Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / قائداعظم محمد علی جناح، شریک حیات اور سیاسی حالات پر کتاب کا رسم اجراء

قائداعظم محمد علی جناح، شریک حیات اور سیاسی حالات پر کتاب کا رسم اجراء

اردو ترجمہ عنقریب منظرعام پر، سماجی جہدکار مصنفہ محترمہ شیلاریڈی کا اظہارخیال

حیدرآباد ۔ 13 مئی (سیاست نیوز) سماجی جہدکار و مصنفہ محترمہ شیلا ریڈی کی مرتب کردہ کتاب “Mr and Mrs Jinnah : the Marriage that shookindia” کی رسم رونمائی آج پریس کلب، سوماجی گوڑہ میں انجام دی گئی جس کا اہتمام پریس کلب سوماجی گوڑہ نے کیا۔ اس تقریب میںپریس کلب کے ذمہ داروں کے علاوہ مسٹر ڈی امر سکریٹری جنرل انڈیا جرنلسٹ یونین اور محترمہ سی ونیجا (جرنلسٹ) اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ محترمہ شیلا ریڈی نے انگریزی مرتب کردہ کتاب جو قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی شریک حیات کے ضمن میں تفصیلی طور پر لکھی ہوئی جو پڑھنے والوں کیلئے معلومات کا خزینہ کے سواء کچھ نہیں۔ اس 460 صفحات پر مبنی کتاب میں محترمہ شیلاریڈی نے نہایت صاف ستھرے انداز سے محمد علی جناح کی سوانح حیات اور ان کی شادی اور انہیں جن سیاسی حالات سے گذرنا پڑا بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جارہا ہے جو چند ہی دنوں میں منظرعام پر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں انگریزوں کی غلامی اور اس کی سامراجیت سے یہ دونوں ممالک بڑے پریشان تھے تو اس طرح آنجہانی مہاتما گاندھی اور ادھر پاکستان میں محمد علی جناح نے جس طرح ان ممالک کو آگے بڑھانے میں کام کیا وہ قابل قدر ہے۔ اس لئے اس بات کی فکر لاحق ہوئی کہ قائداعظم محمد علی جناح کی سوانح حیات پر اپنے خیالات تحریر کروں۔ انہوں نے اس کتاب کے مرتب کرنے کیلئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کی تفصیلات سے اخباری نمائندوں کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ علحدہ پاکستان کیلئے محمد علی جناح کی کوشش بڑی ثمرآور ثابت ہوئی اور انہیں انضمام کشاکش و کشمکش کے دوران اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے شریک حیات کا ساتھ حاصل ہوا ہے جس کا میں نے اس کتاب میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا کہ جدوجہد آزادی میں گاندھی جی کے ساتھ کن کن شخصیات نے ساتھ دیا اور ادھر علحدہ پاکستان کے وقت محمد علی جناح کی جو کوشش اس کی سراہنا کی گئی۔ انہوں نے محکمہ آثار قدیمہ میں جب قائداعظم محمد علی جناح اور ان کی شریک حیات کے متعلق جو بھی مواد مہیا تھا اس کیلئے پہنچی تو محکمہ والوں نے انہیں جواب دیا کہ ایک عرصہ تک یہاں وہ تمام مواد موجود تھا لیکن اسے ایک ٹرک میں ڈال کر سبزی منڈی لے جایا گیا اور جب سبزی منڈی میں موجود آرکیالوجی دفتر پہنچی تو وہاں یہ مواد دھول میں اٹا ہوا انہیں ملا۔ لوہے کی الماریوں میں موجود اس اہم مواد جو دھول کی نظر ہوا ہے یہاں پاکستان کے محمد علی جناح کے متعلق بہت ساری کتابیں، ہینڈبلس اور فوٹوز انہیں ملے ہیں اور ایک ایسا البم بھی انہیں حاصل ہوا جس میں محمد علی جناح کے بچپن، جوانی اور سیاسی حالات اور شادی کے بندھن اور خود پاکستان میں ان کی سرگرمیاں جو چل رہی تھیں اس کے فوٹوز ملے۔ اس کے علاوہ اس محکمہ آثار قدیمہ اور سروجنی نائیڈو میموریل ٹرسٹ کے ذریعہ 100 صفحات پر مشتمل خطوط ہے جسے یکجا کیا گیا۔ محترمہ شیلا ریڈی نے محمد علی جناح کی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے سندھی گھرانے میں اپنا رشتہ کیا اور رشتہ ازواج سے منسلک ہوگئے۔ کراچی میں ان کی پیدائش اور وہ ایک دلچسپ اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے شخص تھے اور جب وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلینڈ گئے تو اس وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ وہ ٹھیٹ مذہبی گھرانے کی خاتون تھیں۔ جناح کے والدین ایک تاجر پیشہ شخص تھے اور قانون کی ڈگری جب حاصل کرلی تو 1940 میں اپنے آپ کو مکمل طور پر پاکستان اور ہندوستان کیلئے اپنا وقت دیا اور جب پاکستان علحدہ ہوا تو وہاں کی عوام نے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہیکہ آج پاکستان میں جگہ جگہ ان کے نام پر تعلیمی ادارے اور ہاسپٹل موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب میں جناح کی شادی کے متعلق جو چہ میگوئیاں ہورہی تھیں اور اعتراضات کرنے والے اعتراض کررہے ہیں۔ ان کا مسلسل جواب دیا گیا ہے۔ محمد علی جناح نے ایک خوبصورت اور پارسی گھرانے کی لڑکی سے شادی کی جبکہ ان کے والد نے بہت منع کیا کہ یہ سیاسی قائد کے ساتھ کس طرح تم بندھن میں بندھ جاؤگی والد کے منع کرنے کے باوجود محترمہ نے ان ہی سے شادی رچائی، جس کیلئے انہیں اپنے والد کے گھر سے نکلنا پڑا اور یہاں تک شادی کا یہ مقدمہ عدالت میں آیا تو جج نے کہا کہ کیا تم محمد علی جناح سے شادی کرنے کی خواہاں ہوتو انہوں نے باآواز بلند کہا کہ میں بخوشی راضی ہوں اور محمد علی جناح سے ہی شادی کروں گی۔ آج نئی نسل کو محمد علی جناح او ران کی شریک حیات کے متعلق اور اس کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد جو رفاعی اور فلاحی امور انجام دیئے گئے ان سے واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT