Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / قائد اپوزیشن تلنگانہ کے جاناریڈی کی کارکردگی پر ناراضگی

قائد اپوزیشن تلنگانہ کے جاناریڈی کی کارکردگی پر ناراضگی

کانگریس ہائی کمان سے شکایت، برسراقتدار ٹی آر ایس حکومت کیساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 19 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی قائد اپوزیشن مسٹر کے جاناریڈی کی کارکردگی سے ناراض کانگرسی ہائی کمان سے ان کی شکایت بھی کی ہے۔ ان پر ٹی آر ایس حکومت سے نرم رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ پہلے نوجوان ارکان مسٹر کے جاناریڈی پر اس طرح کے الزامات عائد کرتے تھے۔ اب اس فہرست میں چند سینئر ارکان اسمبلی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ مسٹر کے جاناریڈی حکومت کے خلاف ایوان میں آواز اٹھانے کے معاملے میں اپنے ساتھی ارکان اسمبلی کو یہ کہتے آرہے ہیں کہ نئی ریاست ہے اور نئی حکومت ہے لہٰذا حکومت کو سنبھلنے کیلئے تھوڑا وقت دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم کانگریس کے ارکان اسمبلی کا کہنا ہیکہ ٹی آر ایس حکومت کیلئے ہنی مون کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کے دیڑھ سال مکمل ہوچکے ہیں اور حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ حال ہی میں منعقدہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں جب آبپاشی پراجکٹس کے ڈیزائن کی تبدیلی کے مسئلہ ایوان میں موضوع بحث بنا تو مسٹر کے جاناریڈی نے حکومت کے فیصلہ کی تائید کی ہے، جس پر کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی مسٹر ٹی جیون ریڈی نے سخت اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ کانگریس کے ارکان اسمبلی کو شکایت ہیکہ مسٹر کے جاناریڈی انہیں ایوان میں سخت رویہ اپنانے سے روک رہے ہیں نہ خود مسائل کو زوردار انداز میں پیش کررہے ہیں اور نہ ہی ارکان اسمبلی کو پیش کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ مسائل پر پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی کو اپنی اپنی نشستوں پر واپس طلب کر رہے ہیں۔ چند کانگریس کے ارکان اسمبلی نے کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے ملک کے تمام اپوزیشن قائدین کو دہلی طلب کرتے ہوئے مختلف ریاستوں کے عوامی مسائل اور کانگریس کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔ ریاست تلنگانہ سے قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جاناریڈی قائد اپوزیشن کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے شرکت کی تھی۔ راہول گاندھی کی جانب سے ہدایت ملنے کے باوجود مسٹر کے جاناریڈی کے انداز کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جس کی وہ کانگریس ہائی کمان سے شکایت کرچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT