Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں /  ف12فییصد مسلم تحفظات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری

 ف12فییصد مسلم تحفظات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری

انتخابی منشور کے مطابق عمل ضروری ، غیر آئینی قرار دینا نامناسب ، محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد۔24مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے انتخابی منشور میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنا غیر آئینی نہیں ہے ۔ کانگریس ٹی آر ایس حکومت کے اس اقدام کے ساتھ ہے ۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے بھارتیہ جنتا پارٹی رکن قانون ساز کونسل مسٹر این رامچندر راؤ کی جانب سے پیش کردہ تحریک التواء نوٹس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی۔ جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلم تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ کو غیر آئینی قرار دیا جانا درست نہیں ہے کیونکہ برسراقتدار جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں اس مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی اور اس وعدہ کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بی جے پی رکن قانون ساز کونسل نے مسلم تحفظات کے خلاف احتجاج کرنے والے 2000سے زائد بی جے وائی ایم کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف تحریک التواء پیش کرتے ہوئے مسلم تحفظات کو غیر آئینی قرار دیا اور تحفظات کے مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعت حکومت کے ساتھ ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ انتخابات کے دوران کئے گئے وعدہ پر عمل آوری کو ممکن بنانا کوئی غیر آئینی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو وعدہ کیا گیا ہے اسے پورا کیا جانا چاہئے اور وہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے حق میں ہیں۔ صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر سوامی گوڑ نے بھارتیہ جنتا پارٹی رکن قانون ساز کونسل کی جانب سے پیش جکردہ تحریک التواء کو مسترد کردیا جس پر بی جے پی رکن قانون ساز کونسل مسٹر این رامچندر راؤ نے بطور احتجاج واک آؤٹ کردیا۔واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کی جانب سے 12فیصد مسلم تحفظات کے خلاف آج چلو اسمبلی احتجاج منظم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس احتجاجی پروگرام کے متعلق بی جے پی رکن قانون ساز کونسل نے بتایا کہ حکومت نے اس احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے 2000سے زائد نوجوانو ںکو گرفتار کرلیا ہے۔انہوںنے حکومت کی جانب سے مسلمانوں کوتحفظات کی فراہمی کے مسئلہ کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت اقلیتوں کو گمراہ کرتے ہوئے ووٹ بینک کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کوشش میں انہیں ناکامی حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT