Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ف85 فیصد مسلمان بے گھر اور معاشی پسماندگی کا شکار

ف85 فیصد مسلمان بے گھر اور معاشی پسماندگی کا شکار

کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹس کے باوجود حکومتیں خاموش، جناب عامر علی خان کا سب پلان و تحفظات پر خطاب

حیدرآباد۔21نومبر(سیاست نیوز)پچھلے ساٹھ سالوں میں85فیصد مسلمان بے گھر اور معاشی پسماندگی کا شکار ہوا ہے ۔ مرکزی او رریاستی حکومتوں کی جانب سے قائم کردہ مختلف کمیٹیوں او رکمیشنوں کی رپورٹوں کے باوجود بھی حکومتیں مسلمانوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے میںناکام رہی۔ موثر نمائندگی کا فقدا ن مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میںناکامی کی اصل وجہہ رہا۔ اب وقت ہے مسلمان متحد ہوکر اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے آگے آئے ۔ ورنہ مستقبل کی نسلیں موجودہ ذمہ داران کی کوتاہیوںکا شکار بنیں گی۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے ایس وی کیندرم میں ایم ایس آر اے سی کے زیر اہتمام منعقدہ مسلم سب پلان اور بارہ فیصد تحفظات کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ صدر میناریٹی سب پلان 12%ریزوریشن ایکشن کمیٹی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جناب عثمان شہید‘ جناب فاضل حسین پرویز ، جنا ب عبدالوحید ‘جناب ایم اے صدیقی مشیر اسٹیٹ کمیٹی ایم ایس آر ایس سی وسابق رکن ریاستی اقلیتی کمیشن‘ جناب محمد عباس اسٹیٹ کمیٹی رکن ایم ایس آر ایس سی‘محمد عباس رزاق لکچرر عثمانیہ یونیورسٹی ورکن ایم ایس آر اے سی کے علاوہ دیگر نے بھی اس جلسہ عام سے خطاب کیا۔ جناب عامر علی خان نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میںشامل ہونے کے بیس سال تک بھی علاقے تلنگانہ کے مسلمان خود کو حکمران سمجھتے تھے اورمسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں تناسب چالیس فیصد سے زیادہ تھا مگر منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے بیدخل کرنے کاکام کیاگیاجس کے نتیجے میںپوری ریاست آندھرا پردیش کے سرکاری محکموں میںمسلمانوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی گھٹ کر کم ہوگیا۔جناب عامر علی خان نے کہاکہ ہمیشہ حکومتیں اقلیتوں کے نام پر بجٹ کی اجرائی تو عمل میںلاتے ہیں اور مذکورہ بجٹ کی رقم کی اجرائی کے متعلق پروپگنڈہ بھی کرتی ہیںمگرسال کے اختتام تک بھی رقم کی آخری قسط کی اجرائی عمل میںنہیں آتی اور اقلیتوں کے نام پر جاری کردہ بجٹ کے متعلق کوئی مسلم قیادت سوال تک نہیں اٹھاتی۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ غیرمسلم قائدین بالخصوص دانشواروں کا تاثر ہے کہ مسلمان آٹو ‘ ٹھیلہ بنڈی اسکیمات تک محدود ہوکر خوش ہوجاتی ہیں۔ انہوںنے مزیدکہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد نئی ریاست میںمسلمانوں کی آبادی کا سرکاری طور پر تناسب بارہ فیصد ہوگیا ہے باوجود اسکے اقلیتوں کے نام پر گیارہ سو کروڑ کے بجٹ کی اجرائی عمل میںلائی جاتی ہے جس سے صرف مسلمانوں کو آٹوز او رٹھیلہ بنڈی فراہم کرتے ہوئے ان کی پسماندگی کا مذاق اڑانے کاکام کیاجاتا ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ سابق میںہم نے ایک تجویز پیش کی تھی جس میںمیناریٹی بجٹ کے تحت پانچ سو کروڑ روپئے وقف ڈیولپمنٹ اسکیم کے نام پر مختص کرتے ہوئے وقف اراضیات کو ترقی دینے اور وہاں پر مکانات کی تعمیر کراتے ہوئے مذکورہ مکانات کو بے گھر مسلمانوں میں کم کرایے پر دینے کی بات کہی گئی تاکہ مسلمانوں کو معیاری رہائش مل سکے جس کے ذریعہ ان کے اندر اعتماد بھی بحال ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ گھر ملنے کے بعد وہ اپنی آگے کی ترقی کے بارے میںغور وفکر کرسکتا ہے۔جنا ب عامر علی خان نے کہاکہ مسلمانوں کی لازوال ترقی کے لئے حکومتوں کو سنجیدگی کے ساتھ اقلیتی اسکول‘ کالجس اور انڈسٹری قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ معیاری تعلیم حاصل کرنے کے بعد مسلم نوجوان بہتر روزگار بھی حاصل کرسکیں۔جناب عامر علی خان نے کہاکہ ادارہ سیاست نے مسلم تحفظات کے ضمن میںتحریک کی شروعات عمل میںلائی جس کا مقصد حکومت تلنگانہ کو اپنا وعدہ یاددلاتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میںلانا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر حیدرآباد سے اس تحریک کی شروعات نہیںکی گئی کیونکہ اس کی پہلی وجہ شہر حیدرآباد سے تحریک کی شروعات سیاسی مقاصد کا تاثر دیتی تھی اس لئے تلنگانہ کے اضلاع سے مسلم تحفظات کی یہ تحریک شروع کی گئی جہاں پر معاشی پسماندگی کاشکار مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے جو وسائل سے بھی محروم ہیں۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ مسلمانوں کی اکثریت راشن شاپس کی قطاروں میںپائی جاتی ہے جبکہ برقعہ پوش خواتین قطاروں میںبیٹھ کر مساجدکے سامنے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانو ں کے ساتھ انصاف اور ماضی کے موقف کی بحالی کے لئے بارہ فیصد تحفظات کا نفاذ ضروری ہے انہوں نے بارہ فیصد تحفظات کے متعلق چلائی جارہی تحریک میںشامل ہونے اور عوام میںشعور بیداری مہم چلانے کی جلسہ عام میںموجود خواتین سے اپیل بھی کی ۔ صدر ایم ایس آر اے سی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جناب عثمان شہیدنے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بارہ فیصد تحفظات کے متعلق مسلم جماعتوں اور قائدین کی بے حسی کو افسوس ناک قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ آلیر انکاونٹر اور مسلم تحفظات کے متعلق حکومت تلنگانہ کی سرد مہری پر مسلم جماعتوں اور سیاسی قائدین کی خاموشی کو قابلِ افسوس قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ ادارہ سیاست کی جانب سے آلیرانکاونٹر اور مسلم تحفظات کے متعلق عوام کے اندر شعوربیداری نے تلنگانہ کے مسلم معاشرے کو خواب غفلت سے جگانے کاکام کیا ہے۔ جناب عثمان شہید نے کہاکہ ادارہ سیاست نے ملت مظلوم پر اس تحریکات کے ذریعہ جو احسان کیا ہے وہ قابلِ تقلید ہے۔انہوںنے کہاکہ مسلمانوں کے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر مسلم تحفظات کی تحریک کو پروان چڑھانے او رمصائب زدہ مسلمانو ں کو انصا ف دلانے میںسرگرم رول ادا کرنے کی تجویزپیش کی۔انہوں نے دستخطی مہم چلانے اور مذہبی اجلاس میںبارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے بعد مسلمانوں کو ہونے والے فوائد سے واقف کروانے کی بھی اپیل کی۔جنا ب عثمان شہید مسلم خواتین اور نوجوانوں کو مسلم تحفظات کی تحریکات میںبڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا بھی مشورہ دیا تاکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تابناک بنایا جاسکے۔جناب فاضل حسین پرویز نے اوبی سی کوٹے کے تحت پیشہ ور مسلمانوں کوحکومت کی فلاحی اسکیمات سے استفادہ کرنے کی طرف راغب کروانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہاکہ مہاراشٹرا میںپیشہ ور مسلمانوں کی اکثریت او بی سی کوٹہ کے تحت استفادہ کررہی ہے۔ انہوں نے ادارہ سیاست کی فلاحی اسکیمات بالخصوص بارہ فیصد تحفظات کے ضمن میںچلائی جانیوالی تحریک کی ستائش کرتے ہوئے تمام استفادہ کنندگان کی جانب سے ادارہ سیاست اور نیوزایڈیٹرعامر علی خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بارہ فیصد تحفظات کی تحریک کے ضمن میںسیاسی جماعت اور مذہبی تفرقے سے بالاتر ہوکر آگے آنے کی ضرورت پر زوردیا تاکہ اجتماعی طور پر مظلوم مسلمانوں کو مراعات او رتحفظات کی فراہمی کے لئے راہیں ہموار کی جاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT