Friday , September 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کیلئے نمائندگیاں جاری، ہر جگہ مسلمان سرگرم

ف12 فیصد تحفظات کیلئے نمائندگیاں جاری، ہر جگہ مسلمان سرگرم

حیدرآباد /13 ستمبر (سیاست نیوز) سیاست امپاورمنٹ کی تحریک سے متاثر ہوکر نظریاتی و سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مختلف مقامات پر 12 فیصد تحفظات کے حصول کے لئے مختلف تنظیموں کی جانب سے عہدہ داروں اور منتخب نمائندوں سے نمائندگیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بودھن… تلنگانہ اردو جرنلسٹ فورم بودھن کے صحافیوں کا ایک وفد رکن اسمبلی بودھن جناب شکیل عامر سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو ملازمتوں اور تعلیم کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبہ جات میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے ٹی آر ایس کے وعدوں کو ملازمتوں کی بھرتی کے لئے اعلامیہ کی اجرائی سے قبل بی سی کمیشن کے توسط سے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے جناب شکیل عامر سے مجوزہ اسمبلی سیشن میں نمائندگی کی خواہش کرتے ہوئے انھیں یادداشت پیش کی۔ جناب شکیل عامر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے اپنے عہد کی پابند ہے۔ جناب شکیل سے ملاقات کرکے انھیں یادداشت پیش کرنے والوں میں بانی فورم مسرز محمد خورشید حسین اختر، صدر فورم ڈاکٹر محمد لطیف الدین قریشی جاگیردار، آرگنائزنگ سکریٹری عبد اللہ قریشی، عبد القدوس رضوان، جلیل بیگ، محمد امتیاز الدین، محمد عمر جلیل احمد اور دیگر شامل تھے۔
راجندر نگر… مسلمانوں کو ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے روزنامہ سیاست کی امپاورمنٹ تحریک کو عوامی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر نگر ٹی آر ایس قائدین نے آر ڈی او سریش پودار کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دیئے جانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابات سے قبل مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا۔ ٹی آر ایس قائدین نے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے سلسلے میں بی سی کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کے لئے حکومت پر زور دیا۔ ان قائدین نے کہا کہ ریاست میں مسلمان سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور انتہائی پسماندہ حالت میں ہیں۔ صدر ڈیویژن راجندر نگر جناب مزمل احمد کی قیادت میں ٹی آر ایس قائدین خالد، بصیر، اشفاق، محمد قیصر، رضیہ سلطانہ، اسحاق، اقبال، کریم، پرفل کمار، سبھاش، محمد علیم، نور علی اور دیگر کی موجودگی میں آر ڈی او راجندر نگر کو یادداشت پیش کی گئی۔
محبوب نگر… حکومت تلنگانہ اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے فی الفور ای بی سی کمیشن قائم کرے۔ حکومت نے تحفظات فراہم کرنے کے لئے جو سدھیر کمیشن قائم کیا ہے، وہ صرف اوقات گزاری اور دل بہلانے کے لئے قائم کیا گیا ہے، اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی مسلم ریزرویشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ریاستی کنوینر جناب حنیف احمد نے آر اینڈ بی گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ کل جماعتی قائدین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے سخت لب و لہجہ میں سدھیر کمیشن کے رکن عمر عامر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات گمراہ کن ہیں اور وہ خود سدھیر کمیشن کی کمزوری اور مجبوری کا رونا رو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ سدھیر کمیشن کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ کمیشن کو 6 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا، لیکن 6 ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو کسی ضلع کا دورہ کیا گیا اور نہ کوئی قدم اٹھایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل 15(4) اور 16(2) کے تحت معاشی طورپر پسماندہ طبقات کو  خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، تحفظات دیئے جا سکتے ہیں، جیسا کہ کیرالا، کرناٹک، تاملناڈو اور مغربی بنگال میں کیا گیا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ فوری بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اسمبلی میں بل منظور کرواتے ہوئے پارلیمنٹ سے بھی منظوری حاصل کی جائے اور بلاتاخیر تحفظات دیئے جائیں۔ مقصود بن احمد ذاکر نے کہا کہ تاحال 20 ہزار سرکاری ملازمتوں کے لئے اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے اور اس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، جب کہ 12 فیصد تحفظات کی عدم فراہمی سے مسلمانوں کا نقصان یقینی ہے، لہذا 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے آرڈیننس جاری کیا جائے۔ اجلاس سے کل جماعتی قائدین، ایم آر جے اے سی قائدین، ظفر اللہ صدیقی، مظہر حسین شہید، زاہد حسین ہاشمی، جابر بن سعید، محمد حسن، رحمن صوفی، نورالحسن، صمد خان، عمران الحق، بشیر الدین، یوسف بن ناصر، ضمیر، مسعود اور شاہد نے بھی مخاطب کیا۔
نظام آباد…  ڈی سرینواس خصوصی مشیر برائے ریاست تلنگانہ نے اپنے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد پہلی بار شہر نظام آباد کادورہ کیا اور انہوں نے مدرسہ مظہر العلوم آٹو نگر نظام آباد پہنچ کر مولانا سید ولی اللہ قاسمی ناظم مدرسہ و صدر جمعیۃ العلماء نظام آباد سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر جمعیۃ العلماء ہند نظام آباد کی جانب سے ڈی سرینواس کی گلپوشی کے ساتھ ساتھ شال اُوڑھا کر تہنیت پیش کی گئی ۔ مولانا سید ولی اللہ قاسمی نے اس موقع پرروزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کے تحت اقلیتوں کو12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے ڈی سرینواس سے نمائندگی کی ۔ مولانا نے خصوصاً مسلمانوں کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کی جلد از جلد فراہمی پر زور دیا تاکہ مستقبل میں مختلف جائیدادوں پر بھرتی کا مسلمانوں کو فائدہ ہوسکے ۔ بصورت دیگر مسلمان ملازمتوں کے ان مواقع سے محروم ہوجائیں گے ۔ 15 ہزار سرکاری ملازمتوں پر بھرتی کا اعلان اگر بغیر 12 فیصد تحفظات کے ہو تو پھر یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ محمد نصیر الدین سابق رکن مجلس عاملہ تلنگانہ یونیورسٹی نے گفتگو کے دوران بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند مسلم طلبہ کیلئے اوورسیز اسکالرشپ کی قطعی منظوری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور اقلیتی طلبہ کو سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری کیلئے حکومت کی جانب سے اسٹیٹ میناریٹی اسٹڈی سرکل کا جلدسے جلد قیام عمل میں لانے کیلئے جناب ڈی سرینواس سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی تاکہ اقلیتی طلبہ مسابقتی امتحانات کیلئے بہتر طریقہ پر کوچنگ حاصل کرسکیں ۔ مدرسہ مظہر العلوم میں ڈی سرینواس کی آمد پر سکریٹری جمعیت العلماء نظام آباد عبدالقیوم شاکر قاسمی ، آرگنائزنگ سکریٹری مولانا سید سمیع اللہ ، مفتی منہاج الدین نے ان کا خیر مقدم کیا اور گلپوشی کی ۔ اس موقع پر ڈی سریندر قائد ٹی آرایس ، میر کاظم علی سابق کونسلر ، صابر علی سابق کونسلر ، حامد غانم سابق کونسلر ، عظمت اللہ خان ، محمد اسمعیل ، محمد صابر ، راحیل ، محمد مظہر ، عبدالجلیل و دیگر احباب موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT