Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / فیس باز ادائیگی اسکیم پر سرد مہری سے طلباء کا مستقبل تاریک

فیس باز ادائیگی اسکیم پر سرد مہری سے طلباء کا مستقبل تاریک

انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے خواہاں طلباء کے لیے مشکلات
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت کی فیس باز ادائیگی اسکیم کے متعلق اختیار کردہ سرد مہری آیا ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ کا موجب تو نہیں بن رہی ؟ ایمسیٹ 2016 کے لیے درخواستوں کے ادخال کے آغاز اور طلبہ کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے عہدیدار حیرت زدہ ہیں چونکہ ایمسیٹ کے لیے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی طلبہ درخواستوں کے ادخال کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ہوتے تھے لیکن ایمسیٹ 2016 کے لیے 28 فروری سے آن لائن درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع ہوچکا ہے لیکن تاحال کوئی حوصلہ افزاء ردعمل نظر نہیں آرہا ہے ۔ ریاست میں ایمسیٹ امتحان کا انعقاد 2 مئی کو ہوگا اور اس میں شرکت کے لیے درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ 28 مارچ ہے لیکن اب تک درخواستوں کے ادخال کی جو صورتحال ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انجینئرنگ میں داخلے کے خواہش مندوں کے رجحانات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں چونکہ تاحال صرف 16,500 انجینئرنگ میں داخلے کے لیے اہلیتی امتحان تحریر کرنے کے خواہش مندوں نے درخواستیں داخل کی ہیں جب کہ میڈیسن میں داخلہ کے خواہش مندوں کی تعداد انجینئرنگ کے درخواست گذاروں کی تعداد سے تجاوز کرچکی ہے ۔ میڈیسن میں اہلیتی امتحان تحریر کرنے کے خواہش مند 20,433 درخواست گذاروں نے اب تک درخواستیں داخل کردی ہیں ۔ ماہرین تعلیم بالخصوص کالج ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی اسکیم میں اختیار کردہ رویہ کے باعث طلبہ میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی سال 2015-16 کے درمیان داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی فیس باز ادائیگی کے عمل کا اب تک آغاز نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی واضح احکامات جاری کئے گئے ۔ 2015-16 کے فیس باز ادائیگی کے معاملات کی یکسوئی کی گئی اور نہ ہی تجدید کے عمل کا آغاز ہوا جس سے طلبہ کی حوصلہ شکنی ہونے لگی ہے ۔ ایمسیٹ 2016 کے لیے درخواستوں کی تعداد کم ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن فیس باز ادائیگی کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ بھی اہم ہے چونکہ جو طلبہ انجینئرنگ میں داخلہ کی خواہش رکھتے تھے لیکن فیس ادا کرنے کے متحمل نہیں تھے وہ حکومت کی اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے تعلیم حاصل کررہے تھے اور سال 2004 سے ریاست میں نہ صرف انجینئرنگ کے طلبہ کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا بلکہ جن پروفیشنل کورسیس کی فیس حکومت کی جانب سے ادا کی جارہی ہے ان میں طلبہ نے دلچسپی لینی شروع کردی تھی لیکن گزشتہ دو برسوں کے دوران جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے اثرات نہ صرف طلبہ پر مرتب ہورہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات کالجس پر بھی ہونے کا خدشہ ہے ۔ تلنگانہ ایمسیٹ کنوینر کے بموجب انہیں توقع ہے کہ آخری تاریخ تک درخواستوں کے ادخال میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور امیدواروں کی تعداد سال گزشتہ کی تعداد سے تجاوز کرجائے گی ۔ ذرائع کے بموجب فی الحال جو درخواستوں کے ادخال کا عمل جاری ہے ۔ اس میں نظر آرہی سست رفتاری درحقیقت امتحانات کے سبب ہے اور انٹر میڈیٹ امتحانات کے فوری بعد درخواستوں کے ادخال میں تیزی پیدا ہونے کا امکان ہے ۔ سال گذشتہ یعنی ایمسیٹ 2015 میں 1,39,682 امیدواروں نے شرکت کی تھی جب کہ ایمسیٹ 2014 میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 1,26,071 رہی تھی ۔ ایمسیٹ 2016 کے لیے اب تک داخل کی گئی درخواستوں میں میڈیسن کے لیے 20,433 امیدوار ہیں جن میں 13,434 لڑکیاں ہیں ۔ جملہ جو درخواستیں وصول ہوئی ہیں ان کی تعداد 37,339 ہے اور ان میں 19,921 لڑکیاں شامل ہیں جنہوں نے انجینئرنگ و میڈیسن کے زمرے میں اہلیتی امتحان تحریر کرنے کے لیے درخواستیں داخل کی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT