Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

ف12 فیصد تحفظات پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

چیف منسٹر تلنگانہ کو قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم تحفظات کی سپریم کورٹ میں جاری سماعت کا جائزہ لینے اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اپنے مکتوب میں مسٹر محمد علی شبیر نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ پر 4  فیصد مسلم تحفظات کی پیروی کے لیے تلنگانہ حکومت نے کسی وکیل کو روانہ نہیں کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے 29 فروری کو سماعت کے دوران تلنگانہ حکومت کے نمائندے کی عدم موجودگی پر استفسار کیا ہے ۔ آندھرا پردیش بشمول تلنگانہ کے 4 فیصد مسلم تحفظات کا جائزہ لینے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھکر ، جسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیفہ جسٹس شرد اروند بابڈے ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس ادئے امیش للت پر مشتمل دستوری بنچ تشکیل دی گئی ہے ۔ سماعت کے دوران وہ خود نامور قانون داں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور ان کی ٹیم کے ارکان شکیل احمد ، جمیل اور پرویز دبت موجود تھے ۔ سینئیر کونسل پی پی راؤ نے حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے رجوع ہوئے ۔ بی سی کمیشن سے ایم احمد اور کرشنا مانی رجوع ہوئے لیکن حکومت تلنگانہ کا کوئی بھی نمائندہ سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں ہوا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں اور آج بھی بار بار دہرا رہے ہیں کہ تلنگانہ حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کی مخالفت کرنے والے وکیل کو حکومت تلنگانہ نے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر نامزد کیا ہے جس کی وہ ماضی میں بھی مخالفت کرچکے ہیں ۔ ایسے وکیل کی جس نے 4 فیصد مسلم تحفظات کی ماضی میں سپریم کورٹ میں مخالفت کرچکے ہیں ان سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے تلنگانہ حکومت کانگریس کی جانب سے مسلمانوں کو دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات کو جان بوجھ کر کمزور کرنا چاہتی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے 2004 میں دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات سے ابھی تک تعلیمی شعبہ میں 10 لاکھ مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ 4 فصید مسلم تحفظات کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ کوشش نہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت غریب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچا رہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی آئندہ سماعت 18 اپریل کو مقرر ہے ۔ لہذا تلنگانہ حکومت کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم تحفظات کا نہ صرف جائزہ لے بلکہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT