Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / فیس باز ادائیگی کی بہت جلد اجرائی، اقلیتی طلبہ کو بھی تمام مراعات کا تیقن

فیس باز ادائیگی کی بہت جلد اجرائی، اقلیتی طلبہ کو بھی تمام مراعات کا تیقن

نوٹ بندی کی وجہ سے بھی تاخیر ، غیر معیاری کالجس بندکردیئے جائیں گے ،بی ایڈ اور جونیر کالجس کی تعداد میں کمی ہوگی:کے سی آر

حیدرآباد۔/4جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ریاست میں تعلیمی بحران ہونے کی تردید کرتے ہوئے سیاسی مفادات کی خاطر عوام کے جذبات نہ بھڑکانے اور طلبہ میں تجسس پیدا نہ کرنے کا اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فیس بازادائیگی اسکیم کو جاری رکھا جائے گا اور بہت جلد بقایا جات جاری کئے جائیں گے۔ ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کے طرز پر اقلیتی طلبہ کو بھی تمام مراعات فراہم کئے جائیں گے۔ غیر معیاری اور انفراسٹراکچر سے خالی کالجس کو بند کردیا جائے گا۔ کالجس انتظامیہ نے بغیر کسی دباؤ کے رضاکارانہ طور پر 100 انجینئرنگ کالجس کی تعداد گھٹائی ہے، اگر حکومت کارروائی کرتی تو250 انجینئرنگ کالجس بند ہوجاتے تھے۔ چیف منسٹر کے بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت اعتراض کیا۔ کانگریس، تلگودیشم اور سی پی ایم کے ارکان اسمبلی نے اسپیکر پوڈیم کے قریب بیٹھ کر احتجاج کیا جبکہ بی جے پی نے اپنی نشستوں پر بیٹھ کر احتجاج کیا۔ مجلس نے اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا۔ اسمبلی میں فیس ری ایمبرسمنٹ کے مختصر مباحث میں جواب دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں شروع کی گئی اسکیم کو علحدہ تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس نے برقرار رکھا ہے جو قاعدہ قانون کانگریس حکومت نے تیار کیا تھا اس پر جوں کا توں عمل کیا جارہا ہے جس میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی گئی۔ علحدہ تلنگانہ ریاست قائم ہونے تک کانگریس نے وراثت میں ٹی آر ایس کو اس اسکیم کے 1880 کروڑ روپئے بقایا جات تحفے میں دیئے تھے اس اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 6843 ہے جس میں 1293 سرکاری اور 5550 خانگی تعلیمی ادارے ہیں، تلنگانہ حکومت نے ابھی تک 4687.72 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جو بھی بقایا جات ہیں وہ بھی جلدی ہی جاری کئے جائیں گے۔ جاریہ سال 1487 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ سے مزید فنڈز کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کئی ایسے خانگی کالجس ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ تعلیمی معیار بہتر نہیں ہے  اور نہ ہی کالجس میں انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتیں ہیں۔ مختلف کارپوریٹ اداروں نے غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے کیمپس  تقررات کو روک دیا ہے وہ  کالجس انتظامیہ کے نمائندوں کو طلب کرتے ہوئے نقائص سے انہیں واقف کروایا ہے جس پر انہوں نے خامیوں کا اعتراف کیا ہے اور اس کو درست کرنے کیلئے انہیں سال دیڑھ سال کا وقفہ دیا گیا ہے۔ ان کے مشورہ پر کئی کالجس انتظامیہ نے اپنے دو یا تین کالجس کو ایک دوسرے میں ضم کیا ہے جس سے 103 کالجس کی تعداد گھٹ گئی ہے، اگر وہ کارروائی کرتے تو 250 کالجس کی تعداد گھٹ جاتی تھی۔ انہوں نے معیاری تعلیم کا جائزہ لینے کیلئے ویجلنس کے دھاوے کرائے ہیں، خرابیوں کو کہیں نہ کہیں روکنا ضروری ہے۔ ریاست میں طلبہ سے زیادہ انجینئرنگ کالجس ہیں ان کی تعداد گھٹنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی بی ایڈ اور جونیر کالجس بھی گھٹائے جائیں گے۔ کیونکہ ہر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دینا ضروری نہیں ہے۔ ریاست میں  جملہ ملازمین کی تعداد 3.15 لاکھ ہے۔ ریٹائرمنٹ کے تحت تقررات کئے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں ہر مسئلہ کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں، متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس کے دور حکومت میں تلگودیشم احتجاج کرتی تھی، تلگودیشم کے دور حکومت میں کانگریس احتجاج کرتی تھی۔ علحدہ تلنگانہ میں کانگریس اور تلگودیشم ٹی آر ایس حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے معاملہ میں طلبہ کو تجسس سے دوچار کررہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس اور ہوم گارڈز کے تقررات کیلئے انجینئرس رجوع ہورہے ہیں۔ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے جس پر ٹی آر ایس حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ کالجس میں بے قاعدگیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری واویلا مچارہی ہیں، ریاست میں کوئی تعلیمی بحران نہیں ہے اور طلبہ کو بھی تجسس میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں ہے، حکومت ان کے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گی۔ اسکیم کی تیاری میں کئی نقائص ہیں۔ فبروری تک کالجس میں رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ لہذا سال کے اختتام تک طلبہ کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے جس سے فیس باز ادائیگی میں تاخیر ہورہی ہے جس سے طلبہ اور کالجس انتظامیہ پوری طرح واقف ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی طلبہ کے طرز پر اقلیتی طلبہ کو بھی تمام مراعات فراہم کی جائیں گی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں ملازمین کے 80 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں ماباقی 75 ملازمین کی ڈیپوٹیشن پر خدمات حاصل کی گئی ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کی ویب سائیٹ کیلئے علحدہ سافٹ ویر تیار کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے جواب کی تکمیل کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی کی کارروائی کو کل تک کے لئے ملتوی کردیاجس پر تمام جماعتوں نے احتجاج کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT