Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / فواحش و منکرات کی اشاعت

فواحش و منکرات کی اشاعت

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ایسے کئی افرادکی وجہ ممکن ہوسکتی ہے ،جن کے نفوس کی تطہیرہو چکی ہو،اعلی انسانی اخلاق کے خوگرہوں، نیکی وبھلائی، عدل واحسان ،اوررشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کوپسندکرتے ہوں، فواحش و منکرات سے ہردرجہ نفرت کرتے ہوں،ایک اچھے معاشرے کوایسے ہی اعلی کردارکے انسان مطلوب ہوتے ہیں ،جس معاشرہ میں خیروبھلائی کوکنارے کردیاگیاہو،فواحش ومنکرات کورواج دے دیاگیا ہو، ا س معاشرہ سے خیرکی توقعات ختم ہو جاتی ہیں،اس وقت معاشرہ فواحش ومنکرات کے اشاعت کی آماجگاہ بناہواہے ،نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہﷺ کی یہ پیاری امت جوامت دعوت ہے اس کا کام ہی خیرکوپھیلانا معروف کی اشاعت کرنا،فواحش ومنکرات سے اپنا دامن بچاکرمعاشرہ میں پھیلی ہوئی اس برائی پر روک لگانا ہے ،وہی اگر اس وقت منکرات وفواحش کوعام کرنے کا ذریعہ بن جائے تو اس سے براوقت اورکیا ہوسکتاہے،ارشادباری ہے ’’بے شک اللہ سبحانہ تم کوہرمعاملہ میں انصاف کرنے اوربھلائی کی راہ اختیارکرنے اوررشتہ داروں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے کا حکم دیتا ہے ،اورفواحش ومنکرات ، بغاوت وسرکشی سے منع کرتاہے ،اللہ سبحانہ تم کو نصیحت کرتاہے تاکہ تم نصیحت کوقبول کرو‘‘۔(النحل۔ ۹۰)
امت مسلمہ کوتو خیر پسنداعمال اختیارکرکے اس آیت پاک کا عملی پیکرہوناچاہئے ،اس آیت پاک میں جن تین چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں پہلی چیز’’ الفحشاء‘‘ ہے ۔ جس کے معنی وہ تمام قبیح وناپسندیدہ اقوال وافعال ہیں،جن کی برائی اظہرمن الشمس ہو،بلا لحاظ مذہب وملت ہر کوئی ان کو براسمجھتا ہو ،اس لفظ میں بڑی وسعت ہے وہ سارے مخرب اخلاق امورجوافرادواقوام کے اخلاق وکردارکوتباہ وبرباد کردیتے ہیں ،وہ سب کے سب اس ایک لفظ ’’الفحشاء ‘‘میں شامل ہیں۔ علامہ بیضاوی رحمہ اللہ نے شرعی حدودکو پامال کرکے شہوات وخواہشات میں افراط کی راہ اختیارکرنے کو’’ الفحشاء‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
الغرض سارے بے حیا ئی کے کام ’’الفحشاء‘‘ کے دائرے میں آتے ہیں ،موجودہ دورایک طرح سے معانی کی تقلیب کا ہے ،بے حیائی کے کام کبھی برے مانے جاتے تھے اوران سے سبھی نفرت کرتے تھے ،اپنے اوراپنے گھرانے والوں کو بے حیائی کے کا موں سے روکنے کے سخت جتن کرتے تھے لیکن اب بے حیائی کے یہی اعمال واشغال تہذیب وتمدن کی ترقی،ایک  مہذب وشائستہ کلچرکی نشانی اورآرٹ مانے جانے لگے ہیں ، بے پردگی وبے حجابی ،فیشن پرستی ،مردوزن کا بے حجابانہ و بے باکانہ اختلاط رقص وسرود کی محافل ان کو کتنا ہی اچھے نام دے دیا جائے ان کی حقیقت نہیں بدل سکتی۔ زہرسے بھری ہوئی شیشی پرتریاق کا لیبل لگانے سے زہر تریاق نہیں ہوجاتا، بلکہ شئی کی حقیقت اپنی جگہ باقی رہتی ہے، رات رات ہے اوردن دن ہے ،اگرکوئی دن کورات اوررات کو دن قراردینے لگے تو جیسے اس کی پذیرائی ممکن نہیں اسی طرح اگرکوئی بے حیائی وبرائی کو حیا ء وخوبی سے تعبیر کرنے لگے اس سے کہیں زیا دہ ناقابل فہم ہے،انسانی اعلی اخلاقی اچھائیاں اورخوبیاں ہمیشہ سے مشرقی تہذیب کی شناخت رہے ہیں ۔مغربی تہذیب بے حیائی کے کاموں کو فروغ دینے کی ہمنوا رہی ہے ،اچھا ہو تا کہ مشرقی تہذیب کی چھاپ مغربی تہذیب پر پڑتی اورمغرب بھی مشرقی تہذیب وتمدن کے رنگ میں رنگ  جاتا،لیکن افسوس اس با ت کا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔یعنی معاشرہ کی وہ ساری خرابیاں بے حیائی وبرائی کے وہ سارے کا م جو مغرب کی تباہی وبربادی کا باعث بنے ہیں وہ مشرق میں درآمدکئے جارہے ہیں۔

حالیہ اخبارات میں یہ افسوس ناک خبرشائع ہو ئی کہ پرانے شہرکے ایک شادی خانہ میں خیرسے جوایک مسلم فردکی ملک ہے اوروہاں منعقدہونے والی تقریب ولیمہ بھی مسلم خاندان کی جانب سے انجام پا رہی تھی،اس تقریب ولیمہ کو جو اسلامی نقطہ نظرسے سنت ہے، اس کو تو سنت کے موافق ہی ہونا تھا لیکن اس تقریب سنت کو بے حیائی وبرائی نے کچھ ایسی لپیٹ میں لے لیا تھا کہ وہ تقریب سنت کے بجائے رقص وسرو د کی وجہ تقریب فسق وفجورمعلوم ہو رہی تھی ،گمان ہورہا تھا یہ کام کسی اورکی طرف سے تو ہو سکتاہے مسلمانوں کی طرف سے نہیں ،کسی صالح معاشرہ کے افرادکو اگرایسی کوئی خبرملے تو شائد وہ اپنی صالحیت کی وجہ یقین نہ کرپائیں ،لیکن ایساہوا ہے ۔آرکسٹراکی دھن پر نیم برہنہ ڈانس کروانے والی ایک تنظیم ا ورشادی خانہ کے مالک کو اس پاداش میں گرفتار کرلیا گیا ہے ،رقص وسرودکی یہ محفل رات دیرگئے تک چلتی رہی ،خیرپسندانسانوں کی آنکھیں جس کودیکھ نہیں سکتیں ،نیک وصالح انسانوں کے کان سن نہیں سکتے ،لیکن کیا کیا جائے ایسا ہواہے اوراکثرجگہ ہورہاہے قرآن پاک میں اس پر سخت وعیدواردہے ارشادہے ’’جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے ارزومندرہتے ہیں ان کے لیے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔(النور۱۹)
اللہ سبحانہ نے برائی وبے حیائی سے جھوٹے طورپر منسوب ایک خبرکی اشاعت پر اپنی ناراضگی کا اظہارفرمایا ہے ،اوریہ بھی کہ برائی کی اشاعت کے حصہ دارمسلمان نہیں ہو سکتے ،البتہ یہ ہو سکتاہے کہ جوایمان کی نعمت اور انسانی اقدار سے محروم ہیں وہ بے حیائی کو فروغ دینے میں اپنا کرداراداکریں ،یہ بھی اندازہ کریں کہ بے حیائی کی طرف منسوب ایک جھوٹی خبرکی اشاعت اگرکوئی بڑاگناہ اورجرم عظیم ہے توپھرسماج ومعاشرہ میں اخبارورسائل ٹی وی ،انٹرنیٹ ،فونس وغیرہ وغیرہ کے ذریعے بے حیائی وبے شرمی کے کاموں کوفروغ دینا اورگھرکے گھرکو اس برائی کی آگ میں جھونک دینا کتنا بڑاجرم ہو گا؟ہر گھرکے ذمہ داروں کا فرض ہے کہ ان بے حیائی وبے شرمی کی اشاعت کے سارے آلات جدیدہ پر سخت روک لگائیں ۔اوراپنے گھرانے والوں پر کٹری نظررکھیں ،ورنہ اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ انسان انسانیت کے جوہرسے محروم ہو جائیں ،۱۱ جنوری کے حوالہ سے ایک اورنیوز شائع ہوئی ہے کہ’’  اس وقت فحش سائٹس کے شائقین کی تعداد کے اعتبار سے ہندوستان تیسرے مقام پر ہے۔جبکہ  ۲۰۱۴؁ تک یہ مقام کناڈاکو حاصل تھا۔

’’پورن ہب‘‘ ہر سال سائٹ کی کامیابی سے متعلق سروے کراتاہے ،حالیہ سروے کے مطابق ہندوستانی روزانہ اوسطا کم ازکم ۹ منٹ ۳۰ سکنڈس تک اس سائٹ کی سیرکرتے ہیں۔اس سے قبل ہندوستانی زیادہ سے زیادہ ۸ منٹ تک اس کی سیرمیں گم راہ کرتے تھے۔جبکہ اس میں اب ایک منٹ ۳۰ سکنڈس کا اضافہ ہو چکاہے ،اس سائڈس کے شائقین میں اکثرنوجوان شامل ہیں، جورات کا اکثرحصہ اس سے حظ اندوز ہونے میں بسرکرتے ہیں ،  ۲۰۱۵؁میںبحیثیت مجموعی ۲. ۲۱ بلین افراد نے پورن ہب سائٹ کی سیرکی تھی،اس کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے ہرگھنٹہ ۲.۴ بلین یا پھرہر منٹ میں ۴۰ افرادنے اس سائٹ  سے استفادہ کیا ہے ،’’پورن ہب‘‘کے علاوہ دیگر فحش سائٹس بھی ہیں جن کی سیراسمارٹس فونس وغیرہ کے ذریعہ ہوتی ہے ‘‘ موجودہ دورکے نوایجاد وہ سارے آلات طرب جیسے :۔آلات موسیقی نیز ٹی وی ،ویڈیو اورفونس وغیرہ کی خریداری برے مقاصد کے لئے ، سفلی جذبات کو مشتعل کرنے والے قصے کہانیوں افسانوں اورڈراموں پر مشتمل کتابیں، جنسی ہیجان میں مبتلاء کرنے والے سنسنی خیز لٹریچرس، بے حیائی وبے شرمی کے واقعات اورحکایات یا ان کی تصاویرکی اشاعت کرنے والے اخبارات ورسائل وغیرہ وغیرہ کی خریدی اوران کی اشاعت ’’ لہوالحدیث ‘‘کی تعریف میں آتی ہے،قرآن پاک میں ان کے لئے سخت وعید وارد ہے ،موجودہ دورکے ایسے فنکارجوفواحش ومنکرات کی اشاعت کی وجہ اس ترقی یافتہ دورمیں فنکارکہلاتے ہیں ،خواہ وہ گانے بجانے ،ڈانس ورقص کرنے کا تمغہ افتخارحاصل کرچکے ہوںلیکن آخرت کی راہ انکے لئے کھوٹی ہے ،ارشادباری ہے’’لوگوں میں بعض و ہ بھی ہیں جو ایسی چیزوں کی خریداربنتے ہیں جو غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے علمی کے ساتھ لوگوں کوبہکایں اورہنسی وٹھٹا بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے رسواکن عذاب ہے ‘‘۔ ( لقمان ۔۶)
اسلام جو تصورحیات پیش کرتاہے اس کا رابطہ اخروی حیات سے جڑاہوا ہے، زندگی دی ہی اس لئے گئی ہے کہ اس کو آخرت کا توشہ تیار کرنے کے لئے استعمال کی جائے ،کردارسازی پرخاص توجہ دی جائے، اسلامی اعمال واشغا ل اختیا ر کرکے قلب و روح کو آسودگی بخشی جائے،حسن بندگی وحسن عمل سے اپنی آخرت کے ساتھ اپنی دنیا کی زندگی کو سنواراجائے،خودکو راہ حق پر گامزن رکھتے ہوئے دوسروں کو راہ حق پر لانے کے غم میں اپنے آپ کو گھلا یا جائے ،اپنی دینی فکری اورروحانی کیفیا ت کو اسلام کے سانچے میں ڈھال کر معاشرہ میں روشنی بکھیری جائے،نہ کہ وہ راہ اختیارکی جائے جو آزادروش کہی جاتی ہے ،اورجس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ناراض ہو تے ہیں ،اورآخرت کی نا کامی اورنامرادی حصے میں آتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT