Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / فوجی ملازمت ترک کرنے والے بھی ایک عہدہ ایک پنشن کیلئے اہل

فوجی ملازمت ترک کرنے والے بھی ایک عہدہ ایک پنشن کیلئے اہل

وزیراعظم نریندر مودی کی وضاحت ، وظیفہ یاب فوجیوں کی ہڑتال ختم لیکن بعض نکات پر احتجاج جاری

فریدآباد / نئی دہلی ۔ /6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج واضح کیا ہے کہ مسلح فورسیس کے جوان جنہوں نے قبل از وقت اپنی ملازمت ترک کردی انہیں او آر او پی (ایک عہدہ ایک پنشن) کے فوائد دیئے جائیں گے جن کا حکومت نے کل اعلان کیا ہے ۔ وزیراعظم کے اس بیان کا احتجاجی وظیفہ یاب ملازمین نے خیرمقدم کیا ہے اور بھوک ہڑتال ختم کردینے کا اعلان کیا ۔ تاہم ان کا احتجاج جاری رہے گا ۔ حکومت کی جانب سے وظیفہ یاب فوجی ملازمین کا دیرینہ او آر او پی مطالبہ کل قبول کرلیا گیا ۔ مودی نے قبل از وقت سبکدوشی کے فوائد کے بارے میں سابقہ فوجی ملازمین کو گمراہ کرنے کی کوششوں پر تنقید کی ۔ انہوں نے فریدآباد میں ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کا یہ احساس ہے کہ ایسے ملازمین جنہوں نے 15 تا 17 سال خدمات انجام دینے کے ملازمت ترک کردی وہ او آر او پی سے محروم رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام فوجی سپاہیوں کو خواہ وہ حوالدار ، سپاہی یا نائیک ہو ان فوائد کے مستحق ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اپنے جسم کا کوئی حصہ کھوچکے ہوں یا

جنہیں فوجی ملازمت ترک کرنی پڑی ہو کیا ایسے سپاہیوں کو او آر او پی سے محروم کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک وزیراعظم جو مسلح فورسیس سے محبت رکھتا ہے وہ کبھی ایسا سونچ بھی نہیں سکتا ۔ ان تمام کو او آر او پی فوائد ملیں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے قومی دارالحکومت کو ہریانہ کے شہر فریدآباد سے مربوط کرنے والی توسیعی بدرپور لائن کے افتتاح کیلئے آج دہلی میٹرو ٹرین کے ذریعہ سفر کیا۔ مودی آج صبح 10 بجے وائیلٹ لائن (لائن 6) جن پتھ اسٹیشن سے میٹرو ٹرین میں سوار ہوئے جو فریدآباد کے باٹا چوک اسٹیشن پہونچاتی ہے۔ ان کے اس سفر سے میٹرو مسافرین اور عہدیدار حیرت زدہ ہوگئے کیونکہ قبل ازیں انہوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ فریدآباد روانگی کا فیصلہ کیا تھا۔ میٹرو میں سفر کے دوران انہوں نے مسافرین سے بات چیت کی اور چند مسافرین ان کے ساتھ ’’سیلفی‘‘ لیتے رہے۔ مرکزی وزراء وینکیا نائیڈو، ویریندر سنگھ، راؤ اندر جیت سنگھ اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے سربراہ منگو سنگھ بھی وزیراعظم کے ساتھ اس سفر میں شامل تھے۔

اس دوران احتجاجی سابق فوجیوں نے ’’ایک رتبہ، ایک وظیفہ‘‘ (او آر او پی) پر عمل آوری کیلئے حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے آج اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم فیصلہ کیا کہ چند اہم مسائل کی یکسوئی تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ سابق فوجیوں نے کہا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق پانچ سالہ وقفہ کے بعد وظیفہ پر نظرثانی ان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ علاوہ ازیں او آر او پی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے ایک رکن جوڈیشیل کمیشن کا تقرر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ سابق فوجیوں کے احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم کے لیڈر میجر جنرل (ریٹائرڈ) ستبیرسنگھ نے کہا کہ سابق فوجیوں کی طرف سے اٹھائے گئے چار اہم نکات کو حکومت کی طرف سے قبول نہ کئے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری طرف سے اٹھائے گئے چار اہم نکات کو حکومت قبول نہیں کرلیتی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT