Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / فنی اساتذہ کے ساتھ 30 سال سے ناانصافی

فنی اساتذہ کے ساتھ 30 سال سے ناانصافی

روزگار سے مربوط ٹکنیکل جائدادوں پر تقررات کرنے حکومت سے مطالبہ
مدور /17 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد فضل الرحمن کے صحافتی بیان کے مطابق ٹکنیکل ٹیچرس کی بھرتی 1982ء میں آخری بار ہوئی تھی، لیکن ان پوسٹوں کی بھرتی کو تلگودیشم دور حکومت میں چیف منسٹر این ٹی راما راؤ نے یہ کہتے ہوئے برخاست کردیا تھا کہ یہ پوسٹ بیکار ہے، جب کہ اسکولی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹکنیکل تربیت بھی ضروری ہے، کیونکہ بچے اور بچیاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹکنیکل کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔ جیسے ٹیلرنگ، ایمبرائیڈری، ڈرائنگ وغیرہ میں مہارت حاصل کرکے روزگار حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے گارمنٹس بھی تیار کرسکتے ہیں۔ بہت دنوں سے چیف منسٹرس سے ان ٹکنیکل پوسٹوں کی بھرتی کے لئے نمائندگی کی گئی اور بالآخر ہائی کورٹ میں بھی اپیل کی گئی۔ آخر میں کورٹ کا فیصلہ ہوا کہ تمام ٹکنیکل ٹریننگ حاصل کرنے والے طلبہ کو اسکولوں میں بھرتی کیا جائے اور اس کے بعد حکومت ان پوسٹوں کو راجیو ودیا مشن، سروا سکھشا ابھیان کے تحت جن اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 100 سے زیادہ ہو، وہاں پر ٹکنیکل ٹیچر کی بھرتی کی اجازت ودیا کمیٹی کے چیرپرسن اور ہیڈ ماسٹر کو دی گئی اور وہ بھی ایک سال کے لئے کنٹراکٹ پر، جو کہ حکومت کی جانب سے سراسر ناانصافی ہے۔ حکومت سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سب کے ساتھ انصاف کرے۔ طلبہ کی تعداد خواہ 100 ہو، 80 یا 50 ہو، سب کا برابر کا حق ہے، لہذا سب کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے تمام اسکولوں میں ٹکنیکل کوالیفائڈ ٹیچرس کی بھرتی ڈی ایس سی 2016ء کے تحت کی جائے۔ اس طرح ٹکنیکل ٹرینڈ ٹیچرس کی بے روزگاری دور ہو جائے گی۔ ریاست تلنگانہ کے جلسوں میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تیقن دیا تھا کہ میں ٹکنیکل ٹیچرس کی بھی بھرتی کروں گا۔ اسی امید میں تمام لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا کہ لوگوں کو روٹی روزی حاصل ہوگی۔ اسی طرح کا تیقن ٹی ہریش راؤ نے بھی دیا تھا کہ ٹکنیکل ٹیچرس کی بھرتی کی جائے گی۔ کئی خواتین، لڑکیاں اور لڑکے چیف منسٹر سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ روزگار سے جڑ جائیں گے۔ چیف منسٹر اور ریاستی وزیر کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا کرکے لوگوں کی بے روزگاری دور کریں۔

TOPPOPULARRECENT