Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / فوج کی نقل و حرکت کا تنازعہ پھر موضوع بحث

فوج کی نقل و حرکت کا تنازعہ پھر موضوع بحث

واقعہ بدبختانہ لیکن سچ ہے، منیش تیواری کا دعویٰ، وی کے سنگھ برہم

نئی دہلی۔10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے ایک سینئر لیڈر منیش تیواری نے 2012 ء کے دوران قومی دارالحکومت میں فوج کی نقل و حرکت کے تنازعہ کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے اس کو ’’بدبختانہ لیکن سچ‘‘ قرار دیا۔ میڈیا کی ایک رپورٹ نے فوج کی نقل و حرکت کو جنرل وی کے سنگھ کی جانب اقدام بغاوت سے تعبیر کیا تھا۔ منیش تیواری کے ان انکشافات کو خود ان کی پارٹی کانگریس نے سخت برہمی کے ساتھ مسترد کردیا اور فوج کے سابق سربراہ وی کے سنگھ نے بھی اس ادعا کی تردید کی ہے۔ منیش تیواری نے گزشتہ روز یہاں ایک کتاب کی رسم اجرائی کی تقریب کے دوران تقریباً چار سال قدیم اس مردہ تنازعہ کو عملاً قبر سے کھود نکالا تھا اور کہا تھا کہ ’’اس وقت میں دفاع کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات بھی انجام دے رہا تھا اور یہ (واقعہ) بدبختانہ لیکن سچ ہے۔ یہ کہانی صحیح تھی۔‘‘ منیش تیواری اکٹوبر 2012ء اور مئی 2014ء کے دوران یو پی اے حکومت میں مملکتی وزیر اطلاعات و نشریات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں کسی بحث میں ملوث نہیں ہورہا ہوں۔ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ میرے بہترین علم و معلومات کی بنیاد پر ہے اور یہ کہانی سچ ہے۔‘‘ کانگریس کے لیڈر سے دفاعی فورسس کے مسائل کی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ترسیل کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے ضمن میں انڈین ایکسپرس نے 4 اپریل 2012ء کو ’’جنوری کی شب رائے سینا ہل (اقتدار کے پائے تخت) میں تانک جھانک‘‘ کی سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع کی تھی اور لکھا تھا کہ فوج کی دو کلیدی یونٹوں نے حکومت کو مطلع کئے بغیر دہلی کی سمت پیشقدمی کی تھی۔ وی کے سنگھ نے جو اَب امور خارجہ کے مملکتی وزیر ہیں، تیواری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ (باتیں) اس شخص کی طرف سے کی گئی ہیں جس کے پاس اس کوئی کام نہیں ہے۔ وی کے سنگھ نے کہا کہ ’’ان دنوں ان (تیواری) کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ انہیں میری کتاب پڑھنے کے لئے کہنا چاہئے جس میں (اس مسئلہ پر) تمام انکشافات کئے گئے ہیں۔‘‘ کانگریس نے تیواری کے ادعا کو مسترد کردیا۔

اس پارٹی کے ایک ترجمان ابھیشیک مانو سنگھوی نے کہا کہ ’’میں وضاحت کرتا ہوں کہ ان دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ میرے ساتھ (تیواری) کبھی بھی کابینی کمیٹی برائے سکیوریٹی یا اور کسی دوسرے فیصلہ ساز ادارہ کے رکن نہیں تھے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT