Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / فنڈس کی عدم منظوری سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ

فنڈس کی عدم منظوری سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ

شمس آباد گرام پنچایت کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری، سرپنچ کی پریس کانفرنس

شمس آباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) شمس آباد سرپنچ راچاملا سدیشور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمس آباد گرام پنچایت کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم منظوری سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت بننے کے بعد سے گرام پنچایتوں کو ٹرانسفر ڈیوٹی (TO)، سیوریج یس، اسٹیٹ فینانس، پروفیشن ٹیکس اور پرہیڈ گرانٹ Perhead Grant وغیرہ منظور نہیں کئے جارہے ہیں۔ شمس آباد گرام پنچایت کو 14 ویں فینانس مرکزی حکومت فنڈ اور گھریلو ٹیکس کی رقم پر ہی منحصر ہونا پڑرہا ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو شمس آباد کئی مسائل سے دوچار ہوجائے گا۔ شمس آباد ایرپورٹ کی جانب سے ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جارہا ہے جبکہ ایرپورٹ میں ملازمت کرنے والے افراد زیادہ تر کرایہ کے مکانوں میں رہ رہے ہیں جن کیلئے تمام سہولیات گرام پنچایت مہیا کررہی ہے لیکن GMR گروپ کی جانب سے خودمختاری کا سلسلہ جاری ہے۔ کچرے اور انڈر گراؤنڈ ڈرینج کا مسئلہ بڑھ گیا ہے اور موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی پانی کا مسئلہ بھی پیدا ہورہا ہے۔ ریاستی حکومت سے سرپنچ نے مطالبہ کیا کہ گرام پنچایت کو حاصل ہونے والے تمام فنڈس کو جلد از جلد منظور کریں تاکہ عوامی مسائل کو وقت پر حل کیا جاسکے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ گرما میں پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے شمس آباد گرام پنچایت کیلئے خصوصی فنڈ منظور کریں جس سے پانی کے بورس ڈال کر پانی کے مسئلہ کو حل کیا جاسکے۔ GO111 شمس آباد کے ساتھ 84 گاؤں کیلئے نحوست بنا ہوا ہے۔ جب تک GO111 برخاست نہیں ہوگا یہاں ترقی ناممکن ہے۔ حکومت کو کئی مرتبہ یادداشت پیش کی گئی کہ GO111 کو برخاست کریں یا اس میں تبدیلیاں لائے تاکہ عوام کو مکانات کی تعمیر کی اجازت دیں جس سے گرام پنچایتوں کو ٹیکس وصول ہوتا رہے اور ترقیاتی کام انجام دے سکے۔ اس موقع پر محمد شمس الدین ڈپٹی سرپنچ، اجئے، نریش، سریکانت گرام پنچایت ممبرس کے علاوہ نندراج گوڑ، کلم نرسمہا وغیرہ موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT