Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / فوٹو کیلئے احتجاج، مسلمانوں کی ہلاکت پر نہیں

فوٹو کیلئے احتجاج، مسلمانوں کی ہلاکت پر نہیں

مقامی جماعت کے رکن اسمبلی کے احتجاج پر پروگرام میں تاخیر
حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) ملک بھر میں گاؤ رکھشا کے نام پر گاؤ دہشت گردوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور مرکزی حکومت کے واحد مسلم وزیر مختار عباس نقوی آج جب حیدرآباد کے دورہ پر تھے تو مقامی جماعت مجلس نے ہلاکتوں پر احتجاج کے بجائے تقریب میں مقامی رکن اسمبلی کی تصویر شامل نہ کرنے پر احتجاج کیا جس کے باعث مختار عباس نقوی کو پروگرام سے واپس لوٹنا پڑا۔ مختار عباس نقوی وجئے نگر کالونی میں غریب نواز کوشل وکاس کیندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے وجئے نگر کالونی پہنچے۔ رکن اسمبلی کے حامیوں نے تقریب میں رکن اسمبلی کی تصویر چسپاں نہ کئے جانے پر احتجاج کیا اور وہ پروگرام میں رکاوٹ بن گئے۔ آخر کار مختار عباس نقوی کو پروگرام کے بغیر واپس ہونا پڑا ۔ عجلت میں حکام نے مقامی رکن اسمبلی کی تصویر کو چسپاں کیا جس کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مصالحت کامیاب رہی اور مقامی جماعت کے رکن اسمبلی نے مختار عباس نقوی کو آنے کا مشورہ دیا۔ بعد میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔ اسی طرح کے احتجاج کے خوف سے حج ہاوز میں ٹیکہ اندازی کیمپ کی تقریب کے مقام پر نامپلی کے رکن اسمبلی کی تصویر کو عجلت میں چسپاں کیا گیا۔ حج ہاوز کی تقریب کے موقع پر مسلم تنظیموں کی جانب سے احتجاج کی اطلاع ملنے پر نامپلی کے رکن اسمبلی نے اپنی تقریر میں رسمی طور پر گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کی ہلاکتوں کا مسئلہ اٹھایا اور مختار عباس نقوی سے خواہش کہ وہ اس مسئلہ پر اظہار خیال کریں۔ تقریب میں موجود مسلمانوں کا یہ احساس تھا کہ مقامی جماعت کی قیادت جلسہ عام اور پریس کانفرنس و بیانات کے ذریعہ مرکز کے خلاف اظہار خیال کرتی ہے لیکن جب مرکز کے نمائندوں سے جب احتجاج درج کرانے کا موقع آئے تو وہ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔مقامی جماعت کے ایک کارکن نے کہا کہ عازمین حج کے ٹیکہ اندازی کیمپ میں کسی قسم کے احتجاج کے سلسلہ میں قیادت نے منع کرتے ہوئے ’’ ہدایت‘‘ دی تھی جبکہ کارکن مختار عباس نقوی کی موجودگی میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے بے چین تھے لیکن قیادت کی ’’ ہدایت ‘‘ سے انہیں مایوسی ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT