Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / فلوریڈا میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر فائرنگ ، 50 ہلاک

فلوریڈا میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر فائرنگ ، 50 ہلاک

53 زخمی، ایک مسلح شخص نے کلب میں گھس کر کارروائی کی، 9/11 کے بعد امریکی تاریخ کی بدترین دہشت گرد کارروائی

واشنگٹن۔12 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی تاریخ میں اب تک کے بدترین واقعہ میں ایک تنہا بندوق بردار نے اورلینڈو، فلوریڈا میں واقع ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں اسالٹ رائفل کے ذریعہ 50 افراد کو ہلاک اور 53 دیگر کو زخمی کردیا۔ امریکہ کی تاریخ میں 9/11 کے بعد کا یہ بدترین دہشت گرد حملہ تصور کیا جارہا ہے۔ اورلینڈو میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ پلس نائٹ کلب میں 50 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوگئے۔ اورلینڈو پولیس سربراہ جان مینا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے یہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ کارروائی تھی۔ حملہ آور کے پاس ایک اسالٹ نوعیت کا ہتھیار ، ایک پستول اور بعض دیگر نوعیت کے آلات موجود تھے۔ کسی بھی جہادی فورم نے اب تک اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی نہیں کیا ہے لیکن اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے حامیوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس حملے کی ستائش کی۔ سی این این نے کہا ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں 11 ستمبر 2001 کے حملے کے بعد یہ اب تک کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔ 9/11 حملے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اورلینڈو کے حکام نے کہا کہ وہ اس تشدد کو اندرون ملک دہشت گرد کارروائی تصور کرتے ہیں اور تحقیقات میں ایف بی آئی بھی شامل ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور یہ بھی ایک رائے پائی جاتی ہے کہ اس انفرادی شخص کا اسلامی دہشت گردی کی سمت جھکائو رہا ہوگا۔

لیکن فوری طور پر قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایف بی آئی کے اورلینڈو بیورو کے عہدیدار ران ہوپر نے یہ بات کہی۔ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ تشدد کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ طویل ترین تحقیقات ہوگی۔ ایک سنیٹر نے اسے دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔ صدر بارک اوباما کو آج صبح اس واقعہ کے بارے میں واقف کرایا گیا۔ ہوم لینڈ سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی شعبہ کے اسسٹنٹ لیزا موناکو شخصی طور پر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایف بی آئی اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ وہائٹ ہائوز پریس سکریٹری جارن آرنسٹ نے کہا کہ ہماری ہمدردیاں مہلوکین کے ارکان خاندان کے ساتھ ہیں۔ گولی چلانے کا یہ واقعہ 2 بجے شب شروع ہوا۔ حملہ آور کی عمر صدیق متین کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے اور وہ بھی ہلاک ہوچکا ہے۔ سی این این نے یہ اطلاع دی ہے کہ عمر صدیق متین نے کسی نہ کسی مرحلہ پر آئی ایس کی تائید کا عہد کیا تھا۔ صدر بارک اوباما نے وقفہ وقفہ سے تازہ اطلاعات سے انہیں باخبر رکھنے کی ہدایت دی۔ پلس اورلینڈو گے (مرد ہم جنس پرست) نائٹ کلب میں زوردار موسیقی کے دوران تقریباً 2 بجے شب گولیاں چلنی شروع ہوئیں۔ یہ سارا واقعہ تقریباً 3 گھنٹے جاری رہا۔ پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص کلب کے اندر گیا جہاں اس نے گولیاں چلانی شروع کردی۔ اس کے بعد یرغمال جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ جانی مینا نے بتایا کہ 5 بجے صبح کلب کے اندر موجود یرغمالیوں کو بچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نائب صدر جوبیڈن نے مہلوکین کے ارکان خاندان سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلاری کلنٹن نے ٹوئٹ کیا کہ صبح بیدار ہوتے ہی فلوریڈا کی افسوسناک خبر ملی۔ انہوں نے اس واقعہ کو انتہائی وحشت ناک قرار دیا۔ فلوریڈا کے سنیٹر مارکو روبیو نے کہا کہ اندرون ملک بڑھتی دہشت گردی امریکہ کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ ڈیموکریٹک صدارتی دوڑ میں آگے رہنے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ امکانی دہشت گرد کارروائی ہے۔

حملہ آور عمر متین کے ماضی پر عہدیداروں کی نظر
اورلینڈو میں گے نائٹ کلب میں گھس کر 50 افراد کو ہلاک کرنے والے واحد شخص عمر متین کے ماضی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں امریکی لا انفورسمنٹ ایجنسیاں جٹ گئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جس پر پہلے بھی نظر رکھی جارہی تھی۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق عمر متین کے بارے میں 2013ء اور پھر 2014ء میں کافی دلچسپی بڑھ گئی تھی۔ کسی مرحلہ پر ایف بی آئی نے اس کے بارے میں تحقیقات شروع کی تھی لیکن کوئی ٹھوس مواد نہ ملنے کی بناء مقدمہ کو بند کردیا گیا تھا۔

ہم جنس پرستوں سے نفرت واقعہ کا سبب ، عمر متین کے والد کی معذرت خواہی
مشتبہ بندوق بردار کے والد میر صدیق نے کہا کہ ان کے بیٹے کے لئے  مذہب اسلام نہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرستوں سے نفرت اس واقعہ کا محرک بنی۔ انہوں نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ حال ہی میں ڈائون ٹائون میامی میں اس نے ایک ہم جنس جوڑے کو دیکھ کر کافی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی واقعہ آج کے حملے کا سبب بنا ہے۔ اس نے دیکھا تھا کہ دو مرد اس کی بیوی اور بچے کے سامنے ایک دوسرے کو بوسہ لے رہے تھے جس پر وہ بے انتہا برہم تھا۔ میر صدیق نے اس حملے کے لئے معذرت خواہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس کے لئے وہ معذرت خواہ ہیں۔ ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی کارروائی کرنے جارہا ہے۔ ہمیں بھی دوسروں کی طرح اس واقعہ پر انتہائی صدمہ ہے۔

آئی ایس نے ذمہ داری قبول کی
واشنگٹن ۔ /12 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی شہر فلوریڈا میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر مسلم نوجوان اور امریکی شہری 29 سالہ عمر متین نے فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں 50 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوگئے ۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد یہ دوسرا بڑا دہشت گرد واقعہ تصور کیا جارہا ہے ۔ فائرنگ کے بعد تقریباً 30 افراد کو جنہیں یرغمال بنالیا گیا تھا پولیس نے آزاد کرالیا ۔ رات 2 بجے یہ کارروائی شروع ہوئی جو 5 بجے تک چلتی رہی اور پولیس نے متین کے سر پر گولی ماری ۔ متین کی پیدائش نیویارک میں ہوئی اور وہ افغانی والدین کا لڑکا تھا ۔ اس دوران آئی ایس نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ اسلامک اسٹیٹ کی اعماق خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اورلینڈو ، فلوریڈا میں واقع ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر کئے گئے حملے اور قتل عام کیلئے آئی ایس ذمہ دار ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ عمر متین کو ہم جنس پرستوں سے بے حد نفرت تھی ۔ اس کے والد نے کہا کہ ایک مرتبہ اس نے ہم جنس پرست جوڑے کو دیکھ کر کافی برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمر متین کو آئی ایس سے ہمدردی رہی ہے ۔ اس کی نجی زندگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں سے بے حد نفرت کیا کرتا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT