Sunday , July 23 2017
Home / مضامین / فیملی ٹیکس آخر لاگو ہو ہی گیا

فیملی ٹیکس آخر لاگو ہو ہی گیا

 

کے این واصف
خارجی باشندوں پر ماہ جنوری میں سعودی عرب کے سالانہ بجٹ کے ساتھ فیملی ٹیکس کے عائد کئے جانے کا اعلان کردیا گیا تھا جس کا نفاذ پہلی جولائی سے ہونا تھا جو ہوچکا ہے۔ جب سے اس ٹیکس کا اعلان ہو یعنی پچھلے چھ ماہ سے سوشیل میڈیا میں بار بار فیملی ٹیکس سے متعلق طرح طرح کی افواہیں پھیلتی رہیں۔ جیسے کبھی whatsapp ہر خبر اُڑائی گئی کہ ٹیکس صرف 18 سال سے زائد عمر کے بچوں پر ہی رہے گا ۔ کبھی لکھا گیا کہ بیوی بچوں کے علاوہ اگر کوئی خارجی باشندہ والدین یا اپنی زیر کفالت گھریلو ملازمین رکھتا ہے تو صرف ان پر ٹیکس لگے گا ۔ کسی نے یہ خبر دی کہ صرف دوسری بیوی اور ان کی والاد پر ہی فیملی ٹیکس عائد ہوگا۔ بہرحال ان چھ ماہ میں لوگوں نے سوشیل میڈیا پر جی بھر کے افواہیں پھیلائیں جبکہ ہر مرتبہ متعلقہ ادارے افواہ کی تردید کرتے رہے ۔ خود روزنامہ سیاست میں ایک زائد مرتبہ زور دے کر لکھا گیا کہ یہ محض افواہیں ہیں، فیملی ٹیکس ضرور لاگو ہوگا ۔ حد تو یہ کہ بعض دفع ان افواہ پھیلانے والوں نے جھوٹی خبر کو قابل یقین بنانے کیلئے لوگوں میں وزارت داخلہ مملکت سعودی عرب کے سرکاری Emblem کا استعمال بھی کیا ۔ پہلی جولائی کو کسی منچلے نے عربی کے معروف اخبار ’’الریاض‘‘ کے صفحہ اول کی تصویر لیکر کمپیوٹر photoshop اپلیکیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عربی میں یہ تک لکھ دیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ خارجی باشندوں پر لگائے گئے فیملی ٹیکس کو معاف کردیا ہے اور اس جھوٹی خبر کے ساتھ ملک سلمان کی تصویر بھی لگائی اور whatsapp پر جاری کردی ۔ پھر حسب عادت لوگوں نے اس کی تحقیق یا بنیادی پوچھ تاچھ کے بغیر فارورڈ کرنا شروع کردیا جس پر متذکرہ اخبار نے اپنے Twitter پر اس خبر کی تردید کی ۔ چھ ماہ سے سوشیل میڈیا پر نت نئے انداز میں ہر دو چار دن میں ایک بار گردش کرنے والی فیملی ٹیکس سے متعلق یہ خبر ایسا لگتا ہے کہ لوگ فیملی ٹیکس کے ختم کئے جانے یا معاف کئے جانے کی اپنے اندر کی خو اہش کو ارباب مجاز تک پہنچانے کیلئے یہ حربے استعمال کرتے رہے ۔ مگر یہ ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور حکومت نے جاری اعلان کے مطابق یکم جولائی 2017 ء سے خارجی باشندوں پر فیملی ٹیکس لاگو کردیا۔ اب خارجی باشندوں کو جوازات (وزارت داخلہ) سے کوئی بھی خدمت حاصل کرنے ہو تو انہیں پہلے یہ فیملی ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوگیا لیکن جب لوگ ان جھوٹی افواہوں کے قریب سے باہر آئے اور فیملی ٹیکس کو لاگو ہوتے ہوئے دیکھا اکثریت کے ہوش اُڑ گئے ۔ مملکت بھر میں چند ایک کمپنیاں ایسی ہوں گی جو اپنے ملازمین کا فیملی ٹیکس جزوی یا مکمل طور پر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن اکثریت کو تو یہ ٹیکس خود ادا کرنا ہے ۔ چند روز قبل یہاں سیلس ٹیکس کے عائد ہونے سے کھانے پینے سمیت اشیائے ضروری کی قیمتوں میں ا ضافہ ہوگیا ۔ پانی اور بجلی کے نرخ بڑھادیئے گئے جسسے عام خارجی باشندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب ان کو فیملی ٹیکس جو پہلے سال فی کس 1200 ریال سالانہ ادا کرنا لازمی ہوگا اور یہی نہیں بلکہ یہ فیملی ٹیکس اگلے سال دوگنا اور تیسرے سال اس کا ڈبل ہوجائے گا جس کی ادائیگی کا تصور بھی یہاں خارجی باشندوں کی اکثریت کے رونگٹے کھڑے کردیئے ہیں۔

اس سلسلہ میں مزید گفتگو سے قبل ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ فیملی ٹیکس کو حق بجانب بتاتے ہوئے مملکت کے وزیر خزانہ کا ایک بیان پچھلے ہفتہ مقامی اخبارات میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی لیبر مارکٹ میں 12 ملین غیر ملکی موجود ہیں جبکہ مارکٹ کی حقیقی ضرورت 4 ملین سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی لیبر مارکٹ میں 4 ملین تربیت یافتہ اور اپنے کام کے ماہر غیر ملکی موجود ہوں تو اضافی تعداد کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے غیر ملکیوں کی مہارتوں کی جانچ پڑتال کئے بغیر ویزے جاری کردیئے ۔ اضافی غیر ملکی کارکن نہ صرف ملکی معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں بلکہ خدمات عامہ اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے مملکت میں مقیم ہر غیر ملکی کے اہل خانہ پر فی رکن 100 ریال فیس عائد کی ہے ۔ سعودی عرب نے غیر ملکی کے اہل خانہ پر فیس عائد کرنے کے فیصلے میں کافی تاخیر کی ہے ۔ یہ اقدام بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر فی رکن 100 ریال ماہانہ فیس کا نفاذ ماہ جولائی سے کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اور ان کے متعلقین پر فیس عائد کرنے سے سعودیوں کے نام پر غیر ملکیوں کے کاروبار کو بڑا دھچکا لگے گا ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودیوں کے نام پر غیر ملکیوں کے کاروبار کا حجم قومی آمدنی کا 40 فیصد ہے۔ سعودیوں کے نام پر کاروبار کرنے والے غیر ملکی سالانہ 150 ملین ریال کماتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر فیس عائد کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم کمپنیوں پر بالواسطہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کی جگہ سعودی نوجوانوں کو ملازمتیں دیں۔
بہرحال یکم جولائی سے فیملی ٹیکس لاگو ہونا تھا سو ہوگیا ۔ اب تک ہزاروں خارجی باشندوں نے یہ ٹیکس جمع بھی کروایا جن کو محکمہ جوازات سے خدمات حاصل کرنی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ غیر ملکیوں میں فیملی ٹیکس کو لیکر کافی تشویش ، پریشانی اور غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ یہ ایک فطری بات ہے لیکن ہمارے غم و غصہ یا جذباتی ہونے سے نہ حالات بدلنے والے ہیں نہ قیمتیں کم ہونے والی ہیں، نہ ٹیکس ہی معاف ہونے والا ہے ۔ لہذا اب وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہم کس طرح پیدا شدہ حالات کا سامنا کریں۔ کس طرح ہم اس معاشی بحران کا مقابلہ کریں ، کس طرح حالات کو اپنے موافق بنائیں کیونکہ اب دانش مندی کا یہی تقاضہ ہے ۔
پانی ، بجلی ، اشیائے مایحتاج کی قیمتوں کا اضافہ وغیرہ وغیرہ کے بعد اب یہ فیملی ٹیکس کا بوجھ ہمیں ہی اٹھانا ہے ۔ ہم سب اس فیملی ٹیکس ہئیت ترکیبی سے واقف بھی ہیں۔ یہاں ترقی پذیر ایشیائی ممالک کے باشندے سب سے بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ اب جو باشندے فیملی کے ساتھ رہتے ہیں، انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہے ۔ فیملی کے ساتھ رہنے والوں کی اکثریت ایسے افراد کی ہے کہ ’’جو کمایا وہ خرچ دیا‘‘ ۔ یعنی مستقبل کیلئے بچت یا جمع بندی کے نام کچھ نہیں یا پھر کچھ ہے تو وہ برائے نام ہے ۔ اب پچھلے چند دنوں میں بڑی مہنگائی نے تو ان کی برائے بچت بھی باقی نہیں رکھی ۔ مگر ہم اپنے ملکوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ہم واپس جاکر کم از کم ’’دست و دہن‘‘ (Hand to Mouth) کی پوزیشن میں جی سکتے ہیں ۔ لہذا اب ہمیں کرنا یہ پڑے گا کہ ہم حساب لگائیں کہ ہمیں یہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بعد اپنی فیملی یہاں رکھنے اور فیملی ٹیکس ادا کرنے میں ماہانہ یا سالانہ کتنی رقم یا ریال خرچ کرنی پڑیں گی اور اس رقم کو اپنے ملک کی کرنسی میں بدل کر دیکھیں تو یہ ایک بہت بڑی رقم بنے گی اور بے شک یہ رقم اتنی بڑی ہوگی کہ آپ اپنے ملک میں اپنی فیملی کے اخراجات نکال کر بھی ایک قابل لحاظ رقم بچت کے طور پر پس انداز کرسکتے ہیں۔ بس فیملی سے دور رہنے کا مسئلہ یا دکھ کو برداشت کرنا ہوگا لیکن ایشیائی ممالک کے یہ باشندے جو اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں ،ان کی تعداد ہماری جملہ آبادی میں بہت معمولی ہے ۔ یہاں مجرد زندگی گزارنے والوں کی ہی اکثریت ہے۔ لہذا تنہا رہنے کی بات اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ ہاں ہر دم ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم جلد از جلد ایک ایسی پوزیشن میں آجائیں کہ اپنے آپ کو ا پنے ملک میں جمانے کے قابل ہوجائیں اور یہ کوئی بعید از قیاس بھی نہیں۔ بس محنت استقامت، قوت ارادی، اپنے وقت کو کارآمد بنائے رکھنا وغیرہ کی ضرورت ہوگی۔

اس سارے معاملے کو ہم ہندوستانی باشندوں یا ہندوستان کے تناظر میں رکھ کر ایک آخری بات پر اپنی گفتگو ختم کرنا چاہیں گے ۔ ہندوستانی حکومت خلیجی ممالک یا خصوصاً سعودی عرب میں برسرکار باشندوں کے حالات اور یہاں ان کے اطراف گھیرا تنگ ہونے کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ بے شک حکومت کے پاس ملک کے بے شمار اندرونی معاشی اور دیگر مسائل ہیں۔ مگر ہم این آر آئیز خصوصاً گلف این آر آئیز پچھلی چار دہائیوں سے ملک کیلئے ایک اثاثہ بنے رہے تو کیا ہم خلیجی این آر آئیز کا یہ حق نہیں بنتا کہ ہم اپنے بگڑے حالات میں حکومت سے مدد اور تعاون کی امید کریں بلکہ ہم حکومت سے مانگ کرنے سے قبل ہی حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ این آر آئیز یا ان کی فیملیز جو یہاں کے حالات کی وجہ سے وطن واپس آرہے ہیں ان کی مدد کرے، ان کیلئے کوئی پیکیج یا منصوبہ اور سہولتیں فراہم کرے ۔ خصوصاً سعودی سے واپس لوٹنے والوں کے بچوں کی تعلیم اور بازآبادکاری کے معاملے میں کیونکہ ایک لمبا عرصہ غیر ملک میں گزارکر وطن لوٹنے والے کیلئے اول تو وطن ہی میں اجنبیت کا احساس رہتا ہے ۔ پھر فیملی کے ساتھ بازآبادکاری کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جب تک انہیں حکومت کی جانب سے آسانیاں اور سہولتیں بہم نہیں پہنچائی جائیں ان کیلئے وطن میں قدم جمانا دشوار ہوگا۔ دوسرے یہ کہ جو لوگ سعودی عرب میں نئے ہیں یا بہت کم عرصہ سے یہاں ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے لئے نئے آشیانے تلاش کریں کیونکہ اب یہاں مہنگائی بڑھنے ، فیملی ٹیکس اور آنے والے چند ماہ میں دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد یہاں مزید رہنا دانشمندی نہیں ہے۔
knwasif@yahoo.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT