Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ف12فیصد تحفظات کیلئے مسلمانوں کو سخت جدوجہد کا مشورہ

ف12فیصد تحفظات کیلئے مسلمانوں کو سخت جدوجہد کا مشورہ

سیاست کی تحریک میں شامل ہونے پر زور،جنگاؤں کے محمد جمال الدین شریف ایڈوکیٹ کا بیان

جنگاؤں۔/18اکٹوبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے انتخابات کے موقع پر مسلمانوں کو روزگار اور تعلیمی شعبوں میں 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے ہر ضلع اور ہر منڈل سطح پر مسلمانوں کی جانب سے نمائندگیاں کی جارہی ہیں، اس مہم کو آگے بڑھانے میں روز نامہ سیاست کے نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے قدم بڑھایا جس کا مسلمانوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تحفظات کا مسئلہ کسی ایک مسلمان کا نہیں ہے ساری قوم کے مسلمانوں کو تلنگانہ میں فائدہ حاصل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ورنگل ضلع جنگاؤں کے ایڈوکیٹ محمد جمال شریف نے کیا۔ مسلمانوں کو تحفظات ملنا یہ ان کا دستور کے مطابق حق ہے جو قوم تعلیمی، سماجی، معاشی پسماندہ ہو اسے آرٹیکل 15.5 کے تحت تحفظات دیئے جاسکتے ہیں۔ مسلمانوں کی حالت تعلیم میں ایس سی، ایس ٹی طبقہ سے بھی کم ہے، دستور ہند کے مطابق ہمارا حق مل سکتا ہے مگر حکومتیں مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم تھے راجندر سچر کمیٹی قائم کی گئی تھی 2006ء میں کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد رنگاناتھ مشرا کمیٹی 2010  میں قائم کی گئی اس کے بعد 2014 میں ابو صالح کمیٹی قائم کی گئی سب کمیٹی کے اندر مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی پسماندگی کا ذکر ہے مگر حکومت نے اس پر کچھ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کا ذکر آتا ہے تو حکومتیں کمیٹی قائم کرتی ہیں اسی طرح اب چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر راؤ نے بھی سدھیر کمیٹی قائم کی ہے جس سے کچھ فائدہ مسلمانوں کو ہونے والا نہیں ہے، حکومت اگر سنجیدہ ہو تو تحفظات دینے کیلئے فوری بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات دینے کا اعلان کرے۔ تحفظات دینے کا حق بی سی کمیشن کو ہے۔ ریاستی چیف منسٹر نے 2014 میں شاد نگر جلسہ میں 12فیصد تحفظات چار مہینے میں تاملناڈو کی طرح دینے کا اعلان کیا تھا اب جبکہ 16مہینے ہورہے ہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حق کے حصول کیلئے آواز بلند کرنا مسلمانوں کیلئے ضروری ہے۔ آج مسلمان چھوٹے موٹے کاروبار کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں، معاشی حالات بہت کمزور ہیں، مسلمان سرکاری نوکریوں میں کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ آج کے دور میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات نہ ملیں تو نوکریاں ملنا مشکل ہوگا۔ ہر محکمہ میں مسلمان نہیں کے برابر ہیں۔ مسلمانوں کو سعودی اور دیگر ممالک میں روزگار کے ذرائع نہ ہوں تو مسلمانوں کے حالات بہت مشکل تھے۔ تلنگانہ تحریک میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کی وجہ سے تلنگانہ علحدہ ہوا۔ مرکزی حکومت اس پر سوچ رہی تھی جب مسلمانوں کی جانب سے ہر جگہ دھرنا، بھوک ہڑتال منعقد کئے گئے اور روز نامہ سیاست کے منیجنگ ایڈیٹر جناب ظہیر الدین علی خاں کی جانب سے علحدہ تلنگانہ کیلئے مسلمانوں کی پہلی میٹنگ نامپلی حیدرآباد میں منعقد کی گئی۔ ہروقت روز نامہ سیاست کے ذمہ داران قوم و ملت اور مسلمانوں کیلئے آگے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے جو بھی مسائل ہوں حل کرنے کیلئے روز نامہ ’سیاست‘ کے ذمہ داران آگے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روز نامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک میں شخصی اور اجتماعی طور پر حصہ لے کر تحریک کو مضبوط کریں۔ حکومت جلد سے جلد 12فیصد تحفظات مسلمانوں کو

TOPPOPULARRECENT