Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / فلورسیس سے بچنے دودھ اور صاف پانی کا استعمال ضروری

فلورسیس سے بچنے دودھ اور صاف پانی کا استعمال ضروری

کریم نگر ۔ 15اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علاقہ تلنگانہ میں ہی نہیں ‘ حیدرآباد اور سکندرآباد کے عوام بھی جوڑوں کے درد سے پریشان ہیں ۔ دراصل اس کی وجہ فورسیس ہی ہے ۔ انسانی جسم میں 206 جوڑ ہیں جس میں سے صرف تین یعنی گردن ‘ کمر اور گھٹنے ہی فلورسیس سے متاثر ہوجانے پر تکلیف دہ بن جاتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار گولڈ میڈلسٹ آرتھوپیڈک ڈاکٹر ایم ڈی لکشمن ‘ انسٹی ٹیوٹ آف آرتھوپیڈکس نے نمائندہ ’’سیاست‘‘ سید محی الدین سے خصوصی ملاقات میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ فلورسیس سے جسم کے تمام جوڑوں پر صرف پانچ فیصد اثر ہوتا ہے ۔ فلورسیس سے چھوٹے بچوں پر بھی کافی اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے ٹانگیں ٹیڑھی ہوجانے اور کم عمر سے ہی جوڑوں کا درد شروع ہوجانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ ہمارے ضلع کے سنگارینی کوئلہ کی کانوں کے علاقہ کے رہنے والوں پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے ۔پچھلے 35سال سے ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں فلورسیس پر تحقیق جاری ہے اور فلورٹیک ارتھالاسلیس پر 1985 میںنیشنل آرتھوپیڈک میں جو کہ کولکتہ میں مقالہ پیش کیا گیا تھا ۔ فلورسیس سے کیسے بچا جاسکتا ہے اسے کس طرح روکا جاسکتا ہے ۔ 1983ء میں بھوپال میں اے اے موہت گولڈ میڈل کو ہم نے حاصل کیا تھا 200 خرگوشوں پر اس کی آزمائش کی گئی اور اس کے سدباب کا کامیاب علاج ڈھونڈ نکالا ہے ۔ فلورسیس سے بچنے کیلئے روزانہ آدھا لیٹر دودھ پینا چاہیئے ۔ بورویل کے پانی کے بجائے ہمارے گاؤں کے تالابوں کے پانی کو صاف کر کے استعمال کیا جائے تو فلورسیس سے بچا جاسکتا ہے ۔ اگر جوڑوں ‘ کمر ‘ گردن اور گھٹنے میں تکلیف شروع ہوجائے تو اولین فرصت میں آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے رجوع ہوکر احتیاطی تدابیر سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر لکشمن سے معلومات حاصل کرنا ہو تو صبح 10تا 5بجے موبائیل نمبر 9848050777 پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT