Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ’ف12 فیصد تحفظات پر چیف منسٹر مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیں‘

’ف12 فیصد تحفظات پر چیف منسٹر مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیں‘

بے قصور مسلم نوجوانوں پر پولیس کے من گھڑت الزامات اور مظالم، آلیر انکاؤنٹر کے حقائق پیش کرنے  جمعیتہ العلماء کا مطالبہ
کریم نگر ۔ 3 ۔ نومبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کو پریشان ، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں ، ریاست کی تقسیم سے مسلمانوں کی طرز زندگی حالات پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ مسلمانوں کو بے خوف ، ہمت و حوصلہ کے ساتھ متحد ہوکر ملک کی سلامتی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ مسلمان کبھی مایوس ، بے بس نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ یہاں کریم نگر کے مضافاتی مقام ریکرتی مدرسہ حفظ القرآن کے احاطہ میں ضلع کریم نگر اور اطراف و اکناف کے صدور و نائب صدور ، سکریٹریز کے اجتماع سے مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر ریاستی جمعیتہ العلماء نے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں ایک اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا جس میں دو اہم موضوعات پر عوام میں شعور بیداری پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں ایک مسئلہ ریاست تلنگانہ ہے۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو تعلیم ، ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا ہے جس پر کے سی آر سے عمل آوری کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ کے سی آر کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو اس تعلق سے دھوکے میں نہ رکھیں بلکہ تحفظات کا اعلان کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی کے دور میں دیئے گئے 4 فیصد تحفظات بھی کے سی آر کی ٹال مٹول پالیسی کے سبب خطرے میں پڑسکتے ہیں۔ مولانا نے سدھیر کمیشن کو بے فیض بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے وقت گزاری ہورہی ہے ۔ دوسری جانب مرکزی حکومت مسلمانوں کو تحفظات کی مخالف ہے جبکہ مرکزی وزیر جیٹلی مذہب کے نام پر تحفظات پر اعتراض کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کے سی آر سے تحفظات پر واضح پالیسی اختیار کرنے کا  مطالبہ کیا ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے ریاستی حکومت سے آلیر انکاؤنٹر واقع کے حقائق کو پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انکاؤنٹر کی تحقیقات کے لئے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں۔ شواہد موجود ہیں تو پھر اس کے حقائق کو سامنے لانے میں ریاستی حکومت کو کیوں پس و پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو من گھڑت الزامات میں پولیس نے برسوں جیل میں ڈال کر ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔ برس ہا برس جیل میں رکھنے کے باوجود اور کوئی جرم ثابت نہیں ہوا تو انہیں رہائی کا عدالت کی جانب سے دیا جانا ممکن ہورہا تھا ، ایسے میں ان کا انکاؤنٹر کردیا گیا ۔ مولانا نے کہا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے جمعیت العلماء کوئی چندہ نہیں لیتی ہے۔ اللہ والوں کی جماعت ہے ، اس کا کوئی سیاسی مفاد وابستہ نہیں ہے ۔ یہ جماعت اللہ کی خوشنودی کیلئے سرگرم ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کیلئے شرعی عدالتوں کے قیام پر زور دیا اور اپنے مسائل شرعی عدالتوں سے رجوع کرنے، مسلمانوں کو مشورہ دیا اور کہا کہ مسلمان اپنے جھگڑوں کی شرعی عدالت میں یکسوئی کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیتہ العلماء حق کے لئے آواز اٹھاتی ہے اور حکومتوں کو جھکنے پر مجبور کرتی ہے ۔ انہوں نے کے سی آر سے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ ٹال مٹول کی پالیسی تحفظات پر نہ اپنائیں اور مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا اعلان کریں۔ اس اجلاس میں نائب صدر جمعیت العلماء کریم نگر مفتی غیاث محی الدین ، حافظ وسیم ، حافظ قاضی ، منقبت شاہ ، عمر فاروق ، حافظ عبدالرزاق، مولانا کاظمی ، صادق محی الدین و دیگر شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT