Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ف12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملہ میں حکومت کا طرز عمل غیر دستوری

ف12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملہ میں حکومت کا طرز عمل غیر دستوری

کانگریس کے فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کے معاملے میں غیر دستوری عمل اختیار کرکے موجودہ 4 فیصد مسلم تحفظات کو سبوتاج کرنے کی کوشش کرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا ۔ ایک پریس ریلیز میں شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ مسلمان سب برداشت کرسکتے ہیں مگر جذباتی کھلواڑ برداشت نہیں کرسکتے ۔ وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کیا گیا تو ٹی آر ایس حکومت کو خمیازہ بھگتنا پڑیگا ۔ کے سی آر نے اقتدار ملنے پر اندرون 4 ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر ڈھائی سال گذرنے کے باوجود وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ سدھیر کمیشن سے بی سی کمیشن تک جو بھی اقدامات کئے گئے غیر قانونی و غیر دستوری ہیں ۔سدھیر کمیشن نے 12 اگست 2016 کو رپورٹ پیش کی ۔ بغیر ریٹائرڈ جسٹس کے سماجی جہد کار کی قیادت میں بی سی کمیشن تشکیل دی گئی 30 اضلاع کا دورہ کیے بغیر بی سی کمیشن حیدرآباد میں 5 دن کی سماعت کا اہتمام کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرنے تیاری کررہا ہے اور حکومت بی سی کمیشن کی سفارشات پر اسمبلی میں قرار داد منظور کرکے مرکز کو روانہ کرنے تیاری کررہی ہے تاکہ دستور کی 9 ویں شیڈول میں ترمیم کی جاسکے ۔ یہ کارروائی مسلمانوں کو فائدہ پہونچانے نہیں بلکہ نقصان پہونچانے کی سازش کا حصہ ہے ۔ حکومت کی معمولی غلطی سے بھی 4 فیصد مسلم تحفظات کو نقصان پہونچنے کے خطرات ہیں ۔ وزیراعظم مودی کے سی آر کی قرار داد کو بنیاد بناکر 4 فیصد مسلم تحفظات کو نقصان پہونچا سکتے ہیں لہذا چیف منسٹر مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے سے باز آجائیں ورنہ مسلمان ٹی آر ایس کو ہرگز معاف نہیں کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT