Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / فوج نے بابری مسجد منہدم کرنے والے کارسیوکوں کی فلمبندی کی تھی

فوج نے بابری مسجد منہدم کرنے والے کارسیوکوں کی فلمبندی کی تھی

نرسمہا راؤ نے احتیاطی تدابیر کیلئے میری تجاویز کو مسترد کردیا تھا : شرد پوار
نئی دہلی ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) این سی پی سربراہ شرد پوار جو نرسمہا راؤ دور حکومت میں وزیر دفاع اور سینئر کانگریس لیڈر تھے ، 6 ڈسمبر 1992 ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کی انہدامی کے موقع پر فوجی انٹلیجنس کو کارسیوکوں کی اس کارروائی کی خفیہ ریکارڈنگ کا حکم دیا تھا ۔ پوار نے حال ہی میں رونما اپنی خود نوشت سوانح حیات ’’میری شرط پر ‘‘ (بولتا شیر) میں انکشاف کیا ہے کہ یہ نہ جانتے ہوئے کہ اس دن کیا ہوگا جب وشواہندو پریشد نے 16 ویں صدی کی مسجد کی جگہ کارسیوا کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے (پوار) نے اپنے وزیراعظم آنجہانی نرسمہا راؤ سے کہا تھا کہ اس خطرہ سے نمٹنے کیلئے سخت موقف اختیار کیا جائے لیکن راؤ وہاں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں تھے‘‘ ۔ تدابیر کے تحت فوجی پلاٹونس کی تعیناتی کیلئے میری تجویز کو انہوں (نرسمہا راؤ) نے مسترد کردیا تھا ۔ تاہم میری تجویز مسترد کئے جانے کے بعد میں نے فوج کے شعبہ انٹلیجنس سے کہا تھا کہ 6 ڈسمبر کو متنازعہ مقام پر پیش آنے والے تمام واقعات کی فلمبندی کی جائے ۔  پوار نے کہا کہ کارسیوکوں کے ہاتھوں انہدامی کارروائی کے مختلف مرحلوں کی فلمبندی کرلی گئی ۔ شرد پوار نے جو اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر ہیں ، کہا کہ ’’انہدام نے نرسمہا راؤ کو ایک کمزور لیڈر کی حیثیت سے بینقاب کردیا ہے‘‘۔ تاہم پوار نے یہ بھی کہا کہ ’’ وہ (نرسمہا راؤ) بھی نہیں چاہتے تھے کہ انہدام ہوجائے لیکن اس کو رکونے کیلئے ضروری اقدامات نہیں کرسکے ‘‘۔ پوار کے مطابق اس وقت کے معتمد داخلہ جب راؤ کو بتا رہے تھے کہ کس طرح ان ہدام کارروائی انجام دی گئی ۔ وزیراعظم اس اجلاس میں اس طرح بیٹھے رہے جیسے ان پر سکتہ طاری ہوگیا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT