Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / فیصل علی شاہ کو مراسم عرس حضرات یوسفینؒ ادا کرنے کی اجازت

فیصل علی شاہ کو مراسم عرس حضرات یوسفینؒ ادا کرنے کی اجازت

ہائی کورٹ کے احکامات کا احترام ، وقف بورڈ اجلاس میں جائزہ
حیدرآباد۔7 اگست (سیاست نیوز) درگاہ حضرات یوسفینؒ کے سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ ہائی کورٹ کے احکامات کا احترام کرتے ہوئے فیصل علی شاہ کو مراسم عرس کی انجام دہی کی اجازت دے سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ درگاہ حضرات یوسفینؒ کے متولی کے مسئلہ پر آج کے اجلاس میں تفصیلی مباحث ہوئے۔ سینئر ارکان اور قانونی امور کے ماہر ارکان نے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصل علی شاہ کے حق میں حالیہ احکامات کو قبول کرنے کا مشورہ دیا اور بورڈ کے عہدیداروں کو واقف کروایا کہ احکامات پر عمل آوری میں کسی قسم کی رکاوٹ توہین عدالت شمار کی جاسکتی ہے اس سے بورڈ کیلئے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ فیصل علی شاہ کے خلاف کارروائی کے بعد بورڈ نے عارضی متولی مقرر کیا تھا جن کی میعاد گزشتہ ماہ ختم ہوگئی جس کے بعد درگاہ کے انتظامات وقف بورڈ نے اپنی تحویل میں لے لیئے ہیں۔ اسی دوران ہائی کورٹ نے فیصل علی شاہ کی معطلی سے متعلق 2014ء کے احکامات پر حکم التوا جاری کردیا ہے۔ ان احکامات کو وقف بورڈ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت آئندہ دو دن میں ممکن ہے۔ وقف بورڈ کو اس سماعت کا انتظار ہے اور ہائی کورٹ کے تازہ ترین موقف کو دیکھتے ہوئے بورڈ عرس کے انتظامات کی اجازت کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر ارکان نے وقف ایکٹ کا حوالہ دیا جس میں معطلی کی برخاستگی کے باوجود سجادگی کی برقراری کی گنجائش موجود ہے۔ وقف بورڈ نے ایکٹ کے مطابق سابق متولی کو رسم سجادگی ادا کرنے سے بھی روکے رکھا۔ درگاہ کے انتظامات راست نگرانی میں لیئے جانے کے بعد فیصل علی شاہ نے ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں نے انہیں روک دیا۔ اسی دوران فیصل علی شاہ کی جانب سے عدالتی احکامات کی نقل کے ساتھ وقف بورڈ میں درخواست داخل کی گئی ہے جس میں انہیں عرس کے انتظامات کی اجازت دینے کی خواہش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ عدالتی احکامات کے پس منظر میں انہیں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ عدالت نے فیصل علی شاہ کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اس مرحلہ پر بورڈ کی جانب سے کسی کمیٹی کی تشکیل یا متولی کا تقرر عدالتی احکامات کی توہین کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سابقہ متولی کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں، لیکن عدالتی احکامات کو قبول کرنا وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ بورڈ نے ان احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشائخین پر مشتمل کمیٹی کے ذریعہ عرس کے انتظامات کی تجویز پیش کی گئی لیکن اس کا انحصار عدالت کے آئندہ احکامات پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر ماہرین قانون سے مشاورت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ درگاہ حضرات یوسفین کی عرس تقاریب 28 تا 30 اگست مقرر ہیں جبکہ 12 اگست کو رسم جھیلہ ادا کی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT