Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد تحفظات کی تحریک مسلمانوں کے اتحاد کی علامت بن گئی

ف12 فیصد تحفظات کی تحریک مسلمانوں کے اتحاد کی علامت بن گئی

چیف منسٹر کا اقدام جرائت مندانہ ، مرکز کو راضی کرنے حکومت تلنگانہ کی حکمت عملی کا ہم انتظار کریں گے ، عامر علی خان
حیدرآباد /12 مئی ( سیاست نیوز ) کوئی تنظیم کوئی ادارہ یا کوئی شخصیت پختہ ارادوں ہمالیائی عزائم اور اچھی نیت کے ساتھ تحریک کا آغاز کرتی ہے تو قدرت بھی کامیابی و کامرانی ضرور عطا کرتی ہے ۔ روزنامہ سیاست نے ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو تعلیم و ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے جو تحریک شروع کی اللہ نے اس تحریک کو نہ صرف کامیاب بنایا بلکہ روزنامہ سیاست کی یہ تحریک تلنگانہ میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی ایک علامت بن گئی ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک میں اضلاع بالخصوص ورنگل کے مسلمانوں نے روزنامہ سیاست کا جو ساتھ دیا ہے اسے تاریخ کے سنہری الفاظ میں رقم کیا جائے گا ۔ سٹی پیالس فنکشن ہال ایل بی نگر ورنگل میں منعقدہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے ریاستی قانون ساز اسمبلی و کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات سے متعلق بل کی منظوری کے بعد بطور خاص مسلمانان ورنگل سے اظہار تشکر کیلئے ورنگل کا دورہ کیا تھا ۔ اپنے خطاب میں عامر علی خان نے کہا کہ سیاست کی 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک میں مسلمانان ورنگل نے جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے جس کو وہ سلام کرتے ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا مسلم تحفظات تحریک فی الوقت 50 فیصد کامیاب ہوئی ہے ۔ یہ بھی امید افزاء بات ہے ۔ عامر علی خان نے کہا کہ ایک ایسے وقت جبکہ سارے ملک میں زعفرانیت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ایسے نازک حالت میں اسمبلی و کونسل میں بلز پیش کیا جانا یقیناً چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا جرائت مندانہ اقدام ہے ۔ جس کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ حکومت تلنگانہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کو کیسے مناتی ہے ۔ ہم انتظار کریں گے نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ ملت کی فلاح و بہبود کے کاموں کی ہمیشہ سیاست نے تائید کی ہے ۔ عامر علی خان نے واضح کہا کہ وہ ٹی آر ایس کی تائید کرنے یا دوسری سیاسی جماعتوں کی مخالفت کرنے نہیں آئیں ہیں ۔ سوائے بی جے پی کے تمام جماعتوں نے مسلم تحفظات کی تائید کی ہے ۔ الیکشن کا مرحلہ ابھی کافی دور ہے ۔ جب سیاسی حکمت عملی طئے کرنے کا مرحلہ آئے گا جب تمام مسلمان ملکر مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں گے ۔ صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سید اکبر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹی آر ایس بالخصوص چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے ۔ مسلم تحفظات بل کی پیشکشی کے موقع پر اسمبلی و کونسل میں ان کی جانب سے کی گئی تقریر ان کی سنجیدگی کا ثبوت ہے ۔ روزنامہ سیاست کے نیوز ایڈیٹر عامر علی خان نے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں تحریک چلاتے ہوئے جہاں مسلمانوں میں شعور بیدار کیا ہے وہی حکومت پر بھی دباؤ بنایا ہے ۔ کے سی آر اقلیت نواز سیکولر قائد ہے ۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے انہوں نے جن فلاحی اسکیمات کو متعارف کرایا ہے اس کی مثال ملک بھر میں نہیں ملتی ۔ تلنگانہ کے 6 بورڈ و کارپوریشن پر مسلم صدور نشین نامزد کئے گئے ہیں ۔ قانون ساز کونسل میں 4 مسلم قائدین کو اراکین بناتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر بھی بنایا گیا ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے اسمبلی و کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر جس طرح ریاست تلنگانہ حاصل کرنے کیلئے ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل کی تھی اسی طرح پارلیمنٹ میں مسلم تحفظات بل کی منظوری حاصل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے تائید حاصل کریں گے ۔ صدر شانتی سنگم ورنگل ڈاکٹر انیس نے کہا کہ عامر علی خان کی تحریک رنگ لارہی ہے ۔ مسلم تحفظات کے معاملے میں صرف 50 فیصد کامیابی حاصل ہوئی مزید 50 فیصد کامیابی کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہے۔ حکومتیں مسلمانوں کیلئے سنجیدہ نہیں ہے بالخصوص مسلم تحفظات کے معاملے میں یہ رحجان دیکھا گیا ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت 1950 میں صدارتی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تحفظات کی فہرست سے مسلمانوں اور عیسائی طبقہ کو نکال دیا تھا ۔ اس وقت ہندوستان میں تعلیمی مجموعی شرح صرف 17 فیصد تھی جبکہ مسلمانوں کا تعلیمی تناسب 24 فیصد تھا ۔ 70 سال میں مسلمانوں کو تعلیمی معاشی اور سماجی طور پر مکمل پسماندہ کردیا گیا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تعلیمی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی تمام کمیشنوں نے مسلمانوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر کاکتیہ میڈیکل کالج ڈاکٹر رضا ملک نے کامیاب تحریک چلانے پر نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست سے اظہار تشکر کرتے ہوئے ریاست اور مرکز پر مزید دباؤ بنانے کیلئے ایک پریشد گروپ کو ضروری قرار دیتے ہوئے ریاستی و اضلاع سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ چند جماعتیں اور تنظیمیں مسلم تحفظات کو مذہب سے جوڑکر اس کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ جبکہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پرنہیں بلکہ تعلیمی معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات دئے گئے ہیں ۔ صدر ضلع ورنگل کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد ایوب نے کہا کہ اسمبلی و کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات بل کی منظوری کے بعد بی جے پی نے ورنگل کے 58 میونسپل ڈیویژنس میں مسلم تحفظات کے خلاف دستخطی مہم چلائی ہے ۔ انہوں نے مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے بی سی طبقات کے علاوہ سماج کے دوسرے طبقات کی تائید حاصل کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دینے کا مشورہ دیا ۔ صدر ٹی آر ایس اقلیتی سیل ضلع ورنگل محمد نعیم الدین نے کہا کہ مسلم تحفظات کے معاملے میں تلنگانہ کے مسلمانوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ چیف منسٹر کے سی آر عہد کے پابند ہے ۔ وعدے کو پورا کرنے کیلئے زمین آسمان کو ایک کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن سید ولی اللہ قادری نے 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے اسمبلی و کونسل میں بل کی منظوری کو قابل ستائش اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نے مسلم تحفظات میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ماہرین قانون و دستور کی اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا ا علان کیا ہے ۔ مگر 4 فیصد مسلم تحفظات کیلئے کانگریس نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کیلئے جن وکلاء کی خدمات سے استفادہ کیا تھا ٹی آر ایس حکومت بھی انہیں وکلاء کی خدمات سے استفادہ کر رہی ہے ۔ ڈائیٹ لکچرار نور الدین نے کہا کہ مسلم تحفظات کا معاملہ سنگین ہے اور حالت ہمارے خلاف ہے ۔ ایسے میں مقصد کی حصولی کیلئے منڈل اور اضلاع سطح پر جدوجہد جاری رکھتے ہوئے ریاستی سطح پر دانشوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا ۔ صدر مسلم ویلفیر ڈیولپمنٹ سوسائٹی ایل بی نگر ورنگل عبداللہ نے کہا کہ عامر علی خان کی تحریک حکومت پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ تحریک کے دوران گاؤں کے سرپنچ سے ریاست کے چیف منسٹر کو تک 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے تحریری نمائندگیاں کی گئی جلسے ریالیاں بھوک ہڑتال وغیرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ فرقہ پرست تنظیمیں کی مخالفت کا بھی انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے ورنگل کے مسلم نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات میں شرکت کی تیاری کرنے کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے ورنگل میں ایک کیرئیر گائیڈنس سنٹر شروع کرنے کی عامر علی خان سے اپیل کی ۔ ناظم جماعت اسلامی محبوب آباد خالد سعید نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں ساتھ رہنے والوں نے مسلم تحفظات کیلئے چیف منسٹر کی ذہنیت سازی میں جو رول ادا کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ روزنامہ سیاست نے بغیر کسی سمجھوتہ کے طویل تحریک چلاتے ہوئے اسمبلی و کونسل میں بل منظور کرنے کیلئے حکومت کو مجبور کردیا ۔ مسلسل کام سے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ تلگودیشم ضلع ورنگل کے نائب صدر بابا قادر علی نے کہا کہ اسمبلی و کونسل میں بل کی منظوری کے باوجود مسلمان اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں تاکہ ہماری آواز دہلی تک پوہنچے اور ہم سب کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوسکے ۔ قبائلی تنظیم کے قائد جئے سنگھ راتھوڑ نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے تمام شعبہ حیات بالخصوص بنکنگ شعبہ میں روزگار کی فراہمی کے معاملے میں منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو محروم کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر خالق تنویر ( ٹیچر ) ایم اے حکیم نوید نائب صدر اسٹیٹ اے آئی ایس ایف نائب صدر اسٹیٹ تنظیم بزم اساتذہ خواجہ عظیم الدین محمد یوسف علی کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے ۔

TOPPOPULARRECENT