Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ف4 فیصد تحفظات کی فراہمی کانگریس حکومت کی دین

ف4 فیصد تحفظات کی فراہمی کانگریس حکومت کی دین

چیف منسٹر کے سی آر کی مرہون منت قرار دینے پر محمد محمود علی پر تنقید ، محمد خواجہ فخر الدین
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ذہنی توازن کھو چکے ہیں ۔ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے اور اس کا اعزاز محمد علی شبیر کو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 2004 کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد راج شیکھر ریڈی نے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کردیا ۔ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے میں قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل و سابق وزیر محمد علی شبیر نے جو رول ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ جس طرح تین لفظ والی بی جے پی تاریخ کو مسخ کررہی ہے ۔ اس طرح تین لفظ والی ٹی آر ایس بھی تاریخ کو مسخ کرنے کے معاملے میں بی جے پی کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔ کانگریس کے اقتدار سے محرومی کے باوجود محمد علی شبیر سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کو قائم رکھنے کے لیے قانونی جدوجہد کررہے ہیں جب کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کے لیے اپنے وکیل کو بھی روانہ نہیں کیا ہے ۔ ملک میں پہلی مرتبہ آندھرا پردیش میں محکمہ اقلیت بہبود 1993 میں قائم ہوا ۔ اس کے پہلے وزیر اقلیتی بہبود محمد علی شبیر نے 2006 میں پہلی مرتبہ اقلیتی امور وزارت قائم ہوئی جس کے پہلے مرکزی وزیر عبدالرحمن انتولے تھے ۔ محمد علی شبیر کی کاوشوں سے 1994 میں اس وقت کے چیف منسٹر وجئے بھاسکر ریڈی نے جی او 30 جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی شروعات کی اور پٹو سوامی کمیشن قائم کیا ۔ جب مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی بات ہورہی تھی اس وقت ٹی آر ایس کا وجود ہی نہیں تھا ۔ 1994 کے عام انتخابات کے بعد آنجہانی این ٹی آر چیف منسٹر بنے اس کے چند ماہ بعد چندرا بابو نائیڈو چیف منسٹر تھے ۔ 10 سال کے بعد جب کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا کیا گیا ۔ 2003 میں شملہ میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس میں محمد علی شبیر نے مسلم تحفظات کے مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا تھا ۔ جس کو سونیا گاندھی نے منظوری دی تھی ۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور 2014 میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ چیف منسٹر نے اقتدار حاصل کرنے کے پہلے 4 ماہ میں مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا اعلان کیا ۔ ڈھائی سال مکمل ہونے کے بعد بھی ٹی آر ایس حکومت نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا ۔ اس پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں سے معذرت خواہی کرنے کے بجائے ڈپٹی چیف منسٹر 4 فیصد مسلم تحفظات کا سہرا کے سی آر کے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں جو مضحکہ خیز ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT