Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / فوج وسائل کے مستحقہ حصہ سے محروم: جنرل راوت

فوج وسائل کے مستحقہ حصہ سے محروم: جنرل راوت

پاکستان اور چین سے نمٹنے نئے حلیف ضروری ، سربراہ فوج کا خطاب
نئی دہلی 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مسلح افواج کو وسائل کا مستحقہ حصہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔ مسلح افواج وسائل کے مستحقہ حصہ سے محروم ہے۔ سربراہ فوج جنرل بپن راوت نے آج دفاعی اخراجات میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہندوستان کے دفاعی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جاسکے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کے دوران انھوں نے ملک پر زور دیا کہ نئے دوست اور حلیف تلاش کئے جائیں تاکہ مغربی اور شمالی سرحدوں کے دو پڑوسی ممالک سے نمٹا جاسکے۔ اُنھوں نے ہندوستان کی فوج کو مستحکم بنانے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ دفاعی دانشوروں سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہاں پر فوج کی طاقت اور معاشی ترقی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ جبکہ ہم صرف اپنی معیشت کو بہتر بنارہے ہیں۔ فوج کو اپنا مستحقہ حصہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چین سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ فوج اور معیشت کی ترقی ایک ساتھ ہونی چاہئے کیوں کہ دونوں قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں۔ 2017-18 ء کے لئے ہندوستان کا دفاعی بجٹ 2.74 لاکھ کروڑ روپئے تھا جو جی ڈی پی کا صرف 1.63 فیصد ہے۔ چین کی فوج 2017 ء کے لئے 152 ارب امریکی ڈالر اخراجات کا نشانہ مقرر کئے ہوئے ہے جو ملک کی جی ڈی پی کا 3 فیصد اور ہندوستان کے دفاعی بجٹ کا تین گنا زیادہ ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ صیانتی ماہرین اور دفاعی انتظامیہ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ فوج کی جدید کاری سست رفتار ہے اور حکومت کافی فنڈس اس کے لئے مختص نہیں کررہی ہے۔ علاقائی صیانتی صورتحال کے ارتقاء کے بارے میں جنرل راوت نے کہاکہ ہندوستان کو ایران، عراق اور افغانستان جیسے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا چاہئے تاکہ صیانتی تقاضوں کی تکمیل ہوسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ تقسیم سے پہلے ہندوستان کا کافی دفاعی اثر و رسوخ تھا۔ ہندوستان کے مغربی پڑوسی پاکستان نے ہندوستان کے لئے دوہری تذبذب کی حالت پیدا کردی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شمالی پڑوسی ملک چین کے ساتھ مسائل کی یکسوئی میں بھی کافی دشواریاں حائل ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں نئے حلیف اور دوست پیدا کرنے چاہئیں۔ موجودہ قلت اہمیت رکھتی ہے۔ سربراہ فوج نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے انتھک کوشش کرے۔ ہندوستان کو درپیش صیانتی چیالنجس کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ ہمیں اپنی قومی فوجی حکمت عملی کی شناخت کے قابل ہونا چاہئے۔ ہماری کوئی قومی فوجی حکمت عملی فی الحال نہیں ہے۔ ہندوستان کی ترقی کے لئے طاقتور فوج ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دفاع پر اخراجات کو عوام معیشت پر ایک بوجھ سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ ایک طاقتور فوج ہی معاشی ترقی کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT