Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / فلپائن کی جیل سے 158 سے زیادہ قیدی فرار

فلپائن کی جیل سے 158 سے زیادہ قیدی فرار

6 مفرور ہلاک ، 8 دوبارہ گرفتار ، قیدیوں کا مسلم انتہاء پسندوں سے تعلق کا ادعا
کڑپاوان (فلپائن) ۔ 4 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مشتبہ مسلم باغی قیدی فلپائن کے جیل سے فرار کے سب سے بڑے واقعہ میں آج تشدد سے متاثر ملک کے جنوبی علاقہ کی ایک بوسیدہ جیل سے فرار ہوگئے۔ انہوں نے دیگر 158 قیدیوں کو آزاد کروایا اور ایک چوکیدار کو ختم بھی کردیا۔ یہ حملہ جیل سے فرار کے جنوبی فلپائن کی طویل تاریخ کا تازہ واقعہ ہے۔ یہ علاقہ برسوں پرانی مسلم علحدگی پسند شورش پسندوں کی تحریک اور انتہاء پسند گروہوں کا مستحکم گڑھ ہے۔ انہوں نے حال ہی میں دولت اسلامیہ سے اپنے الحاق کا اعلان کیا ہے۔ 100 سے زیادہ مسلح آدمی جو سمجھا جاتا ہیکہ مقامی مسلم نیم فوجی جنگجو کمانڈر کے زیرقیادت تھے، جیل پر حملہ آور ہوئے۔ یہ ایک بجے دن کا واقعہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ یہ حملہ اپنے ساتھی باغیوں کو رہا کروانے کا منصوبہ بند حملہ تھا۔ جیل کے وارڈن پیٹر جان بونگٹ نے کہاکہ ہماری تحویل میں اعلیٰ سطحی قیدی تھے جن کو بچانے کیلئے یہ کارروائی کی گئی۔ 6 افراد جو فرار ہوگئے تھے، فوج کی تلاشی مہم میں ہلاک کردیئے گئے اور دیگر 8 افراد قریبی زرعی اراضی سے آج گرفتار کئے گئے۔ حملہ آور زبردست مسلح افراد تھے اور انہوں نے جیل کے 24 چوکیداروں پر حملہ کیا۔ بونگٹ کے بموجب جو بندوق برداروں پسپا کرنے کی کوشش میں شامل تھا، کہا کہ اس عہدیداروں میں سے ایک ہلاک کردیا گیا۔ کم از کم 158 قیدی فرار ہوگئے حالانکہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان میں سے کچھ حملہ آوروں سے تعلق رکھتے تھے یا پھر دیگر قیدی تھے۔ انہوں نے انتشار کے اس عالم سے فائدہ اٹھایا۔ جیل کے وارڈن نے کہا کہ جیل میں 1511 فوجی تھے۔ یہ ایک سابق اسکول کی عمارت ہے جو جنگلاتی علاقہ میں الگ تھلگ واقع ہے۔

کڑپاوان منیلا کے جنوب میں 950 کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور مسلم باغی گروہوں، مجرم گروہوں اور کمیونسٹ شورش پسندوں کا مستحکم گڑھ ہے۔ کئی مسلم شخصیات جیل میں ہیں جو مختلف منظم مافیا گروہوں کے ارکان ہیں۔ بونگٹ نے کہا کہ سمجھا جاتا ہیکہ حملہ آور عسکریت پسند تھے جو مورو اسلامک لبریشن فرنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑی مسلم باغی تنظیم جو حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں، دی نیشن پر اس حملہ کا شبہ کیا جارہا ہے۔ کارگذار صوبائی گورنر چھیرلن میکاسارٹ نے کہا کہ عہدیداروں کو اطلاع ملی تھی کہ علحدہ ہوجانے والے گروہوںمیں سے ایک بنگسامورو اسلامک فریڈم فائٹر جیل سے فرار کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اطلاعات کے بموجب ڈی آئی ایف ایف گروہ کے ارکان چاہتے تھے کہ اپنے بھائیوں کو بچا لیں جو قتل کی وارداتوں میں اور بم سازی میں ملوث تھے۔ اسلامی عسکریت پسندوں نے ناقص مالیہ والے اور محفوظ جیلوں پر جنوبی فلپائن میں گذشتہ 15 سال کے دوران کئی حملے کئے ہیں جن کے نتیجہ میں کثیر تعداد میں افراد فرار ہوچکے ہیں۔ کڑپاوان جیل پر عسکریت پسندوں نے قبل ازیں 2007ء میں حملہ کرکے 49 قیدیوں کو رہا کروایا تھا لیکن آج کا واقعہ فلپائن کی تاریخ کا سب سے بڑا جیل سے فرار کا واقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT