Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد مسلم تحفظات کا مسئلہ نظر انداز

ف12 فیصد مسلم تحفظات کا مسئلہ نظر انداز

اسمبلی و کونسل سے متعلق کمیٹی اجلاس پر پانی پھیر گیا ، شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے اسمبلی اور کونسل سے متعلق اسمبلی کمیٹی کے اجلاس کو مگرمچھ کے آنسو کے مترادف قرار دیا ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے علاوہ دوسرے اہم مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے کئی اہم ترین زیر طلب مسائل ہیں جس پر فوری توجہ دینا اور حکومت کو توجہ دلانا بے حد ضروری ہے ۔ مقننہ کمیٹی کے پہلے اجلاس سے مسلمانوں کو کافی امیدیں وابستہ تھیں تاہم کمیٹی نے اہم مسائل کو نظر انداز کیا اور سیر و تفریح کی منصوبہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات ٹی آر ایس کا وعدہ ہے ۔ تاہم اجلاس میں اس کو موضوع بحث بنانے کے بجائے صدر نشین کمیٹی مسٹر عامر شکیل نے سدھیر کمیشن کی ستمبر میں رپورٹ وصول ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سدھیر کمیشن سے تعاون نہ کرنے والے تمام محکمہ جات کو کلین چٹ دے دی ہے ۔ مسلمانوں کے سماجی معاشی حالت کا جائزہ لینے کے لیے سدھیر کمیشن تشکیل دیتے ہوئے 6 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی حکومت نے ہدایت دی ہے ۔ سدھیر کمیشن کی میعاد میں مزید دو مرتبہ توسیع دی گئی ہے ۔ باوجود اس کے سدھیر کمیشن نے مختلف محکمہ جات سے انہیں تعاون نہ ملنے کا دعویٰ کررہی ہے ۔ ایوان کی کمیٹی کے اجلاس میں سدھیر کمیشن سے تعاون نہ کرنے کی مختلف محکمہ جات سے وجوہات طلب کرنے کے بجائے وقت ضائع کیا جارہا ہے ۔ جس سے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں بہت بڑا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے اور اقلیتی بہبود سے متعلق ایوان کی کمیٹی حقائق کو چھپاتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ صدر نشین کمیٹی نے سدھیر کمیشن کو اعتماد لیے بغیر تمام محکمہ جات سے کمیشن کو مکمل تعاون ملنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ایوان کی کمیٹی کے اجلاس میں نہ ہی 12 فیصد مسلم تحفظات کا جائزہ لیا گیا اور نہ ہی بی سی کمیشن تشکیل دینے کی قرار داد منظور کرتے ہوئے حکومت کو سفارش کی گئی ، کمیٹی کے اجلاس میں اہم مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہائے گئے ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں مقدمہ کا آغاز ہوگیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے وکیل نے 29 فروری کو سپریم کورٹ میں منعقدہ سماعت میں شرکت نہیں کی ۔ نئے وقف بورڈ کی تشکیل اردو اکیڈیمی کی تقسیم وقف بورڈ کو قانونی موقف ، ناجائز قبضہ شدہ وقف اراضی کی دوبارہ وقف بورڈ کو واپسی محکمہ اقلیتی بہبود میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے علاوہ دوسرے مسائل کو نظر انداز کردیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT