتویٰ جاری کیا تھا جس کے مطابق ایسی خواتین جنہیں اپنے شوہر کے بارے زندہ ہونے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں وہ چار سال تک انتظار کے بعد دوبارہ شادی کر سکتی ہیں۔لیکن اس فتویٰ کے بعد بھی نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی بیوائیں موجود ہیں جنہوں نے اپنے شریک حیات کے انتظار میں عمریں گزار دی ہیں۔اس موضوع پر حال ہی میں ہدایت کار دانش رینزو ہاف نے ہاف ویڈو کے نام سے ایک فلم بنائی ہے۔اس فلم کی کاسٹ کشمیری ہے، اور دانش کو یقین ہے کہ اس فلم سے وہاں کے سنیماگھروں میں رونق لوٹ آئے گی۔ دانش کے بقول ‘‘ میں نے کشمیر میں پروڈکشن ہاوس کھول دیئے جو کے میرا خواب تھاکہ کشمیر میں فلم میکنگ کو واپس لایا جائے جن میں کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے۔ تو ہم نے اس خوبصورت وادی میں شوٹنگ مکمل کی۔صرف آخری کے پانچ ،چھ دن ہڑتال اور کر فیو کی وجہ سے کا فی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔’’

Top Stories

TOPPOPULARRECENT