Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / فیس باز ادائیگی اسکیم اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کیلئے آمدنی کا ذریعہ

فیس باز ادائیگی اسکیم اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کیلئے آمدنی کا ذریعہ

کالجس اور عہدیداروں کی بدعنوانیاں، ہزار ہا طلبہ حصول اسکالر شپس سے محروم، سید عمر جلیل کا جائزہ
حیدرآباد۔/7 نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں تیزی کی ہدایت کے بعد فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ سے متعلق 2014-15 کے بقایا جات جاریہ ماہ مکمل طور پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ گزشتہ سال کی تمام زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے بجٹ جاری کردیں۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ جاریہ سال کیلئے درخواستوں کی یکسوئی اور جانچ کا کام جلد سے جلد شروع کیا جانا چاہیئے تاکہ طلبہ کو کالجس میں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ حکومت نے جاریہ سال پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے 100کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے تھے جس میں سے 50کروڑ جاری کئے گئے اور ابھی تک 25کروڑ روپئے بطور اسکالر شپ جاری کئے گئے ہیں۔ فیس باز ادائیگی کیلئے بجٹ میں 425 کروڑ مختص کئے گئے تھے جس میں 90کروڑ جاری کئے گئے اور بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک 83کروڑ مختلف کالجس کو جاری ہوچکے ہیں۔ اسی دوران مذکورہ دونوں اسکیمات کے سلسلہ میں حکومت کو کئی شکایات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس باز ادائیگی کی رقم چونکہ راست طور پر کالجس کو جاری کی جاتی ہے لہذا متعلقہ عہدیدار اس رقم کی اجرائی کیلئے اپنے کمیشن کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جب تک کالج کی جانب سے مطالبہ کی تکمیل نہیں کی جاتی اسوقت تک رقم جاری نہیں کی جاتی۔ کالجس نے شکایت کی کہ انہیں حاصل ہونے والی رقم کی بنیاد پر کمیشن کا تعین کیا جاتا ہے اور وہ عہدیداروں کو کمیشن کی ادائیگی کیلئے مجبور ہیں ورنہ انہیں بجٹ کیلئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور روزانہ کچھ نہ کچھ بہانہ بناکر ٹال دیا جاتا ہے۔ اس طرح فیس بازادائیگی اسکیم اقلیتی بہبود کے متعلقہ عہدیداروں کیلئے آمدنی کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے بقایا جاتا کئی کالجس کو ابھی تک جاری نہیں کئے گئے کیونکہ انہوں نے کمیشن کی ادائیگی سے انکار کردیا۔ کالجس کی شکایت ہے کہ وہ بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے کالجس چلا رہے ہیں اور طلبہ کی فیس کے طور پر لاکھوں روپئے کی عدم اجرائی کے باعث انہیں مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اسکیم میں بعض کالجس میں طلبہ کی تعداد غلط ظاہر کرتے ہوئے بھی رقومات حاصل کی جارہی ہیں۔ طلبہ نے ریاست کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے حصول میں ناکامی کی شکایت کی ہے۔ کئی کالجس کے طلبہ نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے مقررہ اسکالر شپ جاری نہیں کی گئی بلکہ نصف یا اس سے کم رقم جاری کی گئی۔ اس سلسلہ میں جب عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے بجٹ کی عدم اجرائی کا بہانہ بنادیا۔ اس طرح ہر سال ہزاروں طلبہ مکمل اسکالر شپ فیس سے محروم ہیں۔ طلبہ نے بتایا کہ اگر ان کی اسکالر شپ 6ہزار ہے تو ایک سال میں صرف دیڑھ ہزار روپئے جاری کئے گئے۔ بعض عہدیداروں نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ان بے قاعدگیوںکا اعتراف کیا اور کہا کہ بجٹ کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طالب علم کو مکمل اسکالر شپ کی رقم جاری کی جانی چاہیئے۔ کم رقم کی اجرائی کی صورت میں کورس کی تکمیل تک بھی طلبہ کو مکمل اسکالر شپ کے حصول کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر اور حج ہاوز میں واقع دفاتر کو روزانہ اسی شکایت کے ساتھ کئی طلبہ رجوع ہورہے ہیں۔ بعض طلبہ نے ’سیاست‘ کے ہیلپ لائن سنٹر پہنچ کر مکمل اسکالر شپ جاری نہ کرنے کی شکایت کی۔ عہدیدار اس مسئلہ پر تشفی بخش جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT