Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات مسلم نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں

ف12 فیصد تحفظات مسلم نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں

بی سی کمیشن کا قیام ضروری ۔ مسلمانوں کا آپسی اتحاد اہمیت کا حامل ۔ شمس آباد میں جلسہ ۔ جناب عامر علی خاں ‘ جناب افتخار شریف اور دوسروں کا خطاب

حیدرآباد۔12اکٹوبر ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 12فیصد تحفظات ہزاروں مسلم خاندانوں میں خوشحالی اور مسلم نوجوانوں کے روشن مستقبل کے ضامن بن سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے کیا جو آج یہاں شمس آباد میں منعقدہ ایک اجلاس کو مخاطب تھے ۔ مسلمانوں میں شعور بیداری اور تحریک میں شدت یدا کرنے نیوز ایڈیٹر اضلاع کے دورے کررہے ہیں ۔ مسلم دانشوروں ‘ طلبہ ‘ اساتذہ ‘ مذہبی رہنماؤں کے اس اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی ہند کے بعد مسلمانوں سے ہر چیز چھین لی گئی ۔ تاہم 20سال تک بھی مسلمان بادشاہی کے نشہ میں رہے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمان تعلیمی و معاشی طور پر پچھڑے طبقات کی فہرست میں آگئے ہیں اور اب سوائے جدوجہد کے مسلمانوں کیلئے کوئی راستہ نہیں رہ گیا ۔ انہوں نے 12فیصد مسلم تحفظات کے موقع کو ایک زرین موقع قرار دیا اور اس کے حصول کیلئے جدوجہد میں مزید شدت پیدا کرنے کی مسلمانوں سے خواہش کی ۔ انہوں نے مذہب اسلام کے پیغام کو عام کرنے ‘ غرباء مساکین ‘ پچھڑے ہوئے طبقات ‘ قبائل و تمام کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے کہ اسلام کے پیغام کو عام کرنے ‘ اسلام کے حقیقی پہلو کو پیش کرنے کے ساتھ بہترین اخلاق پیش کرنے کا موقع ملے گا جو اپنے حقوق کے حصول کا ذریعہ بنے گا ۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ مرکز سے مسلمانوں کو تحفظات ملنے کی امید نہیں ہے ‘ تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ملی فریضہ تصور کرتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعہ 12فیصد مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے ٹی آر ایس حکومت پر جمہوری انداز میں دباؤ بنائیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کیلئے اسمبلی میں منظوری کی بات کو خوش آئند قرار دیا اور چیف منسٹر کے اعلان کی ستائش کی ۔ تاہم تحفظات کے مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرنے کی بات پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور مسلمانوں کی خواہش کے مطابق بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جناب عامر علی خان نے حصول تحفظآت کیلئے مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور جماعتی ‘ مسلکی ‘ سیاسی اور نظریاتی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک میں نمائندگیاں پیش کرنے اور دباؤ بڑھانے پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ آج ہر مسلمان کو سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے کہ ملک و ریاست میں ہماری حالت کیا ہے ‘کیا ہونی چاہیئے ۔ آزادی کے وقت سرکاری ملازمتوں میں ہمارا تناسب 40 فیصد تھا جو گھٹ کر 2 فیصد ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے اعلان کے مطابق ایک لاکھ 7ہزار ملازمتوں کے تقررات میں 12 فیصد کے تحت 12ہزار سے زائد ملازمتیں مسلمانوں کو حاصل ہونگی جو ہزاروں مسلم خاندانوں کی خوشحالی و ترقی کا ذریعہ بنیں گی ۔ مسٹر افتخار احمد شریف نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ سیاست کی شروع کردہ تحریک نہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف ہے اور نہ ہی کانگریس کے خلاف یا کسی اور جماعت کی تائید میں ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے ثمرات سے فائدہ پہونچانے ملی جذبہ تصور کرتے ہوئے جناب عامر علی خاں نیوز نے اس کو تحریک کی شکل دی ہے جس کی وہ دل کی گہرائیوں سے تائید کرتے ہیں اور اپنی جانب سے حکومت اور وزرائے ٹی آر ایس کے وعدہ کو پورا کرنے نمائندگی کریں گے ۔ انھوں نے تمام مسلمانوں کو تحریک میں شریک ہو کر اس کو کامیاب بنانے کا مشورہ دیا ۔ جناب افتخار احمد شریف نے کہاکہ مسلمان پسماندہ طبقات سے پسماندہ ہے ، کئی کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹس سے اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔           انھیں چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ پر بھروسہ ہے ، وہ مسلمانوں سے کئے وعدے کو یقینا پورا کریں گے ۔ جناب افتخار احمد شریف نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک شروع کرنے پر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان سے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملی جذبہ رکھتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کو مستحکم کرنے دن رات محنت کررہے ہیں ان کے فرزند نوجوان صحافی جناب عامر علی خاں 12 فیصد مسلم تحفظات کو گاؤں گاؤں پہونچاتے ہوئے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے اضلاع کے دورے کررہے ہیں اور مسلمان بھی ان کا گرمجوشانہ خیرمقدم کرتے ہوئے تحریک کو مستحکم کرنے میں مکمل تعاون کررہے ہیں ۔ صدر جامع مسجد شمس آباد جناب محمد یوسف علی خان نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کی گئی 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک قطرہ قطرہ پانی کے طرز پر دریا میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ انھوں نے روشنی ڈالتے ہوئے تحریک سے جڑجانے کی تمام مسلمانوں سے اپیل کی تاکہ حکومت پر جمہوری انداز میں دباؤ ڈالنے میں کامیابی حاصل ہوسکے ۔ تلگودیشم کے کوآپشن رکن مسٹر جہانگیر خان نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات حاصل ہوجائیں تو مسلمانوں کی زندگیوں میں نئی روشنی آئیگی ۔ ڈپٹی سرپنچ مسٹر محمد شمس الدین نے کہا کہ تحفظات مسلمانوں کا جمہوری حق ہے ۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی ذمہ داری ہے ۔ صدر شمس آباد منڈل کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر رفیع الدین قادری نے کہاکہ تمام شعبہ حیات میں مسلمان پسماندہ ہے ۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کے مطابق ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کا آغاز کیا ہے جس کی وہ تائید کرتے ہیں ۔ مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوجانے پر سیاسی طاقتیں مسلمانوں کے سامنے جھکتی ہے ۔ صدر شمس آباد منڈل وائی ایس آر کانگریس پارٹی مسٹر محمد اکرم خان نے 4 فیصد مسلم تحفظات کیلئے سابق چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی کو خراج پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کو مسلمانوں سے کئے گئے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا اور سیاست کی تحریک کی تائید کا اعلان کیا ۔ سماجی کارکن سید حیدر علی نے بھی امتحانات میں اعلیٰ نشانات حاصل کرنے کے باوجود تحفظات نہ ملنے سے ہونے والے نقصانات پر اپنے تجربات کو پیش کیا ۔ رپورٹر سیاست شمس آباد مسٹر محمد محمود علی خان نے اظہارتشکر کیا۔ اس موقع پر ایچ ایوب حسین گرام پنچایت ممبر ، محمد عبدالقادر ، سید رفیع الدین قادری ، محمد اسد کانگریس لیڈر ، محمد علیم الدین ، محمد اعظم خان ، سید عظمت حسین ، سید ممتاز قادری وغیرہ موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT