Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / فلیٹ کی خریدی کے لیے بینک سے حصول قرض مشکل

فلیٹ کی خریدی کے لیے بینک سے حصول قرض مشکل

بلڈرس کا رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ میں شامل ہونا لازمی شرط
حیدرآباد۔9اگسٹ (سیاست نیوز) فلیٹ کی خریدی کیلئے بینک سے آسانی سے حاصل ہونے والا قرض اب مشکل ہوجائے گا۔ رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے قواعد کے مطابق تعمیر نہ کرنے اور RERA کی لسٹ میں جو بلڈرس شامل نہیں ہیں ان کی تعمیرات کو بینکوں کی جانب سے قرض جاری نہیں کیا جائے گا اور عمارتوں کو قرض کی اہل بنانے کے لئے بلڈرس کا رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کی فہرست میں شامل ہونا لازمی ہوگا۔ بینک جو اب تک کسی بھی فلیٹ کیلئے قرض کی فراہمی کیلئے باقاعدہ اور اجازت نامہ کے ساتھ تعمیر کی جانے والی عمارتوں میں فلیٹس یا وینچرس میں کئے جانے والے تعمیرات کی خریدی کیلئے قرض فراہم کیا کرتے تھے اب ایسا نہیں کریں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے تمام بینک انتظامیہ بالخصوص سرکاری بینکوں کے ذمہ داران کو جاری کردہ ہدایات میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کسی بھی رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے بلڈریا تعمیری ادارہ کی تعمیرات کو قرض فراہم نہ کیا جائے بلکہ ان کی ان تعمیرات کو ہی غیر قانونی تصورکیا جائے تاکہ بلڈرس کو اس قانون کے تحت درج رجسٹر کروایا جاسکے۔ بینک عہدیداروں کا کہنا یہ کہ بینک کسی بھی جائیداد کی خریداری کیلئے جائیداد کے قانونی پہلو ؤں کا جائزہ لیتے ہیں کیونکہ انہیں ان کی جانب سے فراہم کی جا رہی رقومات کی واپسی کی ضمانت ہونی ہوتی ہے اسی لئے وہ کسی غیر قانونی یا بغیر اجازت کی گئی تعمیر کی خریدی کیلئے قرض جاری نہیں کرتے اور حکومت نے رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ روشناس کرواتے ہوئے اسے منظور کروا یا ہے تو ایسی صورت میں اس قانون کی بھی پاسداری کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے اسی لئے بینکرس نے فیصلہ کیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت غیر رجسٹرڈ جائیدادوں و بلڈرس کی تعمیرات کو قرض فراہم نہیں کیا جائے کیونکہ تعمیر کرنے والے بلڈ رس ہی قوانین کی پاسداری نہیں کریں گے تو ایسی صورت میں بینک قرض کی فراہمی کے ذریعہ اپنی رقومات کو خطرات میں مبتلاء نہیں کرسکتا ۔رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلہ پر عمل آوری ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں چھوٹے رئیل اسٹیٹ تاجرین کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے روشناس کروایا گیا قانون اچھا ہے لیکن اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے اسی مسئلہ کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT