Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12فیصد تحفظات مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر اور قائدین بوکھلاہٹ کا شکار

ف12فیصد تحفظات مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر اور قائدین بوکھلاہٹ کا شکار

سیاست کی تحریک سے عوام میں شعور بیدار ، کانگریس کا تحفظات فراہمی میں اہم رول ، عظمت اللہ حسینی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ٹی آر ایس پر 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی میں ناکامی پر کانگریس کی جانب سے فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات پر حق جتانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کانگریس اور مسلمانوں سے معذرت خواہی کرنے کا ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ترجمان و جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید عظمت اللہ حسینی نے یہ بات بتائی ۔ اس موقع جنرل سکریٹری بلوکشن بھی موجود تھے ۔ ترجمان نے صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی ، سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کو مسلم تحفظات کا چمپئن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب 1993 میں مسلم تحفظات پر عمل آوری کا آغاز ہوا تھا ۔ اس وقت ٹی آر ایس کا وجود بھی نہیں تھا ۔ 1994 میں سابق چیف منسٹر وجئے بھاسکر ریڈی نے پٹو سوامی کمیشن تشکیل دی تھی ۔ 2004 تک 10 سال تلگو دیشم ریاست میں اقتدار پر تھی اور چندر شیکھر راؤ وزارت ڈپٹی اسپیکر کے علاوہ دوسرے عہدوں پر فائز رہے تب انہیں کبھی مسلم تحفظات یاد نہیں آیا ۔ 3 سالہ میعاد کے لیے تشکیل دی گئی پٹو سوامی کمیشن کی میعاد میں 6 مرتبہ توسیع دی گئی باوجود اس کے کمیشن نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ۔ اس کے لیے تلگو دیشم ذمہ دار ہے ۔ کانگریس نے وعدہ کیا ۔ اس کو عملی جامہ پہنایا ۔ ٹی آر ایس نے 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کیا ۔ اس کو ڈھائی سال میں بھی پورا نہیں کیا ، مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ روزنامہ سیاست کی تحریک سے مسلمان ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ تلنگانہ کے وزراء اور عوامی منتخب قائدین سے استفسار کررہے ہیں ۔ جس پر ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے علاوہ دوسرے قائدین یہ دعویٰ کررہے ہے کہ مسلمانوں نے ٹی آر ایس سے 12 فیصد مسلم تحفظات نہیں مانگا کے سی آر نے خود وعدہ کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے ٹی آر ایس کے قائدین مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے معاملے میں سوال نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے اس مسئلہ سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مسلمانوں میں ٹی آر ایس کے خلاف پائے جانے والے غم و غصہ کو دور کرنے کے لیے کانگریس کی جانب سے فراہم کیے گئے 4 فیصد تحفظات کا اعزاز چیف منسٹر کے سی آر کو دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کی کانگریس چمپئن ہے ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے جہاں روزنامہ سیاست نے اہم رول ادا کیا وہیں جمعیت العلماء اور سلطان العلوم ایجوکیشن نے بھی عدلیہ میں فریق بنی تھی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس اردو اکیڈیمی کے پروگرام سے ڈپٹی چیف منسٹر مسلمانوں کو مسلم تحفظات کے معاملے میں گمراہ کررہے تھے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ڈھائی سال بعد بھی اس اردو اکیڈیمی کی تقسیم عمل میں نہیں آئی ۔ کمپیوٹر سنٹرس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ۔ حج ہاوز میں موجود محکمہ اقلیت بہبود میں بدعنوانیاں عروج پر ہے کوئی بھی مسلم ایماندار عہدیدار کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT