Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات کی اجرائی پر حکومت کی توجہ

فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات کی اجرائی پر حکومت کی توجہ

اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے احکامات

حیدرآباد۔/4نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب طلبہ کی تعلیم کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات کی اجرائی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے فیس باز ادائیگی اسکیم کے بقایا جات کے بارے میں عہدیداروں سے معلومات حاصل کی اور ہدایت دی کہ بقایا جات کو مرحلہ طور پر جلد جاری کردیا جائے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سے تلنگانہ پر فیس باز ادائیگی کے بقایا جات کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ نئی ریاست کی تشکیل کے وقت 3200کروڑ کے زائد بقایا جات تلنگانہ کے حصہ میں آئے اور حکومت نے بقایا جات سمیت ابھی تک جملہ 4861 کروڑ روپئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت جاری کردیئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کالجس کی جانب سے فیس کی ادائیگی کیلئے طلبہ پر کوئی جبر نہ کیا جائے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کانگریس دور حکومت میں فیس باز ادائیگی پر مناسب توجہ نہ دیئے جانے کے سبب طلبہ کو کئی مشکلات کا سامنا تھا اور کالجس کی جانب سے وہ زبردست دباؤ میں تھے تاہم ٹی آر ایس حکومت نے تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کی عاجلانہ منظوری کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ فیس باز ادائیگی کے تحت حقیقی غریب اور مستحق طلبہ کو شامل کرنے کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی تاکہ اس اسکیم کی رقومات کا غلط استعمال نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس دور حکومت میں کئی کالجس نے فیس باز ادائیگی اسکیم کا غلط استعمال کرتے ہوئے بھاری فائدہ حاصل کیا۔ رجسٹر میں طلبہ کے نام درج کئے جاتے لیکن کلاسیس میں طلبہ موجود نہ ہوتے۔ اس طرح اس اسکیم میں کئی بے قاعدگیاں پیدا ہوگئیں۔ ریاست کی تقسیم کے وقت بھاری بقایا جات تھے جو تلنگانہ ریاست کو وراثت میں ملے۔ تلنگانہ حکومت نے کالجس میں طلبہ کا پتہ چلانے کیلئے مہم کا آغاز کیا تاکہ حقیقی طلبہ کو اسکیم سے فائدہ پہنچے۔ حکومت نے متحدہ آندھرا پردیش کے بقایا جات کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا جس کے مطابق 2016 تعلیمی سال میں نہ صرف بقایا جات بلکہ اضافی فنڈز کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 3200کروڑ کے بقایا جات کے علاوہ 1061کروڑ کی زائد رقم جاری کی۔ اس طرح جملہ 4261کروڑ روپئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت جاری کئے گئے۔ پہلے مرحلہ میں 1200کروڑ جبکہ دوسرے مرحلہ میں 3061 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ترقیاتی اسکیمات کے ساتھ ساتھ فلاحی اور تعلیمی ترقی سے متعلق اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT