Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کے قیام پر زور: جماعت اسلامی

ف12 فیصد تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کے قیام پر زور: جماعت اسلامی

سدھیر کمیشن کی کوئی حیثیت نہیں‘ موقوفہ جائیدادوں پرقبضوں پر سی آئی ڈی تحقیقات اور وقف کارپوریشن کے قیام کا مطالبہ

نلگنڈہ ۔ 2 ۔ نومبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے بی سی کمیشن کی فوری تشکیل عمل میں لانے وقف بورڈ کو قانونی اختیارات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و اڑیسہ جناب حامد محمد خاں نے کل پریس کلب نلگنڈہ میں صحافتی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ نے جدوجہد تلنگانہ کے موقع پر نظام کالج گراؤنڈ پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا اور اپنے انتخابی منشور میں بھی اسے شامل کیا لیکن 15 ماہ کا عرصہ ہونے کے بعد صرف ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میںلائی گئی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔  انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے سابقہ رنگا ناتھ کمیشن اور سچر کمیٹی کے ذریعہ مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی ہے ۔ ان کمیشن اور کمیٹیوں کی بنیاد پر تلنگانہ سرکار بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اس کی سفارشات کی بنیاد پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرے۔ امیر جماعت نے بتایا کہ انتخابات میں وقف کی جائیدادوں سے ناجائز قابضین کو ہٹانے کیلئے سی آئی ڈی تحقیقات کرواتے ہوئے کارروائی کا وعدہ کیا تھا اور وقف بورڈ کو تمام قانونی اختیارات فراہم کرتے ہوئے وقف بورڈ کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ تاحال اس خصوص میں کوئی کارروائی کا آغاز نہیں ہوا جبکہ سی آئی ڈی کے ذریعہ تحقیقات کیلئے صرف احکامات جاری کئے ۔ 15 ماہ کے عرصہ میں حکومت احکامات کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی ۔ جناب حامد محمد خان نے بتایا کہ اردو اکیڈیمی کو ا ختیارات فراہم کرنا چاہئے تاکہ تلنگانہ میں اس زبان کو فروغ حاصل ہوسکے ۔ اقلیتی بہبود محکمہ میں صرف 7 عہدیداروں سے کام لیا جارہا ہے ۔ اقلیتوں کی فلاحی و ترقیاتی اسکیموں کی عمل آوری میں 300 عہدیدار اور ملازمین کی ضرورت ہے ۔ ناکافی ملازمین کی وجہ حکومت کے مختص کردہ بجٹ کا کس طرح استعمال ہوگا ؟ جناب حامد محمد خان نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے چنچل گو ڑہ جیل اور ریس کورس کو دوسری طرف منتقل کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا ، چنانچہ حکومت کو فوری ان مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کشیدہ حالات پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ دانشوروں اور سیول سوسائٹیوں کے ادباء اور دانشوران حکومت کی جانب سے دیئے گئے ایوارڈس کو واپس کر رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی ان دانشوروں اور ادیبوں کو سلام کرتی ہے اور اس کا خیرمقدم کرتی ہے ۔انہوں نے ریاست میں آ ئے دن کسانوں کی خودکشی کے واقعات کی روک تھام کیلئے سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ پر عمل آوری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے ٹی آر ایس سرکار سے فوری انتخابات میں کئے گئے وعدوں و تیقنات کو مکمل کرنے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر جناب ایم این بیگ زاہد جنرل سکریٹری حلقہ ، جناب محمد عبدالمجید، تلنگانہ مقامی قائدین جناب محمد عبدالصمد ، جناب محمد وہاب الدین وغیرہ موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT