Friday , September 22 2017
Home / مضامین / فکری آزادی کے امریکی قوانین جوہری اسلحہ سے خطرناک

فکری آزادی کے امریکی قوانین جوہری اسلحہ سے خطرناک

محمد مبشر الدین خرم
امریکہ میں نظام عدلیہ اور قانون پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے جس طرح اقدامات کئے گئے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ اس طریقہ کار کو دیگر ممالک کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے چونکہ امریکہ کے نظام عدلیہ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر نہیں کی جاتی بلکہ جتنا جلد ہوسکے مقدمات کی یکسوئی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح امریکی نظام عدلیہ میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ عدالت میں جو ججس تقرر کئے جاتے ہیں وہ نامزد کردہ نہیں ہوتے بلکہ اس میں بڑی تعداد منتخبہ بھی ہوتی ہے۔ نظام عدلیہ کو بہتر بنانے کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انصاف رسانی کے عمل کو آسان بنانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ عوام کے ہر طبقہ کو نہ صرف عدالت سے رجوع ہونے کا اختیار حاصل ہے بلکہ وہ اپنے استدلال عدلیہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے انصاف کے حصول کیلئے کوشش کرسکتے ہیں اور عدلیہ ثبوت و شواہد کی بنیاد پر امریکی قوانین کے مطابق عاجلانہ فیصلوں پر یقین رکھتی ہے۔
امریکی معاشرہ اور قانون میں ملازم طبقہ کو کافی حقوق حاصل ہے اور ملازمین کیلئے مختلف تنظیموں کے علاوہ اٹارنی فرمس کی جانب سے خصوصی مراعات کی پیشکش کی جاتی ہے تاکہ ان کے حقوق کی لڑائی کو آسان بنایا جاسکے۔ حکومت کی جانب سے مزدور طبقہ کے حقوق کے تحفظ کے علاوہ انہیں حاصل مراعات کو بہم پہنچانے کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں، ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ تمام امریکی ریاستوں میں تجارتی مراکز کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اداروں میں لیبر قوانین کو آویزاں کریں تاکہ خود ملازمین اور مزدور طبقہ کو بھی اس بات سے وقفیت حاصل رہے کہ اسے قانون میں کیا حقوق حاصل ہیں۔ علاوہ ازیں عوام بھی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ محکمہ و ادارہ سے شکایات کرسکیں۔ امریکی عوام جو کہ قوانین کی پاسداری کے متعلق عموماً سنجیدگی دکھاتی ہے، کی جانب سے کسی بھی تجارتی مرکز نے لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر فوری شکایت کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا اور ادارہ جات شکایات پر فوری متوجہ ہوتے ہوئے تحقیق کا آغاز کردیتے ہیں جس کے نتیجہ میں نہ صرف ملازمین و مزدور طبقہ کو حقوق حاصل ہوتے ہیں بلکہ عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نظام حکومت کا حصہ بنی رہتی ہے۔

یوں تو امریکہ ایک آزاد خیال مملکت تصور کیا جاتا ہے جہاں ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن امریکہ میں بچوں کی پرورش کے متعلق سخت قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔ بچوں کو رات 8 بجے کے بعد اکیلے گھر سے باہر جانے دینا والدین کیلئے قابل سزا جرم ہے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو رات 8 بجے کے بعد کسی بھی غرض سے گھر سے تنہا نکلنے دینا ناقابل معافی جرم تصور کیا جاتا ہے اور پہلی اور دوسری مرتبہ جرمانے عائد کرنے کے بعد تیسری مرتبہ سزائے قید تک کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ ماہرین قانون کے بموجب 18 سال سے کم عمر بچوں کو رات کے اوقات میں تنہا نکلنے نہ دیا جانا حالات کے اعتبار سے بہتر ہے اسی لئے خود عوام بھی اس قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ اس قانون کی خامیوں کے متعلق جاننے کی کوشش پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18 سال کے دوران بچوں کی دلچسپیوں کو کھیل کود تک رکھنے کے نتیجہ میں بچوں میں کھیلوں کا رجحان زیادہ دکھائی دیتا ہے اور جب18 سال بعد انہیں آزادی حاصل ہوتی ہے تو اس پر والدین کو کنٹرول کا حق حاصل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ 18 سال کی عمر کے بعد والدین کو بھی اس بات کا بھی حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرسکیں لیکن بیشتر سلیقہ مند اور سماجی آداب والے خاندان ان 18 برسوں کے دوران بچوں کی بہتر تربیت کو یقینی بنانے پر توجہ دیتے ہیں جبکہ آزاد خیال اور معاشرتی بندشوں سے بے پرواہ خاندان اس مسئلہ پر توجہ نہیں دے پاتے جس کے نتیجہ میں بگاڑ  ظاہر ہونے لگتا ہے۔
امریکی قوانین میں تمام مذاہب پر یکساں حقوق فراہم کئے گئے ہیں اور ہر مذہب کو اپنے نظریہ اور موقف کو آزادانہ طور پر پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ان اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بیشتر مذاہب کے رہنما مشترکہ نشستوں کا اہتمام کرتے ہوئے اپنے موقف و استدلال کو پیش کرتے ہیں تاکہ اپنے مذہب کی تبلیغ کو آسان بنایا جاسکے۔ اس طرح کے بین مذہبی مذاکرات میں نہ صرف امریکی علماء بلکہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے بشمول ہندوستانی و حیدرآبادی علمائے اکرام دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہیں۔ امریکی مساجد میں جہاں خطبہ جمعہ اکثر انگریزی میں دیا جاتا ہے ، وہ عوام کی رائے میں بہتر ہے چونکہ خطبہ کے درمیان دی جانے والی ہدایات اور احکام کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ بیشتر مساجد میں نہ صرف خطبہ انگریزی میں دیا جاتا ہے بلکہ مسجد کی صفوں میں ترجمہ کی مشینیں رکھی گئی ہیں جس کے ذریعہ عربی کے علاوہ علاقہ کے مکینوں کی زبان کے اعتبار سے ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ بین مذہبی مذاکرات کے علاوہ مسلمانوں کو اپنے اجتماعات کے انعقاد کی اجازت حاصل ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ تقریباً ہر مسجد پر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں تاکہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا رہے۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اپنے مذہبی رسومات انجام دہی کیلئے اجازت حاصل ہے اور وہ آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عمل کرسکتے ہیں۔

عمومی طور پر امریکی حکومت کا مذہبی نظریہ عیسائیت پر مبنی ہے اور وائیٹ ہاؤز کے قریب موجود چرچ میں مذہبی عبادات میں شرکت تقریباً ہر امریکی صدر کا طریقہ کار رہا ہے، جب وہ منتخب ہوتا ہے تو چرچ میں حاضری ضرور دیتا ہے۔ اسی طرح ملک کی مختلف ریاستوں میں عیسائی مشنریوں کی جانب سے وسیع پیمانہ پر نہ صرف انسانی ہمدردی اور خدمت کے کام انجام دیئے جاتے ہیں بلکہ ان کاموں کے پس پردہ تبدیلی مذہب کا بھی بڑا کام انجام دیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں کئی مشنری تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر عشائیوں کا اہتمام کرتے ہوئے سرکاری منتخبہ و نامزد کردہ عہدیداروں کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ انہیں اس مذہبی کام کی انجام دہی میں سرکاری مدد حاصل ہے۔ امریکی عہدیدار راست طور پر اس بات کا اعتراف نہیں کرتے کہ امریکہ مجموعی اعتبار سے عیسائی مملکت ہے لیکن اپنے عمل کے ذریعہ اس بات کو بارہا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امریکی حکومت کو خدا کی ذات پر اعتماد ہے اور اسی بنیاد پر امریکہ کا طرز حکمرانی چلایا جارہا ہے۔

امریکی دورہ کے آغاز کے ساتھ ہی گروپ میں شامل ایک صحافی نے ایک جملہ کہا تھا کہ احباب وطن اب ہم امریکہ میں ہے اسی لئے ہمیں نظر، نظریہ اور نفس کی حفاظت کرنی چاہئے لیکن امریکہ کے ایک ماہ طویل دورہ کے دوران یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ امریکہ میں اگر ذہن، فکر اور ایمان سلامت رہے تو نظر ، نظریہ اور نفس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی چونکہ امریکہ جو نظریں دیکھتی ہیں ، اس کا تعلق امریکی تہذیب سے اور جہاں تک امریکہ کے متعلق نظریہ کی بات ہے، اس کا انحصار امریکی حکومتوں کے پالیسی ساز فیصلوں پر ہوتا ہے۔ اگر امریکہ کی کوئی پالیسی اچھی ہو تو اس کے متعلق عام نظریہ سے ہٹ کر امریکہ کی تائید کئے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ اسی طرح نفس پر کنٹرول دلوں میں موجود خوف خدا وندی پر منحصر ہے۔ اگر کوئی اس خوف سے عاری ہو تو اس کیلئے امریکہ شائد جنت ہے جبکہ خوف خدا کے ساتھ کسی بھی مقام پر اپنے نفس پر قابو کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ نظر، نظریہ اور نفس کا خیال رکھتے ہوئے امریکی عہدیداروں سے بات چیت کا تصور کرنا بھی امریکی تہذیب کے منافی ہے چونکہ امریکی تہذیب آزادانہ طور پر گفتگو کی حمایت کرتی ہے اور اپنے نظریات کو رکھنے کا کھلا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔

صحافتی اداروں کو امریکی قوانین میں مکمل آزادی فراہم کی گئی ہے اور حکومتوں کی جانب سے صحافتی اداروں پر کسی قسم کے کنٹرول کیلئے کوششیں نہیں کی جاتی جس کے نتیجہ میں امریکی ذرائع ابلاغ نے مخالف امریکی نظریات کو بھی پیش کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی اور اگر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھی کوئی رائے پیش کی جائے اور اس رائے کے متعلق جواز موجود ہوں تو سرکاری اداروں کی جانب سے ان کا احترام بھی کیا جاتا ہے اور پالیسی پر از سر نو غور بھی کیا جاتا ہے لیکن مجموعی اعتبار سے صحافتی اداروں کے نظریات امریکی حکومتوں کے حامی ہی تصور کئے جاتے ہیں ۔ بعض ادارے ایسے بھی ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کرتے ہیں۔ بعض ٹی وی چیانلس کو امریکی معاشرہ میں کافی مقبولیت حاصل ہے لیکن ان ٹی وی چیانلس کی جانب سے پیش کئے جانے والا مواد بالواسطہ طور پر مخالف مسلم ذہن سازی کا ہوا کرتا ہے۔ اس  طرح چیانلس کا جواب دینے کیلئے کوئی نیٹ ورک موجود نہیں ہے مگر ہر ریاست میں چھوٹی سطح پر ہی سہی مسلمانوں کے اپنے اخبار موجود ہیں جو اپنی آواز حکومتوں تک پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان اخباروں کا تعلق مختلف تنظیموں سے ہوا کرتا ہے جو اپنے طورپر اخبارات کی اشاعت کے ذریعہ معاشرتی مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن حکومت کی نظریں ان اخبارات میں شائع ہونے والے مواد پر بھی ہوتی ہیں چونکہ یہ مواد علاقائی فکر کی عکاسی کرتا ہے اور حکومت ان اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کے ذریعہ اپنے شہریوں کی فکر کے متعلق تفصیلات حاصل کرلیتی ہے۔
فکری آزادی پر مشتمل امریکی قوانین نے حالیہ عرصہ میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہوئے جو تباہی کا سامان تیار کیا ہے ، اسے دیکھتے ہوئے یہ جاسکتا ہے کہ اب امریکہ کو کسی اور ملک کی نیوکلیئر پالیسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ نیوکلیئر سے زیادہ خطرناک ہتھیار خود امریکی حکومت و نظام عدلیہ نے اپنے شہریوںکو حوالے کردیا ہے جو کہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ بلکہ معاشرتی زندگی کے خاتمہ کا سبب بنے گا۔ شائد امریکہ میں اس بات کا احساس جلد نہ ہو کیونکہ امریکہ معاشرتی زندگی اور خاندانی بندشوں سے آزاد ہے۔ مگر جس وقت اس بات کا احساس ہوگا ، اس وقت تک تباہی ملک کا مقدر بن چکی ہوگی۔
@infomubashir
[email protected]

TOPPOPULARRECENT