Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / فن خطاطی ایک مقدس اور بابرکت فن

فن خطاطی ایک مقدس اور بابرکت فن

سرزمین دکن خطاطی کے اساتذہ اور طلبہ کیلئے زرخیز،معروف خطاط سید موسیٰ سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : فن خطاطی ایک متبرک و مقدس فن ہے جو بندگان خدا کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک اذہان و قلوب کے سکون کا باعث بنتا ہے ۔ اس فن کو خیر و برکت والا فن کہا جائے تو بھی بیجا نہیں ہوگا ۔ عربوں ، ترکوں ، ایرانیوں اور برصغیر میں ہندوستانیوں اور پاکستانیوں نے اس فن کو نقطہ عروج پر پہنچایا ۔ سرزمین حیدرآباد دکن میں خاص طور پر قطب شاہی اور آصف جاہی حکومتوں میں فن خطاطی کی نہ صرف سرپرستی کی گئی بلکہ اسے فروغ بھی دیا گیا ۔ شاہی حکومتوں کے خاتمہ اور جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کے باوجود فن خطاطی کی شان و شوکت میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا کریڈٹ اپنے اپنے دور کے ممتاز و فنان خطاط صاحبین کو جاتا ہے ۔ حیدرآباد دکن میں ہر دور میں خطاطی کے غیر معمولی ماہرین پیدا ہوئے اور اس فن کے چمن کی آبیاری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ ایسے ہی خطاط صاحبین میں جناب سید موسیٰ ولد محترم سید یحییٰ خواجہ زادے میاں مرحوم ساکن چنچل گوڑہ بھی شامل ہیں ۔ حیدرآباد میں سید اشرف صاحب اور نعیم صابری صاحب اور ضمیر الدین نظامی صاحب سے خطاطی کی تربیت حاصل کرنے والے جناب سید موسیٰ نے شارجہ اسکول آف کیلی گرافی گورنمنٹ آف شارجہ سے خطاطی کا ڈپلوما کورس کیا جہاں انہیں عراق سے تعلق رکھنے والے خطاط محمد فاروق ، عدنان شریف اور الجزائر کے محمد نوری سے فن خطاطی سیکھنے کا موقع ملا ۔ سید موسیٰ نے ایک سوال کے جواب میں تایا کہ اگرچہ وہ 40 برسوں سے فن خطاطی سے وابستہ ہیں لیکن خطاط مسجد نبویؐ شفیق الزماں صاحب اور مکہ مکرمہ کے بیت الخطاطین کے ڈائرکٹر عبدالرحمن امجد صاحب سے ملاقات ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ۔ خطاطی کے ان اساتذہ سے انہوں نے کافی فیض حاصل کیا ۔ سید موسیٰ یومیہ 6 تا 8 گھنٹے اپنے گھر پر ہی قائم خصوصی گوشے میں خطاطی کے نمونے تیار کرتے رہتے ہیں ۔ انہیں اللہ تعالی نے قرآن مجید کا قلمی نسخہ تحریر کرنے کا اعزاز بھی بخشا جس کے لیے وہ بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجالاتے ہیں ۔ سید موسیٰ کے مطابق ادارہ سیاست کی جانب سے بانی سیاست عابد علی خاں صاحب مرحوم نے ’ پیغمبران حق ‘ کی ان سے ہی کتابت کروائی تھی یہ کتاب ڈاکٹر عقیل ہاشمی کی اہم تصانیف میں سے ایک شمار کی جاتی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں سید موسیٰ نے بتایا کہ انہیں اسے اس کام میں اپنی اہلیہ رفعت سلطانہ گزیٹیڈ ریٹائرڈ پرنسپل حکومت آندھرا پردیش کا خصوصی تعاون حاصل ہے جب کہ دوبئی میں مقیم تین اور حیدرآباد میں مقیم ایک بیٹی کے علاوہ امریکہ میں برسر خدمت ایک بیٹے کا بھی غیر معمولی تعاون حاصل رہا ۔ 70 سالہ سید موسیٰ کے مطابق دوبئی شارجہ اور حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم کے علاوہ بہادر یار جنگ ہال چنچل گوڑہ میں ان کے فن پاروں کی نمائش ہوچکی ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بھی ان کے فن کی ستائش کی ۔ سید موسیٰ نستعلیق ، نسخ ، ثلث اور جلی دیوانی پر عبور رکھتے ہیں ۔ ان کے مکان میں خطاطی کے ایک ہزار سے زائد نمونے موجود ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے تحریر کردہ الفاظ اپنے دیکھنے والوں سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ایسی کیفیت کسی بھی خطاط کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے ۔ تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے انہیں بہترین خطاط کا ایوارڈ بھی عطا کیا ۔ سید موسیٰ سے فون 9703159355 پر ربط کیا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT