Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / فیس باز ادائیگی پھر کٹھائی میں

فیس باز ادائیگی پھر کٹھائی میں

حکومت کی مدد پر مکمل منحصر کالجس بند ہوجائیں گے
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بڑی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے تلنگانہ ریاست کی معیشت پر منفی اثرات آمدنی میں کمی کے اندیشوں کی وجہ سے سمجھا جارہا ہے کہ فیس باز ادائیگی اسکیم ایک بار پھر کٹھائی میں پڑ جائیگی ۔ پہلے ہی گذشتہ دو سال سے فیس باز ادائیگی کا عمل رکا ہوا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ خود اندیشہ مند ہیں کہ ریاست کی آمدنی میں 2 ہزار کروڑ روپئے کی کمی ہوگی ۔ کالجس کے انتظامیہ اندیشہ مند ہیں کہ فیس باز ادائیگی اسکیم بری طرح زد میں آئے گی ۔ حکومت فیس ادائیگی اسکیم کے سلسلہ میں 2 ہزار 50 کروڑ روپئے باقی ہے ۔ کالجس بند کردینے کی انتظامیہ کی دھمکی کے بعد حکومت نے کچھ رقم جاری کی جو ناکافی ہے ۔ حال میں 258 کروڑ روپئے جاری کیے گئے ۔ حکومت نے چھ سو کروڑ روپئے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ کالجس کے انتظامیہ نے کہا کہ منظورہ رقم ان تک ہنوز نہیں پہونچی ہے ۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز تک تمام بقایہ جات جاری کردئیے جائیں گے ۔ لیکن ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے پیش نظر کالجس مینجمنٹ کے نمائندوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری اور وزیر برقی جی جگدیش ریڈی سے ملاقات کی اور حالات سے واقف کرایا ۔ ان وزراء نے ضروری اقدام کرنے کا تیقن دیا ۔ محکمہ تعلیم کے سینئیر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی آمدنی میں کمی یقینی ہے اور فیس باز ادائیگی حکومت کی ترجیحی فہرست میں نہیں ہے ۔ جب تک مرکز مدد نہ کرے ریاستی حکومت کچھ نہیں کرسکتی ۔ کالج مینجمنٹس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ فیس باز ادائیگی فوری نہ ہوئی تو خاص کر دیہی علاقوں میں چھوٹے اور اوسط کالجس بند ہوجائیں گے کیوں کہ ان کالجس کا پورا انحصار حکومت کی مدد پر ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT