Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12فیصد تحفظات ممکن‘ حکومت پر دباؤ کی حکمت عملی ناگزیر

ف12فیصد تحفظات ممکن‘ حکومت پر دباؤ کی حکمت عملی ناگزیر

سی پی آئی(ایم ) کے ریاستی کنونشن سے پارٹی جنرل سکریٹری سیتارام یچوری اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔5اکٹوبر(سیاست نیوز) پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ انصاف کے لئے تحفظات کی فراہمی ایک جمہوری طریقے کار ہے جس کی تکمیل کے لئے ریاستی حکومتوں کو سنجیدہ اقدامات اٹھانا پڑتا ہے۔جس طرح مغربی بنگال حکومت نے جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی شفارشات پر عمل کرتے ہوئے مغربی بنگال میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کاتاریخ ساز فیصلہ کیا تھا جس پر آج تک عمل جاری ہے۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری و راجیہ سبھا سیتا رام یچوری نے پرکاشم ہال ‘ گاندھی بھون نامپلی میں سی پی آئی تلنگانہ یونٹ کے زیراہتمام تلنگانہ میں اقلیتوں کے لئے میناریٹی سب پلان اور بارہ فیصدتحفظات کی فراہمی کے مطالبہ پر منعقدہ ریاستی کنونشن سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔جسٹس چندرا کمار ‘سی پی ائی ایم سکریٹری تلنگانہ تمنیتی ویر ا بھدرم‘ عثمان شہید ایڈوکیٹ کے علاوہ پارٹی کے ریاستی قائدین جے ڈی نرسنگ رائو‘ ٹی سیتا رامیہ‘ گوردھن ریڈی سی پی ائی ایم ایل‘ مولانا عبدالستار چاند ‘ پروفیسر انصاری‘ مولانا حامد حسین شطاری ‘ مولانا سید طار ق قادری ‘عبدالقدوس غوری‘ اسمعیل الرب اُردو انصاری اور دیگر نے بھی ا س کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست میں مسلم تحفظات کے وعدے کو پورا کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔ اپنی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے سیتا رام یچور ی نے کہاکہ جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر اس بات کی سفارش کی ہے کہ اوبی سی طبقات کا سروے کراتے ہوئے انہیںپسماندگی سے باہر نکالا جائے ۔ستیار ام یچوری نے کہاکہ تحفظات معاشی ‘ تعلیمی او رسماجی پسماندہ طبقات کے مسائل کو دور کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر تلنگانہ ریاست نے انتخابات سے قبل تلنگانہ میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا جووعدہ کیا ہے اس پر عمل آوری ضروری ہے تاکہ مغربی بنگال کی طرح ریاست تلنگانہ میں بھی مسلم سماج کے ساتھ انصاف کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ مغربی بنگال کی سی پی ائی ایم حکومت نے جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو بنیاد بناکر ریاست میں تحفظات فراہم کرنے والی ہندوستان کی واحد اور پہلی ریاست ہے ۔سیتارام یچوری نے مزیدکہاکہ سب پلان کے لئے پلاننگ کمیشن سے رجوع ہوئے تھے جس کی منظوری نہیں دی گئی باوجود اسکے سی پی ائی ایم نے مغربی بنگال میں مسلم سماج کے لئے دس فیصد تحفظات کی فراہم کرنے میںکسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں برتی۔انہوں نے مزیدکہاکہ اب تو مرکز کی نریندر مودی حکومت نے پلاننگ کمیشن کو ہی بند کردیا جہاں پر اقلیتوں کی فلاح وبہبود کی منصوبہ سازی کی جاتی تھی۔ سیتار ام یچوری نے حکومت تلنگانہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اقتدار میں آنے کے چار ماہ کے اندر بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجود چیف منسٹر تلنگانہ انتخابات میں تلنگانہ کے مسلمانو ںسے کئے گئے وعدے کی تکمیل میںناکام ہیں۔     ( سلسلہ صفحہ 8پر )

TOPPOPULARRECENT