Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد مسلم تحفظات مسئلہ ، چیف منسٹر کے دعوے کھوکھلے ثابت

ف12 فیصد مسلم تحفظات مسئلہ ، چیف منسٹر کے دعوے کھوکھلے ثابت

سدھیر کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں توسیع سے حکومت کے موقف کا اظہار،محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد۔ /18 مارچ، (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے مسلمانوں کو تحفظات سے متعلق سدھیر کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں تیسری توسیع کو مسلم تحفظات ٹالنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر انتخابات سے قبل اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی کئی مرتبہ اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ اسمبلی اور کونسل میں بھی جب کبھی مسلم تحفظات پر سوال کیا گیا چیف منسٹر نے کسی طرح مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی اور ایوان کو صرف خوش کن بیانات سے ٹالتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سدھیر کمیشن کی میعاد میں مزید چھ ماہ کی توسیع سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حکومت تحفظات کی جلد فراہمی کے حق میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخاب، جی ایچ ایم سی انتخابات اور پھر ورنگل اور کھمم کے بلدی انتخابات میں چیف منسٹر اور وزراء نے تحفظات کے حق میں کئی وعدے کئے لیکن انتخابات کے مرحلہ کی تکمیل کے ساتھ ہی اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی اُمید میں اقلیتوں نے ٹی آر ایس کی تائید کی تھی اور اب جبکہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے کو ہیں آج تک عمل آوری کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 4فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے بھی حکومت کو انہوں نے بارہا توجہ دلائی اور گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے موقع پر تلنگانہ کا کوئی ایڈوکیٹ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن کا قیام خود تحفظات کے مسئلہ کو ٹالنے کا پہلا قدم تھا اور ابتدائی چھ ماہ تک کمیشن کا دفتر اور اسے بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری میعاد میں کمیشن نے اضلاع کے دورے کئے اور محکمہ جات سے مسلمانوں کے بارے میں اعداد و شمار طلب کئے ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق صرف چند ایک محکمہ جات نے تفصیلات داخل کیں اور وہ بھی نامکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی میعاد میں توسیع کے ذریعہ حکومت نے مسلمانوں کو دھوکا دیا ہے اگر وہ چاہتے تو اسمبلی اور کونسل میں دیئے گئے تیقن کے مطابق صرف دو ماہ کی توسیع کرتے ہوئے رپورٹ حاصل کرتے۔ چیف منسٹر نے کونسل میں تیقن دیا تھا کہ اندرون دو ماہ اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہوئے تحفظات کے حق میں قرار داد منظور کی جائے گی اور اسے مرکزی حکومت کو پیش کرنے کیلئے کُل جماعتی وفد کے ساتھ روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اب مزید ٹی آر ایس اور کے سی آر کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔

TOPPOPULARRECENT