Friday , September 22 2017
Home / پاکستان / فوجی عدالت سے ملنے والی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد معطل

فوجی عدالت سے ملنے والی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد معطل

اسلام آباد ۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دو افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پیر کو حیدر علی اور قاری ظاہر نامی مجرمان کو 16 دسمبر تک سزائے موت نہ دینے کا حکم دیا۔ سوات کے علاقے دیولئی سے تعلق رکھنے والے ملزم حیدر علی کو سکیورٹی فورسز نے 2009 میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ حیدر علی اور قاری ظاہر اْن چھ مجرموں میں شامل ہیں جنہیں فوجی عدالتوں نے کچھ عرصہ قبل سوات میں سکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔ ان دونوں کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو نہ تو وکیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور نہ ہی ان کے سزائے موت کے مقدمے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا اس صورتحال میں عدالت یا تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 10-Aکو ختم کر دے یا پھر ان سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس پر عدالت نے اپنے فیصلے میں حیدر علی اور قاری ظاہر کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے چیف جسٹس سے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے معاملے پر وسیع تر بنچ بنانے کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے بھی جاریہ برس اگست میں حیدر علی کی سزا پر عمل درآمد پر حکمِ امتناع جاری کیا تھا تاہم اس حکم کے اخراج کے بعد ان کے لواحقین نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT