Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / !! ف 4فیصد دولتمندوں کی خاطر 96 فیصد کو سزاء

!! ف 4فیصد دولتمندوں کی خاطر 96 فیصد کو سزاء

حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) ملک کے 96 فیصد عوام کی سالانہ آمدنی 7 لاکھ روپئے ہے۔ صرف 4 فیصد دولتمندوں کا امتحان لینے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی نے غریب و متوسط طبقہ کے عوام کو بینکوں کی قطاروں میں کھڑا کردیا ہے۔ گل بل فنیشائیل سرویس کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 2.84 لاکھ دولتمند افراد ہیں۔ ایک فیصد ایسی آبادی ہے جن کے کنٹرول میں 58.4 فیصد اثاثہ  جات اور جائیدادیں ہیں، جن کی قدر مجموعی آمدنی کا 53 فیصد حصہ ہے اور ان کی اثاثہ جات و آمدنی میں سالانہ 5.4 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے اور 10 فیصد ایسی آبادی ہے جن کے پاس 80.7 اثاثہ جات ہیں۔ اس کے علاوہ 0.3 فیصد ایسی آبادی ہے جس کی سالانہ آمدنی 68 لاکھ ہے جبکہ ملک کی 96 فیصد ایسی آبادی ہے جن کی سالانہ آمدنی 6.8 لاکھ ہے مگر ہر سال ان کی مجموعی آمدنی بڑھنے کے بجائے 0.8 فیصد گھٹ رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بڑی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اثر 96 فیصد عام آدمی پر پڑا ہے جو اپنی روزمرہ زندگی کی دوڑدھوپ میں مصروف ہے۔ اپنا اور اپنے ارکان خاندان کا پیٹ بھرنے کیلئے دن رات محنت کررہا ہے۔ قرضوں میں مبتلاء ہے۔ اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کو بینکوں میں جمع کرنے اور بینکوں سے نکالنے کیلئے پریشان ہیں۔ ملک کرنسی بحران سے دوچار ہے۔ ہر شعبہ نقصانات کا شکار ہے۔ غریبوں پر جو بیت رہی ہے اس کا حکمرانوں اور دولتمندوں کو کوئی احساس نہیں ہے۔ 4 فیصد آبادی کے پاس ساری دولت اور جائیداد ہیں مگر وہ بینکوں کی قطاروں میں نہیں ہے۔ 96 فیصد آبادی پر کرنسی بحران کا عتاب نازل ہوا ہے اور وہ بینکوں، اے ٹی ایمس اور پوسٹ آفسوں کی قطار میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT